جمعہ , 23 اپریل 2021

کیا امریکی زوال شروع ہوچکا ہے ؟

(رابرٹ مولر کی تحقیقات )

(حصہ دوم)

امریکہ میں انتخابات کے بعد ٹرمپ پر الزام لگتا رہا ہے کہ انتخابی عمل میں روس کی کسی نہ کسی شکل میں مداخلت اور تعاون موجود تھا یہاں تک کہ اس موضوع پر 17 مئی، 2017 کوتحقیقات کا آغاز کیا گیا ۔خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ ٹرمپ کے ساتھ کام کرنے والے بعض افراد کے روس کے تعلقات موجود ہیں اور اب امکان ہے کہ یہ تحقیقات اگلے کچھ ماہ میں مکمل ہوجائیںگی ۔

ماہرین کے مطابق اب تک صورتحال یہ ہے کہ ہر سراغ ایک نئے سراغ کا پتہ دے رہا ہے اور دائرہ ہے کہ پھیلتا جارہا ہے کہ جہاں ملزموں کی تعداد اور جرائم کی اقسام میں بھی اضافہ دیکھائی دیتا ہے ۔کہا جارہا ہے کہ اب تک کی تحقیق یہ واضح کررہی ہے کہ عام توقع سے بڑھ کر روس کے ساتھ ملوث ہونے کی جانب اشارے مل رہے ہیں اور ٹرمپ کی ٹیم میں دسیوں افراد ایسے ہیں جو ملوث دکھائی دیتے ہیں

دوسری جانب یہ بھی کہا جارہا ہے کہ بات صرف روس تک نہیں بلکہ اسرائیل ،سعودی عرب اور متحدہ امارات بھی کسی نہ کسی طرح ملوث دیکھائی دیتے ہیں ۔یہ تحقیقات رقوم ،پروجیکٹس اور وسیع پیمانے پر دروغ گوئی جیسے ایشوز کابھی سامنا کررہی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ٹرمپ کے اخلاقی پہلو کہ جس میں پیشہ عورتوں سے روابط ،سعودی شہزادہ بن سلمان،اور بن زائد کے ساتھ ذاتی تعلقات اور مالی مفادات ۔۔۔جیسے مسائل بھی شامل ہیں ۔

اس تحقیقات کے نتیجے میں اب تک وزیر انصاف کو استعفی دینا پڑا ہے ،جبکہ ٹرمپ کے ذاتی وکیل اور انتخابی مہم کے انچارچ ،قومی سلامتی کونسل کےانچارچ ما ئیکل فینن گرفتار ہوچکے ہوئے ہیں جبکہ بعض کی فیملیاں بھی شامل تفتیش ہیں ۔

رابرٹ مولر یعنی ایس کیس کا خصوصی پراسیکیوٹرنے جج سے گذارش کی کہ مائیکل کو اس کی سابقہ عسکری خدامات کے بدلے میں جیل روانہ نہ کرے باوجود اس کے کہ وہ ایف بی آئی کی تحقیقاتی ٹیم سے تحقیقات میں جھوٹ بولنے کا اعتراف بھی کرچکا تھا ۔

اب تک تحقیقات کے بارے میں کچھ بھی سرکاری طور پر شائع نہیں کیا گیا ہےجو کچھ معلومات سامنے آئی ہیں وہ عدالت میں پیش ہونے والے مقدموں کی دستاویزات ،اس کیس میں ملوث ملزموں کی جانب سے کی جانے والی گفتگو اور بعض میڈیا لیکس کے زریعے سے سامنے آئی ہیں ۔

انہی لیکس کو اکھٹاکرکے بعض لکھاریوں نے اس موضوع پر کتابیں بھی لکھیں ہیں کہ جس میں سے ایک Luke Hardingکی کتاب Collusion: Secret Meetings, Dirty Money, and How Russia Helped Donald win ہے ۔

یہ کتاب ٹرمپ کی روسیوں کے ساتھ ملی بھگت، انصاف کی راہ میں رکاوٹ ، قانون کی ہیرا پھیری اور عوام کو گمراہ کرنے جیسے موضوعات کو بیان کرتی ہے ۔واضح رہے کہ جو کچھ اب تک میڈیا میں سامنے آیا ہے وہ اس تحقیقات کا عشر عشیر بھی نہیں ۔اسی اثنا میں یکم فروری کو ڈپٹی وزیر عدل کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کو ہیں اور جلد ہی کانگریس کے سپرد کی جاینگی۔

اگر یہ تحقیقات سامنے آجاتی ہیں کہ آنے والی ہیں تو اس وقت امریکی ریاستی اداروں اور عوام کا ردعمل کیا ہوگا ؟اور کانگریس کا برتاو کیسا ہوگا ؟امریکی قانون کے مطابق صدر مملکت کو عدالت سزا نہیں دے سکتی مگر یہ کہ پہلے کانگریس اسے منصب سے ہٹائے یا معزول کرے ۔
امریکی قانون کے مطابق کاصدر کی معزولی کے دوطریقے بیان ہوئے ہیں ۔
الف:ایوان نمایندگان میں ووٹنگ
ب:سینٹ میں صدر کیخلاف کاروائی
اب تک امریکی تاریخ میں کسی صدر کو معزول نہیں کیا گیا لیکن صدر کو سنیٹ میں جوابدہی کے پیش ہونا پڑا ہے جیسے بل کلنٹن اور اینڈریو جانسن اور نکسن۔نکسن کو آخر کار عدالتی عدم کاروائی کی ضمانت پرستفی دینے کا سودا کرنا پڑا ۔

واضح رہے کہ جب ہم سنیٹ میں کارروائی کی بات کررہے ہوتے ہیں تو یہ عام سی کارروائی نہیں بلکہ ایک قسم کی عدالت کارروائی کی طرح کی سنجیدہ اور سخت کارروائی مراد ہے ۔تو ٹرمپ کے بارے تحقیقات مکمل ہونے کے بعد کیا صورتحال پیدا ہوسکتی ہے ؟ہم یہاں ان ممکن سیناریوز پر بات کرینگے جو امریکی قانون اور موجودہ صورتحال کے مطابق بن سکتے ہیں

الف:ہوسکتا ہے کہ تحقیقاتی رپورٹ ٹرمپ کو کلین چٹ دے اور ان کے لئے کام کرنے والے کچھ افراد کو اس میں اصل ملزم قرار دے ،گرچہ اس کے امکانات بہت سے کم دکھائی دیتے ہیں ۔لیکن اس کے باوجود فضا اتنی خراب ہوچکی ہوگی کہ ٹرمپ سن 2020کے انتخابات کے لئے مناسب امیدوار کے طور پر سامنے نہیں آپائے گا۔

ب:ہوسکتا ہے کہ ٹرمپ کی جانب الزامات کی صرف انگلیاں اٹھیں اور انتہائی معمولی نوعیت کی چیز سامنے آئے کہ جیسے سنیٹ میں ریپبلکنز دفاع کرپائے لیکن مالی معاملات اور بعض دوسرےقانونی مسائل کی تلوار پھر بھی لٹکی رہے گی ۔

ج:اگر رپورٹ ٹرمپ کو ملوث قرار دیتی ہے اور اسے ایک قومی خیانت و غداری قرار دیا جاتا ہے تو صورت حال بہت سنگین ہوگی یہاں تک کہ کانگریس میں نکسن کی طرح کی ڈیل بھی ممکن نہیں ہوگی ۔

جس کا مطلب یہ ہوگا کہ کانگریس پہلے انہیں معزول کرے گی اور پھر معزولی کے بعد مقدمہ چلے گا ۔اور یہی وہ اہم نکتہ ہے کہ ٹرمپ کا عوامیت پسندمخصوص مزاج کو پیش نظر رکھ کر زیادہ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ وہ کانگریس کی معزولی کا جواب عوامی سطح پر دینے لگے گا اور یوں ایک نیا بحران پیداہوگا ۔

ٹرمپ کی نرگیسی طبیعت کبھی بھی اتنے بڑے الزامات کو سامنا نہیں کرے گی کہ جس میں سب کچھ اس کے ہاتھ سے نکل جائے گا اور وہ ایک قومی مجرم کے طور پر سامنے آئے گا ۔ٹرمپ کئی بات اس کا اشارہ بھی دے چکا ہے کہ اگر اسے معزول کرنے کی کوشش کی گئی تو وہ عوامی تحریک چلائیںگے ۔

واضح رہے کہ میڈیا کے مطابق ٹرمپ کے حامیوں میں ڈھائی لاکھ ایسی مسلح ملیشیا بھی ہے جو ہمیشہ ان کےدفاع کے لئے خود کو تیار سمجھتی ہے اور اس سلسلے میں وہ بیانات بھی دے چکے ہیں ۔ایک ایسی صورتحال کا مطلب امریکہ میں ایک قسم کی خانہ جنگی کا پیدا ہونا ہے کہ جس کے بارے میں پہلے ہی تجزیہ کار اور ماہرین خبردار کرچکے ہیں ۔ہوسکتا ہے کہ بہت سے قارئین ایک ایسی ملیشیا کی خبر کے بارے میں یقین نہ کرسکیں لیکن خود امریکی اور عالمی میڈیا اس ملیشیا کے افراد کے انٹریوز کئی بار نشر کرچکا ہے ۔جاری ہے ۔۔۔۔بشکریہ فوکس مڈل ایسٹ

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …