اتوار , 18 اپریل 2021

افغانستان۔۔۔ ایک نئی امید

(ظہیر اختر بیدری) 

جہاں جمہوریت ہوتی ہے، وہاں حکومت کے ساتھ ایک اپوزیشن یعنی حزب اختلاف بھی ہوتی ہے۔ حزب اختلاف کا کام عام طور پر حکومت کی کمزوریوں، خامیوں اور غلطیوں کی نشان دہی کرنا ہوتا ہے تاکہ حکومت ان خامیوں کو دورکر لے جس کی اپوزیشن نے نشان دہی کی ہے، لیکن یہ طریقہ کار مہذب ملکوں میں اختیارکیا جاتا ہے ویسے جہل اب چونکہ ہمہ گیر حیثیت حاصل کرتا جا رہا ہے لہٰذا مہذب اور ترقی یافتہ ملکوں میں بھی غل غپاڑہ وغیرہ عام ہوتا جا رہا ہے۔ پاکستان اور ہندوستان کا شمار چونکہ پسماندہ ترین ملکوں میں ہوتا ہے لہٰذا پاکستان میں جمہوریت اب ایک طرح کی بد تہذیبی بلکہ مار دھاڑ کی فلم بن گئی ہے۔

ویسے تو یہ کلچر جمہوریت کے ساتھ ہی پھولتا پھلتا رہا ہے لیکن موجودہ حکومت کے برسر اقتدار آنے کے بعد اس میں اتنی شدت آگئی ہے کہ اب ہماری جمہوریت، جمہوریت کہیں سے بھی نہیں لگتی۔ حکومت جب برسر اقتدار آئی تو لوٹ مار کا ورثہ اسے ساتھ ملا اور انارکی کے ساتھ کھربوں روپوں کا قرض بھی ترکہ میں ملا۔ اس حوالے سے اپوزیشن کی بد دیانتی کا عالم یہ ہے کہ اربوں کھربوں کے قرض اور بددیانتی کی ذمے داری اس پانچ ماہ کی عمران حکومت پر ڈالی جا رہی ہے جس نے ابھی ٹھیک سے آنکھیں بھی نہیں کھولیں۔ اہل عقل حیران ہیں کہ ملک کو سر سے پیر تک قرض میں جو لوگ جکڑ کر رخصت ہوئے ہیں وہ کس اخلاقیات کی رو سے پانچ ماہ کی نئی حکومت پر ذمے داری ڈال رہے ہیں۔

نئی حکومت پر ذمے داری ہی نہیں ڈال رہے بلکہ پارلیمنٹ میں ایسی ہنگامہ آرائی کر رہے ہیں کہ بڑے بڑے پیشہ ور ہنگامہ ساز سر پکڑے بیٹھے ہیں ۔ یہی اپوزیشن جب حکمران تھی تو اس کا اصرار ہوتا کہ ’’ہم منتخب لوگ اور عوام کے نمایندے ہیں لہٰذا ہم کو یہ آئینی حق حاصل ہے کہ ہم پانچ سال کی آئینی مدت پوری کریں۔‘‘ اب یہ آئینی حق موجودہ حکومت کو دینے کے لیے تیار نہیں جو لوگ موجودہ حکومت کو، ملک کو قرضوں میں جکڑنے کے الزام میں حکومت بدرکرنا چاہتے ہیں ،ان شرفا کی پوری کی پوری فیملیاں اربوں کی کرپشن کے الزام میں یا تو جیلوں میں ہیں یا پھر ملک ہی سے فرار ہیں ۔اس بیک گراؤنڈ میں موجودہ 5 ماہ کی حکومت سے ملک کو قرض میں ڈبو دینے کے الزام میں حکومت سے دستبردار ہونے کا ہنگامہ خیز مطالبہ کرنا کیا قرین انصاف ہے۔اس حوالے سے بارہا یہ پڑھا ہے کہ ہماری اپوزیشن کا خیال واثق تھا کہ حکومت اپنی ناتجربہ کاری اور قرض کے بھاری بوجھ کے نیچے چند ماہ میں دب کر رہ جائے گی لیکن بھلا ہو عرب ملکوں اور چین و ترکی کا کہ ان کی مالی بلکہ ناقابل توقع مالی اور اخلاقی امداد کی وجہ سے نہ صرف پیر جمانے کے قابل ہوگئی ہے بلکہ ایک لمبا عرصہ کھینچنے کی طرف جا رہی ہے۔

ہاں حکومتی ارکان کی ناتجربہ کاری اور آپس کے احمقانہ اختلافات کی وجہ سے یہ خدشات ضرور پائے جاتے ہیں کہ یہ عقل کے دشمن خود اپنے لیے مشکلات نہ پیدا کر لیں۔ اسے ہم حکومت خاص طور پر وزیراعظم عمران خان کی کوششوں اور دوست ملکوں کی مہربانی ہی کہہ سکتے ہیں کہ ان کی بروقت امداد نے پاکستانی حکومت کو ان مالی مشکلات سے بچا لیا جو دور نہ ہوتیں تو حکومت کا سروائیوکرنا مشکل ہو جاتا ۔ پاکستان کے لیے افغانستان ایک سنگین مسئلہ بن گیا تھا۔ روز روز کی خونریزی سے جہاں افغان حکومت شدید گرداب میں پھنسی ہوئی تھی وہیں پاکستان بھی ایک سخت آزمائش سے دوچار تھا۔ اسے ہمارے حکمران طبقے کی خوش قسمتی اورکاوشوں کا نتیجہ کہیے کہ افغانستان سے فوجی انخلا کے مسئلے پر امریکا اور طالبان کے درمیان ایک معاہدے پر اتفاق ہوگیا ہے جس کے مطابق آنے والے 18 ماہ کے اندر افغانستان سے تمام غیر ملکی فوجوں کا انخلا ہو جائے گا۔

اس معاہدے کی اتنی اہمیت ہے کہ ہر کام معاہدے کے مطابق ہوجائے تو اس خطے کا نقشہ ہی تبدیل نہیں ہوگا بلکہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بھی تعلقات میں مثبت پیشرفت کے امکانات بھی روشن ہو جائیں گے۔ قطر میں مذاکرات کے بعد امریکی نمایندے زلمے خلیل زاد افغان صدر اشرف غنی کے ساتھ مذاکرات کے لیے کابل روانہ ہو گئے جس سے یہ امید پیدا ہوگئی ہے کہ مذاکرات معاہدے کی طرف جائیں گے۔ امریکا اور افغانستان کے درمیان تعلقات میں پیشرفت کا اگر بھارت خیر مقدم کرتا ہے اور اس پیشرفت کو پاکستان کی کامیابی سمجھتے ہوئے کوئی منفی رویہ نہیں اپناتا تو تینوں ملکوں اور خطے پر اس کے اثرات نظر آئیں گے۔دنیا میں جگہ جگہ مختلف ملکوں کے درمیان اختلافات روئی کی آگ کی طرح موجود ہیں ۔ امریکا شمالی کوریا، ایران امریکا ہندوستان ،پاکستان ، چین ، جاپان وغیرہ کے درمیان کشیدگی موجود ہے جب کہ شمالی کوریا اور امریکا کے درمیان دشمنی کی آگ سرد پڑ رہی ہے لیکن ایران اور امریکا کے درمیان اور چین جاپان کے علاوہ ہندوستان پاکستان کے درمیان تعلقات میں کھنچاؤ اور سرد مہری کا سلسلہ جاری ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں علاقوں میں بالادستی کی غیر انسانی خواہش کے علاوہ معاشی مفادات کا ٹکراؤ اس کشیدگی کی وجوہات ہیں۔

ان متنازعہ مسائل کو ہوا دینے کا اصل کام مغرب کی اسلحے کی صنعت کر رہی ہے جب تک اسلحے کی صنعت پر منافع خور مافیا کا قبضہ ہے اسلحہ بنتا رہے گا اور جنگیں ہوتی رہیں گی۔ سرمایہ دارانہ نظام کی عمارت منافعے کی بنیادوں پرکھڑی ہوئی ہے اور جب تک دنیا میں منافع کی خواہش زندہ ہے، انسان ، انسان کو قتل کرنے کا اہتمام کرتا رہے گا۔ افغانستان سے غیر ملکی فوجوں کا انخلا امن کی طرف ایک حوصلہ افزا پیشرفت ہے لیکن یہ سب اس وقت تک ہوتا رہے گا ، جب تک آدمی انسان کے رشتے میں نہیں بندھ جاتا۔بشکریہ ایکسپریس نیوز

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …