جمعرات , 15 اپریل 2021

مودی کا دورہ کشمیر :حریت قیادت کو نظر بند کر دیا گیا

سری نگر(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم نریندر مودی بھارت کے زیر تسلط کشمیر کے دورے پر سری نگر پہنچ گئے، جہاں انتظامیہ نے حریت قیادت کو نظر بند کردیا جبکہ وادی میں بھارتی وزیراعظم کی آمد پر مکمل ہڑتال کی گئی۔ذرائع کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے دورے کے دوران بھارتی وزیراعظم مختلف منصوبوں کا افتتاح کریں گے جبکہ وہ سری نگر میں موجود دل جھیل کا دورہ بھی کریں گے۔

حکام کے مطابق وزیراعظم کی آمد پر انتظامیہ نے وادی میں کسی بھی ناخوشگوار واقعے کے پیش نظر انٹرنیٹ سروس معطل کردی۔اس کے علاوہ سیکیورٹی کے نام پر پولیس، فوج اور پیراملٹری فورس کے اہلکاروں کی بڑی تعداد کو تعینات کیا گیا۔وزیراعظم نریندر مودی کی آمد پر مقبوضہ کشمیر میں مکمل ہڑتال کی گئی اور تمام کاروباری سرگرمیاں معطل رہیں۔

کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی کی آمد کے اعلان کے ساتھ ہی حریت قیادت نے وادی میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال دی تھی اور کشمیر کی ہائیکورٹ بار نے بھی حریت قیادت کی ہڑتال کی کال کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔

بعد ازاں انتظامیہ نے وزیراعظم نریندر مودی کی آمد کے دوران کسی بھی قسم کے بھارت مخالف مظاہروں کو روکنے کے لیے حریت قیادت سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق، یٰسین ملک، محمد اشرف صحرائی، مختار احمد، ہلال احمد وار، جاوید احمد میر اور مولوی بشیر احمد عرفانی کو نظر بند کردیا۔

خیال رہے کہ 29 جنوری کو پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے آل پارٹیز حریت کانفرنس کے رہنما میر واعظ عمر فاروق کو کال کر کے تمام بین الاقوامی فورمز پر کشمیر کا معاملہ اٹھانے اور بھارتی فوج کی جارحیت کا پردہ چاک کرنے کی پاکستانی کوششوں سے آگاہ کیا تھا۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے رہنما اے پی ایچ سی کو لندن میں ہاؤس آف کامنز (دارالعوام) کے زیر اہتمام آنے والی تقریب کے بارے میں بھی بتایا تھا، جس میں 4 اور 5 فروری کو ایک نمائش بھی کی جائے گی، جس پر میر واعظ عمر فاروق نے کہا کہ وہ اور ان کے ساتھی اس میں شرکت کے خواہشمند ہیں لیکن بھارتی حکومت نے ان کے پاسپورٹ ضبط کر رکھے ہیں تا کہ وہ بیرونِ ملک سفر نہ جاسکیں۔

ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے بتایا تھا کہ بھارت نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور میر واعظ عمر فاروق کے درمیان ٹیلی فونک رابطے پر احتجاج کے لیے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمشنر کو طلب کیا تھا۔جس کے ردعمل میں سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے بھارتی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کر کے پاکستانی سفیر کی طلبی پر احتجاج کیا تھا۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …