اتوار , 11 اپریل 2021

سعودی ولی عہد کا دورہ نامنظور۔۔۔از طرف پاکستانی قوم

موصوف نے کرسی اقتدار کو حاصل کرنے کیلئے * مملکت کے ولیعہد محمد بن نایف اور سابقہ حکمرانوں کے فرزندوں سمیت اور موثر امراء کو ٹارچر کیا.* امام کعبہ سمیت مملکت کے علماء ومفتیان کو زندانوں میں ڈالا.* اپنے ملک کی عوام بالخصوص العوامیہ شہر کا  محاصرہ کیا اور عوام کو قتل کرنے اور شہر کی تباہی کے لئے ٹینکوں ، توپوں اور فضائی حملوں میں طاقت کا بے دریغ استعمال کیا.بحرینی عوام نے جائز حقوق کا مطالبہ کیا تو ہمسایہ ملک کی عوام پر درع الجزیرہ نامی بدنام زمانہ فورس سے چڑھائی کر دی. اور گھروں اور عبادت گاہوں کو تباہ اور بے گناہ لوگوں کا قتل کیا. فرعونی غرور و تکبر میں آکر بے بنیاد بہانوں کی بنا پر دوسرے ہمسایہ برادر اسلامی ملک یمن پر حملہ کردیا. بری ، بحری اور فضائی حملوں سے معصوم شہریوں کا قتل عام کیا ملک کو تباہ برباد کر دیا بچوں کے اسکولز اور ملک کے تعلیمی ادارے ، مساجد اور ہاسپیٹلز کو بھی نشانہ بنایا۔

اپنے اقتدار کی خاطر بیت المقدس فلسطینی قوم کی قربانیوں اور شہداء کے خون کا سودا "صدی کی ڈیل ”  نامی ذلیلانہ معاہدے سے کیا.

امریکی صدر کو پانچ سو ارب ڈالرز کا جگا ٹیکس ادا کر کے اور 1500 ارب ڈالرز دینے کا ذلیلانہ اقدام کر کے فقط سعودی عرب کو ہی نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ کو ذلیل کیا.* امام مہدی کے ظہور کا انتظار سنی اور شیعہ سب مسلمان کر رہے ہیں.  یہودیوں کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے فرزند رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف اعلان جنگ کا اعلان کیا. لیبیا ، تیونس ، مصر ، عراق اور شام میں تباہی کے لئے تمام تر جنگی اسلحہ اور مالی وسائل فراھم کئے.اپنے ملک کے شہری ومشہور صحافی جمال خاشقجی کو اختلاف رائے کے جرم میں ترکی میں قائم سعودی کونسل خانے  کے الیکٹرانک آلات کے ذریعے اسکی کھال اتار کر اسکے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کئے.اب یہ شخص حکومت پاکستان کی دعوت پر پاکستان کا دورہ فروری 2019 کے تیسرے ہفتے میں کرے گا.

ہمارا حکمران طبقہ موجودہ حکومت ہو یا سابقہ حکمران اور موجودہ اپوزیشن اور اسی طرح ہمارا میڈیا ہو یا بڑے بڑے اینکر پرسن اور صحافی ، ہماری اسٹبلشمنٹ ہو نام نہاد دینی سیاسی پارٹیاں اور مدارس سب کے سب سعودی پٹرو ڈالرز اور ریالوں کے احسانات تلے دبے ہوئے ہیں.  جبکہ پاکستانی عوام نے اس پاک سعودی دوستی کے نتیجے میں دہشتگردی، افسرشاہی ، اور سول وفوجی آمریت کو پنپتے دیکھا ہے. اور بلا تفریق دین و مذہب سب کے سب پاکستانی عوام سعودی ریالوں پر پلنے والوں کی دہشتگردی کا شکار ہوئے ہیں اور ملک کا انفراسٹرکچر تباہ ہوا ہے. اور بد امنی کے نتیجے میں متعدد بحران برداشت کر رہے ہیں.

اب مناسب وقت ہے کہ پاکستانی عوام اسکے دورےپر اسے پیغام دے کہ ہم تمہارے ذلت آمیز اقدامات اور پالیسیوں کی وجہ سے تجھ سے شدید نفرت کرتے ہیں. ہماری دینی وقومی وملی غیرت گوارہ نہیں کرتی کہ ہم اس شخص کا استقبال کریں جس کے ہاتھ بیگناہوں کے خون سے رنگین ہیں. جس نے پوری امت مسلمہ کی غیرت وآبرو کو امریکہ واسرائیل کی رضا کے لئے بیچا ہے.  اور مقدس ترین سرزمین پر فحاشی ، عیاشی وجواء کھلنے اور رقص وغناء کے مراکز قائم کئے ہیں. پاکستانی عوام بھوک تو برداشت کر سکتی ہے لیکن اس بد نام امیر کا استقبال کر کے پوری امت مسلمہ اور اقوام عالم کی نگاہوں میں لالچی اور پست قوم کا دھبہ نہیں برداشت کر سکتی. پاکستانی عوام کو یہ دورہ نا منظور ہے.

اے طائر لاھوتی اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …