منگل , 13 اپریل 2021

مودی کی انتخابی مہم اور دفتر خارجہ کا انتباہ

ہندوستان میں الیکشن کے دن قریب جوں جوں آتے جا رہے ہیں تو مودی سرکار نے اپنی توپوں کا رخ پاکستان کی طرف کردیا ہے، یوں سمجھ لیجیے کہ ان کے ذاتی خیال میں پاکستان پر الزام تراشی ، بھارتی الیکشن میں کامیابی کے لیے ترپ کا پتہ ثابت ہوگی ۔اسی تناظر میں بدھ کی رات پاکستانی ہائی کمشنرکو طلب کر کے کشمیری حریت رہنما میر واعظ عمر فاروق سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی ٹیلی فونک بات چیت پر اعتراض اٹھایا گیا۔ ترجمان دفتر خارجہ پاکستان نے ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہرحال میں کشمیریوں کی حمایت جاری رکھے گا۔ بھارت کی جانب سے میر واعظ عمر فاروق کو دہشت گرد کہنا قابل مذمت ہے۔

مقبوضہ کشمیر متنازع علاقہ ہے اور نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمشنر کو طلب کیا جانا ، بھارتی انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوشش ہے، بھارت اپنے انتخابات اپنے ملک میں لڑے، پاکستان کواس میں نہ گھسیٹے۔ پاکستانی دفتر خارجہ نے جوکچھ کہا ہے وہ تاریخ ، تہذیب اور سفارتی آداب کے آئینے میں بالکل درست ہے۔ دراصل مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کے فورم پر حل طلب مسئلہ ہے،کشمیر ہندوستان کا نہیں ہے نہ کبھی ہوگا ، البتہ اس نے زبردستی طاقت کے زور پرکشمیر پر قبضہ کر رکھا ہے، لفظ پاکستان میں ’’ ک ‘‘ کشمیرکے لیے مخصوص ہے۔ مودی تعصب اور عصبیت کے باعث وزیراعظم بنے ہیں، ماضی میں مسلمانوں کے قتل عام پر ’’ گجرات کا قصاب‘‘ کے لقب سے پکارے جاتے ہیں ، وہ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتے،اس بار الیکشن میں انھیں شکست کا سامنا ہے ،اس لیے وہ اپنے بچاؤ کے لیے ایسے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کررہے ہیں ، لیکن حقیقت میں انھیں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گا۔

جابر اور قابض بھارت کو شرم آنی چاہیے کہ وہ حریت پسند رہنماؤں کی پاکستانی وزیرخارجہ سے ٹیلی فونک گفتگو پر اعتراض کر رہا ہے ۔کشمیری تو ایک لاکھ سے زائد جانوں کا نذرانہ دے کر ثابت کرچکے ہیں کہ وہ ہندوستان کے جبری قبضے کو تسلیم نہیں کرتے، چار نسلوں سے جدوجہد کرنے والے،جان ومال عزت وآبروکی قربانی دینے والے دہشت گرد نہیں بلکہ دہشت گرد تو ہندوستان ہے جو کشمیر میں جنگی جرائم کا مرتکب ہو رہا ہے ۔ ایسے مہلک ہتھیاروں کا استعمال تو جنگوں میں بھی نہیں کیا جاتا ہے جو بھارتی افواج کشمیریوں پر استعمال کررہی ہے ۔کرتار پور بارڈر کھول کر سکھ یاتریوں کو سہولت بہم پہنچائی ہے لیکن جواب میں ہندوستان کا طرز عمل بچگانہ ہے۔
ہفتہ وار بریفنگ کے دوران پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے طالبان، امریکا مذاکرات کے متعلق کہا کہ ملا عبدالغنی قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طالبان کے مرکزی دفتر کے سربراہ مقرر ہوئے ہیں، طالبان اور افغان حکومت کے درمیان معاملات ان کے اپنے ہیں، امید ہے وہ مل کر اپنے مسائل حل کرلیں گے، افغان مفاہمتی عمل کے حوالے سے محتاط ہونے کی ضرورت ہے جب کہ افغان سرحد پر داعش کی بڑھتی سرگرمیوں پر تشویش ہے۔ یقیناً افغانستان میں قیام امن سے پاکستان میں دہشتگردی کے خاتمے میں مدد ملے گی ۔حاصل کلام یہ ہے کہ کشمیر نہ تو بھارت کا ’’ اٹوٹ انگ ‘‘ ہے اور نہ ہی کشمیری ان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں ، جانے سادہ سی بات مودی کو سمجھ میں نہیں آتی یا وہ سمجھنا نہیں چاہتے۔بشکریہ ایکسپریس نیوز

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …