جمعرات , 22 اپریل 2021

سعودی ایٹمی میزائل پروگرام میں توسیع کا فیصلہ

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک)سعودی عرب اور امریکہ کے باہمی تعلقات کے متزلزل ہونے کے پیش نظر سعودی عرب نے اپنے ایٹمی میزائل پروگرام کو توسیع دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ادھر واشنگٹن پوسٹ اور نیوزویک نے اپنی رپورٹوں میں واضح کیا ہے کہ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے جنوب مغرب میں واقع علاقہ الوطح میں سعودی عرب میزائل بنانے والی فیکٹری تیار کررہا ہے۔

ایٹمی ہتھیاروں کے ماہر جیفری لوئیز کا کہنا ہے کہ اس بات کے قوی امکان ہیں کہ سعودی عرب اس علاقہ میں ایسے میزائل تیار کرنے کی کوشش کررہا ہے جن پرایٹمی ہتھیارنصب کئے جاسکتے ہوں۔ واشنگٹن پوسٹ کا کہنا ہے کہ سیٹلائٹ سے لی گئی تصاویر کے مطابق سعودی عرب ایسی فیکٹری تیار کررہا ہے جہاں بیلسٹک میزائل تیار کئے جائیں گے۔

ایٹمی ماہر جیفری لوئیز کے مطابق سعودی عرب نے ایسےبیلسٹک میزائل بنانے کا فیصلہ کیا ہے جو ایٹمی ہتھیار لے جاسکتے ہیں۔ذرائع کے مطابق سعودی عرب 1980 سے ایسے میزائل حاصل کرنے کی تلاش و کوشش کررہا ہے جن پر ایٹمی ہتھیار نصب کئے جاسکتے ہوں۔ اور اس سلسلے میں سعودی عرب ، چين اور پاکستان کے درمیان قریبی تال میل جاری ہے۔

اس سے قبل سعودی عرب کے ولیعہد محمد بن سلمان اور سعودی عرب کے سابق وزير خارجہ عادل الجبیر بارہا کہہ چکے ہیں کہ اگر ایران ایٹمی ہتھیار بنائے گا تو سعودی عرب بھی ایٹمی ہتھیار تیار کرےگا۔ ذرائع کے مطابق سعودی عرب ایران کو بہانہ بنا کر ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کی تلاش و کوشش جاری رکھے ہوئے ہے اور سعودی عرب کی تمام ایٹمی سرگرمیوں پر امریکہ نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …