اتوار , 11 اپریل 2021

اسرائیل کو تسلیم کرنا اسلام اور مسلمانوں سے غدّاری

(تحریر: عالیہ شمسی)

اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ مسئلہ فلسطین دنیا بھر کے مسلمانوں کا مسئلہ ہے، اسی لئے جب سے اسرائیل نے غاصبانہ طور پر فلسطینی مسلمانوں کو بڑی تعداد میں ان کے وطن سے بے دخل کیا ہے، تب سے مسلمان ممالک نے ناصرف اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا بلکہ ہر فورم پر اسرائیلی مظالم کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ اس حوالے سے وطن عزیز کو دیکھا جائے تو رسمی طور پر پاکستانی پاسپورٹ پر یہ صراحت کی گئی ہے کہ کوئی بھی پاکستانی اسرائیل نہیں جا سکتا۔ اسی طرح قیام پاکستان کے بعد حکمرانوں نے اس حوالے سے پاکستان کے روایتی موقف کو دنیا کے سامنے رکھا ہے، لیکن پہلی دفعہ ڈکٹیٹر پرویز مشرف نے اپنی ڈکٹیٹرشپ میں اس بات کی کوشش کی کہ اسرائیل کو تسلیم کر لیا جائے، لیکن جب اس کو یہ معلوم ہوا کہ پاکستانی غیرت مند قوم کبھی بھی اس ظلم پر خاموش نہیں بیٹھے گی تو مشرف اس اقدام سے پیچھے ہٹ گیا۔ اس کے بعد کسی کو یہ جرأت نہیں ہوئی کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حوالے سے کوئی ایک بیان بھی دے۔

لیکن پوری پاکستانی قوم کو امیدوں کے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانے والی سیاسی جماعت پی ٹی آئی نے ناصرف اس حوالے سے بات کی بلکہ حال ہی میں اس حوالے سے عملی اقدامات بھی اٹھائے ہیں، جو فلسطینی مسلمانوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف ہیں۔ پی ٹی آئی کی رکن قومی اسمبلی عاصمہ حدید نے پارلیمنٹ میں رسمی طور پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حوالے سے بات کی۔ جب ردعمل سامنے آیا تو تحریک انصاف کی طرف سے کہا گیا کہ یہ پارٹی کی پالیسی نہیں ہے بلکہ عاصمہ حدید کا ذاتی بیان تھا، لیکن بعد کے اقدامات سے یہ ثابت ہوچکا ہے کہ پی ٹی آئی نے ٹیسٹ کیس کے طور پر خود خاتون رکن اسمبلی سے بیان دلوایا، تاکہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حوالے سے ممکنہ ردعمل کی شدت کا اندازہ کیا جاسکے، لیکن بڑے افسوس کی بات ہے کہ پی ٹی آئی کی رکن اسمبلی کے اس بیان کے بعد ردعمل تو سامنے آیا لیکن یہ ردعمل کافی نہ تھا۔ اسی وجہ سے پی ٹی آئی نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے ایجنڈے پر کام شروع کر دیا، جس کے اثرات پوری پاکستانی قوم دیکھ رہی ہے۔

پاکستان میں خفیہ طور پر اسرائیلی طیارے کا آنا اس حقیقت کی غمازی کرتا ہے کہ موجودہ حکومت نے خفیہ طور پر اسرائِیل سے میل مراسم جاری رکھے ہوئے ہیں اور وہ کام جو بدترین ڈکٹیٹر مشرف نہ کرسکا، وہ کام پی ٹی آئی کرنے جا رہی ہے بلکہ کرچکی ہے۔ خفیہ طور پر اسرائیلی طیارہ پاکستان آیا تو میڈیا پر خبر آنے کے بعد بڑے پراسرار طریقے سے اس خبر کو گول کر دیا گیا، لیکن آگاہ لوگ یہ جانتے تھے کہ یہ سب کچھ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ہو رہا ہے۔ اسی لئے حتمی اقدام کے طور پر موجودہ حکومت نے پاکستانی شہریوں کو اسرائیل جانے کی اجازت دے دی ہے اور ابتدائی طور پر ٹیسٹ کیس کے طور پر پاکستانی شہری فشل خالد کے حوالے سے ایک فرضی کہانی گھڑی گئی ہے، تاکہ ممکنہ ردعمل سے بچا جا سکے، اس کے بعد تمام پاکستانیوں کو رسمی طور پر اسرائیل جانے کی اجازت دے دی جائے گی۔

31 سالہ فشل خالد کا پاکستانی پاسپورٹ پر اسرائیل کا سفر یہ بات ثابت کر رہا ہے کہ پاکستان خفیہ طور پر اسرائیل سے ناصرف مراسم بڑھا چکا ہے بلکہ اسے غیر رسمی طور پر تسلیم بھی کرچکا ہے۔ بدقسمتی ہے کہ پاکستان نے ایک ایسے ملک کو تسلیم کیا ہے، جس کی بنیادوں میں مسلمانوں کا خون شامل ہے۔ وہ اسرائیل جس نے اب تک فلسطینی مسلمانوں پر وہ وہ مظالم ڈھائے ہیں کہ جن کی مثال نہیں ملتی۔ پی ٹی آئی حکومت نے اسرائیل کو تسلیم کرکے جتنا بڑا ظلم کیا ہے، اس پر اسے ذلت و رسوائی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ اسرائیل کے ساتھ راہ و رسم بڑھا کر پی ٹی آئی حکومت نے خود کو تاریخ کے کوڑا دان میں ڈالنے کا سامان کر لیا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …