جمعرات , 22 اپریل 2021

ایران میں سائنس و ٹیکنالوجی میں پیشرفت، ایک مختصر جائزہ (2)

(ڈاکٹر راشد عباس)

گذشتہ سے پیوستہ
رہبر انقلاب اسلامی ایت اللہ سید علی خامنہ ای نانو ٹیکنالوجی میں ایران کی ترقی و پیشرفت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ بعض علوم مثلاً نانو ٹیکنالوجی جو جدید سائنسی علوم میں شامل ہے، دنیا میں کسی نے بھی ہماری مدد نہیں کی ہے اور نہ کر رہے ہیں اور آئندہ بھی نہیں کریں گے۔ ہم اس میں بہت آگے ہیں۔ ہمارے نوجوان سائنس دان، محققین اور ریسرچ اسکالر اس شعبے میں کام کر رہے ہیں۔ یہ محنت کر رہے ہیں، مشقت کر رہے ہیں اور انہوں نے قابل ذکر ترقی و پیشترفت کی ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی مزید فرماتے ہیں کہ بدقسمتی سے سائنس و ٹیکنالوجی میں ہمارے ملک کا ماضی درخشاں نہیں ہے، ہم دوسروں سے بہت پیچھے تھے، غیروں کے تسلط کے دور میں ایران سائنس و ٹیکنالوجی کے قافلے سے پیچھے رہ گیا تھا۔ اس پسماندگی کا ازالہ ہونا چاہیئے۔ ہمیں موجودہ ترقی پر قانع نہیں ہونا چاہیئے۔ ہمیں مطلوبہ ہدف تک پہنچنے میں مزید محنت و کوشش کی ضرورت ہے۔ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے 2017ء کے او آئی سی کے سربراہی اجلاس میں نالج بیسڈ کمپنیوں کی ترقی و پیشرفت کے بارے میں کہا تھا کہ ایران میں جدید اور متوسط ٹیکنالوجی کے نتیجے میں بننے والی مصنوعات کی برآمد میں 1۔5 ارب ڈالر سے 12۔1 ارب ڈالر اضافہ ہوا ہے۔

ایک اور شعبہ جس میں ایران کی ترقی و پیشرفت قابل ذکر ہے، وہ سیٹلائٹ کے شعبے میں ایرانی سائنس دانوں کی روز افزوں کامیابیاں ہیں۔ ایران کے ائیرو اسپیس شعبے کے سربراہ مرتضیٰ براری کا کہنا ہے کہ ایران دنیا کے ان نو ملکوں میں شامل ہے، جو سیٹلائیٹ کے شعبے میں خود کفیل ہیں اور وہ سٹلائیٹ کا مکمل سرکل اور سائیکل خود بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تحقیقاتی سیٹلائیٹ سے لیکر فضا میں بھیجے جانے والے سیٹلائیٹ کی تیاری اور لانچنگ کی تمام تر ٹیکنالوجی ایران کے مقامی سائنس دانوں کی مرہون منت ہے اور ایران سیٹلائیٹ ٹیکنالوجی میں خود کفالت کے درجے پر فائز ہے۔ ایران اسلامی انقلاب کے بعد سائنس و ٹیکنالوجی کے اس درجے پر پہنچا ہے کہ اب وہ سیٹلائٹ بنانے اور بھیجنے والے ممالک کے کلب میں شامل ہوچکا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی دنیا کے محدود ممالک کے پاس ہے جبکہ ایران اپنے چند سیٹلائیٹ فضا میں روانہ کرچکا ہے اور ایران کے بنے ہوئے یہ سیٹلائیٹ زمیں کے مدار میں موجود نہایت اہم ڈیٹا بھی روانہ کر رہے ہیں۔ ایران ائیر اسپیس کے کلب میں شامل پانچ نئے ملکوں میں سے ایک ہے۔ سیٹلائیٹ کے شعبے میں خود کفالت کی اہمیت اس لیے بھی اہم ہے کہ آج کی جدید دنیا میں سیٹلائٹ وسیع معلومات کا منبع ہے، لہذا اسے انسانیت کی تیسری آنکھ سے تشبیہ دی گئی ہے۔ جو ممالک اس ٹیکنالوجی سے محروم ہیں، انہیں "اندھے ممالک” سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

ایران زندہ مخلوقات کو بھی فضا میں روانہ کرچکا ہے۔ اسی طرح ان سیٹلائیٹ سے نہ صرف متعلقہ تصاویر اور ڈیٹا وصول کر رہا ہے بلکہ فضائی معلومات کے حصول کے لئے ایک باقاعدہ اسپیس اسٹیشن بھی قائم کرنے میں کامیاب ہوچکا ہے۔ عالم اسلام سے متعلق مکتوب علوم کے مرکز (Islamic World Science Citation Database) "آئی ایس سی” کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران نے علمی میدان میں معیاری کام کی بدولت پہلا مقام حاصل کر لیا ہے۔ عالم اسلام سے متعلق علمی مرکز "آئی ایس سی” کے سربراہ "محمد جواد دہقانی” نے اپنے ایک انٹرویو میں بتایا ہے کہ "آئی ایس سی” کے معیار پر پورے اترنے والے علمی مقالے اس مرکز کو موصول ہونے والے بہترین مضامین کا صرف ایک فیصد شمار ہوتے ہیں کہ جس کی شرح نمو ایران میں انیس فیصد تھی، جو ایک ریکارڈ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سنہ دو ہزار پندرہ میں "آئی ایس سی” کو ایران سے موصول ہونے والے علمی مقالے تعداد کے لحاظ سے دو ہزار چودہ کی نسبت آٹھ فیصد زیادہ تھے، جس کے پیش نظر ایران عالمی سطح پر تیسرے مقام پر تھا۔ عالم اسلام سے متعلق علمی مرکز (Islamic World Science Citation Database) "آئی ایس سی” کے سربراہ "محمد جواد دہقانی” نے بتایا کہ ان کا ادارہ ایران اور دیگر اسلامی ملکوں میں کام کر رہا ہے اور اس حوالے سے علاقے کے دیگر ملکوں اور اسلامی ممالک خصوصاً ملیشیا، پاکستان، عراق، افغانستان اور عمان کے ساتھ تعاون ہماری ترجیحات میں شامل ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای صرف ایران میں علمی پیشرفت پر تاکید نہیں فرماتے بلکہ آپ نے کئی موقعوں پر عالم اسلام کے تمام ممالک پر زور دیا ہے کہ سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں مسلمانوں کو سب سے آگے ہونا چاہیئے، اسی حوالے سے گذشتہ سال مئی میں ایک وفد سے خطاب کرتے ہوئے رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے فرمایا تھا کہ عالم اسلام میں علمی تحریک کو مہمیز دینے اور امت مسلمہ کو دوبارہ علمی اور تہذیبی طاقت بننے کی ضرورت ہے، تاکہ دشمنان اسلام اور امریکی حکام اسلامی ملکوں کے سربراہوں کو ڈکٹیٹ نہ کرسکیں کہ انہیں کیا کرنا اور کیا نہیں کرنا چاہیئے۔ رہبر معظم اسلامی نے عالم اسلام کے درمیان اتحاد و یکجہتی اور تمام علوم میں پیشرفت کی سنجیدہ تحریک کے آغاز کو وقت کی اہم ترین ضرورت قرار دیا۔ آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے فرمایا کہ آج عالم اسلام میں بیداری پیدا ہوگئی ہے اور مغرب کی جانب سے اسے جھٹلانے کی تمام تر کوششوں کے باوجود یہ بیداری، اسلام کی جانب رجحان میں اضافے کا راستہ ہموار اور تابناک مستقبل کی نوید دے رہی ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے علمی پسماندگی کو عالم اسلام پر بیرونی تسلط کی اہم ترین وجہ قرار دیتے ہوئے فرمایا، مغربی دنیا نے برسوں کی پسماندگی کے بعد عالم اسلام کی علمی ترقی و پیشرفت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، اپنی دولت اور علمی، فوجی، سیاسی اور تشہیراتی طاقت میں اضافہ کیا اور آخر کار اپنی سامراجیت کے ذریعے اسلامی ملکوں کو موجودہ صورتحال سے دوچار کر دیا۔ آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے اسلامی ملکوں کے خلاف مغربی طاقتوں کی منہ زوری اور بہت سے مسلم حکمرانوں کی جانب سے عالمی منہ زوروں کی تابعداری کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ان حالات کو اسلامی ملکوں کی علمی پیشرفت کے ذریعے تبدیل اور عالم اسلام کو ایک بار پھر تہذیب انسانی کی چوٹیوں تک پہنچایا جاسکتا ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے ایران کی علمی پیشرفت کو ایک کامیاب نمونہ اور رول ماڈل قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ ہم علم و دانش کی سرحدوں کو عبور کرنے تک اس راستے پر گامزن رہیں گے اور مغربی ملکوں کے برخلاف ایران اپنے علمی نتائج، تجربات اور ترقی کے فوائد دوسرے اسلامی ممالک کو منتقل کرنے لیے آمادہ ہے۔

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …