اتوار , 11 اپریل 2021

ایران کا اسلامی انقلاب اور طاقت کے دائرے سے امریکہ کا اخراج

(تحریر: ڈاکٹر سعداللہ زارعی)

جب 1979ء میں ایران میں دینی انقلاب کامیابی سے ہمکنار ہوا تو اکثر ماہرین نے کہا ہے دنیا بنیادی تبدیلی کا شکار ہو چکی ہے اور دانشور حضرات نے بھی اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب دنیا سابق نظام کے تحت نہیں چلے گی۔ یہ اسلامی انقلاب ایک ایسے ملک میں رونما ہوا تھا جو مغرب کے بقول تیسری دنیا کے ممالک میں شمار ہوتا تھا اور اس کا انحصار عالمی طاقتوں پر تھا۔ یہ انقلاب ایسے حالات میں رونما ہوا جب مغربی اور مشرقی طاقتیں ہر قسم کے "غیر مطلوبہ واقعات” کو کنٹرول اور ختم کرنے کا وسیع تجربہ رکھتی تھیں۔ ان طاقتوں نے اپنی پوری طاقت اور توانائیاں صرف کر دیں لیکن "ایران کے اس عظیم دینی واقعے” کو کنٹرول کرنے میں عاجز اور ناتوان رہے۔ ہیملٹن جورڈن اپنی کتاب "1979ء کا بحران” میں سابق امریکی صدر جمی کارٹر کے بقول لکھتا ہے: "ہم ایک بہت بڑی مشکل سے روبرو ہو چکے ہیں اور اسے کنٹرول کرنے کیلئے ہمارے پاس زیادہ وسائل موجود نہیں۔” جب زمانے کا امریکی صدر تہران میں امریکی سفارتکاروں کو یرغمال بنانے کے واقعے میں امام خمینی رح کو خط لکھنے پر مجبور ہو گیا اور ایک انجیل اور کیک کے ہمراہ امریکی وفد تہران روانہ کیا جسے انقلاب اسلامی ایران کے بانی نے مسترد کر دیا تو اسے معلوم ہوا کہ حالات نئے بھی ہیں اور بے سابقہ بھی ہیں۔

اگرچہ ایران میں رونما ہونے والے اسلامی انقلاب نے اندرونی اور قومی سطح پر بھی انتہائی مطلوب اور پسندیدہ اہداف پیش کئے اور "عدالت” اور "آزادی” پر انقلاب کے دو اہم رکن کے طور پر خاص توجہ دی لیکن اسے ابتدا سے ہی ایک "عالمی انقلاب” قرار دیا گیا۔ امریکہ اور دیگر طاقتوں کی اس انقلاب سے دشمنی کی حقیقی وجہ اسی عالمی پہلو کی جانب پلٹتی ہے۔ یہ انقلاب نہ صرف "غیر وابستہ ممالک کی کانفرنس” کی طرح سکیورٹی میدان میں مختلف بلاکس اور عالمی طاقتوں کی پیروی کے خلاف تھا بلکہ عالمی سطح پر موجود "سیاسی مساواتوں” اور "تعلقات” میں بنیادی تبدیلی کو اپنا اصلی ہدف قرار دیتا تھا۔ امریکہ کی مشکل کا آغاز ٹھیک اسی نکتے سے ہوتا ہے۔ امریکہ کیلئے ایک قومی انقلاب یا دوسرے الفاظ میں "غیر وابستگی” کو کنٹرول کرنا کوئی مشکل کام نہیں تھا کیونکہ وہ یہ کام 1974ء میں چلی میں انجام دے چکا تھا جہاں غیر وابستہ قومی انقلاب کے صرف تین برس بعد ہی امریکہ انقلابی حکومت کو سرنگون کرنے میں کامیاب رہا تھا۔ اسی طرح استعماری طاقتوں کو جمال عبدالناصر، ٹیٹو، نہرو اور سوکارنو جیسی دسیوں دیگر قومیت پر مبنی انقلابی تحریکوں کو کنٹرول کرنے کا تجربہ بھی حاصل ہو چکا تھا۔ امریکہ نے بہت آسانی سے جمال عبدالناصر، نہرو اور سوکارنو کی جگہ ایسے مطلوبہ حکمران اقتدار میں لائے جو دسیوں سال تک اس کی پالیسیوں کے مطابق عمل کرتے رہے۔

لیکن ایران میں کامیاب ہونے والے اسلامی انقلاب کی کہانی مختلف تھی۔ یہاں امریکہ کو ایک ایسے انقلاب سے سامنا تھا جس کا موقف عالمی سطح کا تھا اور دنیا بھر کے مستضعفین اس کی آواز پر لبیک کہنے کو تیار تھے لہذا اس انقلاب کو کنٹرول کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا۔ اس انقلاب نے "اسلام” کا پرچم اٹھا رکھا تھا اور "امریکہ اور صہیونی رژیم کے خلاف جدوجہد” کو اپنا ماٹو بنا رکھا تھا اور "مستکبرین پر مستضعفین کے غلبے” کو اپنا نعرہ قرار دے رکھا تھا۔ لہذا اس انقلاب نے ایسے کروڑوں انسانوں کا دل موہ لیا جو کسی زمانے میں نیشنلزم، سوشلزم اور لبرلزم سے دل لگا کر ناامید ہو کر واپس لوٹ چکے تھے۔ یہ انسان تیزی سے انقلاب اسلامی کی طرف آنا شروع ہو گئے۔ یوں انقلاب اسلامی ایران نے اپنی کامیابی کے فوراً بعد ہی اپنے زمانے کی سب سے بڑی سپر پاور یعنی امریکہ کو شدید چیلنجز کا شکار کر ڈالا۔ آج امریکہ کی طاقت کے زوال اور اس کی سپر پاور ہونے کی مدت کے اختتام کے بارے میں بہت کچھ کہا جا رہا ہے لیکن بصیرت کے حامل افراد انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی کے بعد ہی اس حقیقت کو درک کر چکے تھے اور امریکہ کے سپر پاور ہونے کے اختتام کا اعلان کر چکے تھے۔

پال کینیڈی نے 1988ء میں اپنی شائع ہونے والی کتاب "سپر پاورز کا عروج و زوال” میں لکھا: "امریکہ اپنی طاقت کے تدریجی زوال کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور طویل مدت میں اس کا خاتمہ ہو جائے گا۔” درحقیقت امریکہ یا ہر سپر پاور کی طاقت کا سرچشمہ چار بنیادی ارکان پر استوار ہوتا ہے:
1۔ اخلاقی رکن: اس رکن کے باعث کوئی بھی سپر پاور دیگر طاقتوں کی اخلاقی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب رہتی ہے۔
2۔ بحران حل کرنے کی صلاحیت: علاقائی اور عالمی سطح پر موجود بحرانوں کو اچھے طریقے سے حل کرنے کی قابلیت اور صلاحیت وہ رکن ہے جس سے کوئی سپر پاور علاقائی اور عالمی سطح پر اثرورسوخ کی حامل ہو جاتی ہے۔
3۔ اتحاد سازی کی صلاحیت: یہ رکن ایک سپر پاور کو دیگر طاقتوں کو ساتھ ملا کر مطلوبہ اہداف کے حصول کے قابل بناتی ہے۔
4۔ حریف کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت: اس رکن کے ذریعے ایک سپر پاور اپنے مدمقابل طاقتوں کو کنٹرول کرنے کے قابل ہو جاتی ہے۔ البتہ یہ چاروں ارکان ایکدوسرے سے بھی مربوط ہیں۔

اب امریکہ کی اخلاقی طاقت یعنی دوسروں کو قانع کرنے کی صلاحیت کا جائزہ لیتے ہیں۔ امریکیوں نے اخلاقی طاقت کے پیش نظر ہی 1948ء میں اقوام متحدہ کی بنیاد رکھی اور اس کا مستقل ٹھکانہ اپنی سرزمین میں قرار دیا تھا۔ امریکی سیاست دانوں نے بھرپور مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دسیوں کنونشنز اور معاہدے تشکیل دیے اور دیگر ممالک کے دستخط کروا کر ان کنونشنز اور معاہدوں کے ذریعے امریکی اقدار کو "گلوبلائز” کرنے کی کوشش کی۔ ایران میں کامیاب ہونے والے اسلامی انقلاب نے دین کی مدد سے امریکہ کے فلسفہ سیاست اور فلسفہ حکومت کو باطل ثابت کر دیا جس کی بنیاد پر امریکہ کی اخلاقی طاقت استوار تھی۔ فلسطین کو امریکہ کے لاگو کردہ بین الاقوامی قوانین کے ظالمانہ ہونے کی علامت میں تبدیل کر دینا، امریکہ کی اخلاقی طاقت کو نابود کرنے کی ایک مثال ہے۔ دوسری طرف ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے کچھ ماہ بعد انقلابی جوانوں نے تہران میں موجود امریکی سفارتخانے پر قبضہ کر کے تمام سفارتکاروں کو یرغمال بنا لیا۔ ان سفارتخانوں پر ایران میں جاسوسی اور انقلابی نظام کو سرنگون کرنے کیلئے سازش تیار کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

تہران میں امریکی سفارتکاروں کی یرغمالی کا مسئلہ امریکہ کیلئے ایک کڑا امتحان ثابت ہو گیا۔ یہاں سے امریکہ کی طاقت کا دوسرا رکن یعنی عالمی سطح پر تنازعات حل کرنے کی صلاحیت پر سوال اٹھنے شروع ہو گئے۔ امریکہ نے کئی طریقوں سے یہ مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی جن میں سفارتی اور حتی فوج طریقہ کار بھی شامل تھا لیکن اسے مکمل ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ یہاں سے امریکہ کی طاقت کے دوسرے رکن کا زوال شروع ہوا جس کا تسلسل امریکہ کے زیر کنٹرول علاقے یعنی مغربی ایشیا (مشرق وسطی) میں ظاہر ہونا شروع ہو گیا۔ امریکہ روز بروز مغربی ایشیا کے تنازعات حل کرنے میں کمزور ہوتا چلا گیا۔ امریکی تحقیقاتی ادارے "گلپ” نے حال ہی میں دنیا کے 134 ممالک میں وسیع پیمانے پر سروے انجام دیا ہے۔ اس سروے کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا کی صرف 30 فیصد آبادی کا عقیدہ یہ ہے کہ امریکہ عالمی سطح پر لیڈر کا کردار ادا کر رہا ہے۔ امریکہ ایک طرف دنیا بھر میں یکطرفہ اقدامات انجام دینے کے عنوان سے معروف ہو چکا ہے جبکہ دوسری طرف عالمی سطح پر درپیش مسائل کے حل کیلئے "اتحاد سازی” کا راستہ اختیار کرتا ہے۔ یہ امر بذات خود ان مسائلو کو حل کرنے میں امریکہ کی جانب سے اپنی ناتوانی کے اعتراف کے برابر ہے۔

سپر پاور کی حیثیت سے طاقت کا تیسرا رکن اتحاد سازی کی صلاحیت ہے۔ اس میدان میں بھی ہم امریکہ کی کمزوری کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ آج یہ حقیقت سب پر عیاں ہو چکی ہے کہ امریکہ ایک موثر اتحاد کی تشکیل اور اسے اچھی طرح بروئے کار لانے کی صلاحیت کھو چکا ہے۔ اس بارے میں ناروے کا مشہور ماہر سماجیات جوہن گالٹنگ (Johan Galtung) کہتے ہیں: "اس وقت صرف شمالی یورپ کے ممالک جنگوں میں امریکہ کا ساتھ دے رہا ہیں اور یہ سلسلہ بھی صرف ایک دو سال تک جاری رہے گا۔” عوامی انقلابات کو کنٹرول کرنے میں بھی امریکہ کی طاقت زوال پذیر ہو چکی ہے۔ لہذا اب امریکہ نے اپنی فوجی طاقت کے ساتھ ساتھ میڈیا اور پروپیگنڈے کے ذریعے نرم طاقت کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ امریکہ مختلف ممالک میں اپنے سیاسی مخالفین کو شکست دینے کیلئے اسی ملک کے عوام کو سڑکوں پر لانے کی پالیسی اپنانے پر مجبور ہو گیا ہے۔ اس کی ایک واضح مثال حال ہی میں امریکہ اور مغربی ممالک کی جانب سے وینزویلا میں امریکہ مخالف صدر نکولاس مادورو کے خلاف مغرب نواز پارلیمنٹ کے اسپیکر خوان گوایدو کی جانب سے شروع کی گئی تحریک کی حمایت ہے۔

امریکن انٹرپرائز نامی تحقیقاتی ادارے نے 36 صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کے حریف ممالک جن میں چین، روس اور ایران شامل ہیں اپنی فوجی صلاحیتیں بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ اس میدان میں امریکہ کا مقابلہ کر سکیں۔ اسی طرح کچھ عرصہ پہلے امریکی ایئرفورس کے کمانڈر مارک ولش نے فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا: "امریکہ اور اس کے دشمن ممالک کے درمیان فوجی میدان میں فاصلہ ختم ہوتا جا رہا ہے۔” اس بنیاد پر ایک جامع تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ گذشتہ چالیس برس کے دوران امریکہ اپنی طاقت برقرار رکھنے میں شدید مشکلات کا شکار ہو چکا ہے۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ امریکی حکام ابتدا سے ہی جانتے تھے کہ انہیں انتہائی مشکل ہدف کا سامنا ہے۔ ان کے ذہن میں 14 ویں صدی سے 20 ویں صدی عیسوی تک دنیا کے اکثر حصوں پر قابض تین بڑی مسلمان سلطنتوں کا اقتدار اور اثرورسوخ محفوظ تھا۔ عثمانیہ سلطنت، صفویہ سلطنت اور مغلیہ سلطنت۔ ان تین مسلمان سلطنتوں نے 600 سال خاص طور پر 16 ویں سے 19 ویں صدی عیسوی تک یورپی استعماری طاقتوں کو شدید چیلنجز سے روبرو کیا تھا۔

ان تین مسلمان سلطنتوں کے اکثر مواقع پر اندرونی تعلقات نے مغرب کو وحشت زدہ کر دیا تھا جبکہ ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے وقت عثمانیہ سلطنت کے زوال کو تقریباً 50 برس اور مغلیہ سلطنت کے زوال کو تقریباً 120 برس گزر چکے تھے جو زیادہ طویل عرصہ شمار نہیں ہوتا۔ یہ امر امریکی حکام کے ذہن میں دو چیزوں کی یاددہانی کرواتا تھا۔ ایک یہ کہ برصغیر پاک و ہند سے لے کر مغربی افریقہ تک پوری اسلامی دنیا میں دوبارہ بیداری کی لہر پیدا ہونے کا امکان موجود ہے اور دوسرا یہ کہ عالم اسلام کے مختلف حصوں میں آپس میں تعاون کا امکان پایا جاتا ہے۔ لہذا امریکی تھنک ٹینکس اسلامی کی نشاۃ ثانیہ کی خبریں دے رہے تھے اور معروف امریکی اسٹریٹجسٹ "ہنٹنگٹن” نے اسی بنیاد پر کتاب “The Clash of Civilizations” لکھی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایران کے اسلامی انقلاب میں عثمانیہ، صفویہ اور مغلیہ سلطنتوں میں موجود طاقت کے عناصر سے دو زیادہ عنصر پائے جاتے ہیں جن میں سے ایک "روحانیت” کا عنصر اور دوسرا "دنیا کی مدیریت کیلئے نئی نگاہ اور منصوبے کا حامل ہونا” ہے۔ یعنی اسلامی جمہوریہ ایران محض ایک مادی طاقت اور جدید فوجی ہتھیاروں سے لیس ملک نہیں ہے اور اگر ایسا ہوتا تو مغربی طاقتوں کیلئے اس پر غلبہ پانا کوئی مشکل کام نہیں تھا۔

روحانیت کے عنصر نے دو اہم کردار ادا کئے ہیں۔ ایک یہ کہ مغربی تہذیب و تمدن کے مادی فلسفے پر کڑی تنقید کی ہے۔ دوسرے الفاظ میں خود مغربی دانشور کہنے لگے: "ایران کے (اسلامی) انقلاب نے انسان سے چاہا کہ وہ اپنے مقام (خدا کی بندگی) پر واپس چلا جائے اور خدا کو انسان پر حاکمیت کا مقام دینے کی کوشش کی۔” روحانیت نے دوسرا کردار یہ ادا کیا کہ مغرب کے مقابلے میں ایک ایسی عظیم طاقت میدان میں لے آیا جو خود مغرب کیلئے بھی مجہول تھی۔ ایران میں رونما ہونے والے اسلامی انقلاب کے روحانی فلسفے نے بہت جلد مشرقی سپر پاور کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا اور جیسا کہ امام خمینی رح نے میخائل گورباچوف کے نام اپنے خط میں لکھا تھا مغرب کو بھی کسی اور انداز میں چیلنج کیا۔ اکثر ماہرین سابق سوویت یونین کے زوال کو اس سپر پاور پر مغربی دباو کا نتیجہ قرار دیتے ہیں یا اندرونی سیاسی اور اقتصادی انتشار کو زوال کی اصلی وجہ سمجھتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ سابق سوویت یونین اندر یا باہر سے بنیادی مادی مسائل کا شکار نہیں تھا اور سب کچھ مطلوب حالت میں تھا۔ ایک روحانی انقلاب کی کامیابی اور اس کے عدالت پسندانہ اور حریب پسندانہ اہداف نے مارکس ازم کا اہم ترین فلسفہ وجودی ختم کرتے ہوئے اس سے تشخص چھین لیا۔ لہذا سابق سوویت یونین کے زوال کی سب سے پہلی وجہ دین کا معاشرے میں واپس لوٹ آنا تھا۔

یہی روحانیت کا عنصر ہے جو آج ایک طرف روس میں کمیونزم کی واپسی اور دوسری طرف کمیونزم کی جگہ مغربی مکتب فکر کی ترویج کی راہ میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ اگر سابق سوویت یونین کے زوال کی اصل وجہ مغرب سے مقابلہ اور اقتصادی مشکلات ہوتیں تو اب اس سپر پاور پر مغربی افکار کا قبضہ ہوتا۔ اگر ہم بین الاقوامی تعلقات اور سیاسی مساواتوں میں تبدیلی کو ایران میں کامیاب ہونے والے اسلامی انقلاب کے اہم ترین اہداف قرار دیں تو یہ کہنا درست ہو گا کہ اگرچہ اس وقت امریکہ نام کی طاقت اور اس کی طاقت تشکیل دینے والے عناصر جیسے پیسہ، کلاس اور خرافاتی روایات موجود ہیں لیکن انقلاب اسلامی ایران ایک طرف اس کی روایات کو چیلنج کرنے اور دنیا والوں کی نظروں سے گرانے میں کامیاب ہوا ہے جبکہ دوسری طرف دنیا کے وسیع اور حساس علاقے کو امریکہ اور اس کی اتحادی طاقتوں اور مجموعی طور پر مغربی طاقتوں کے تسلط سے آزاد کروانے میں بھی کامیابی سے ہمکنار ہوا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …