جمعرات , 22 اپریل 2021

امریکہ کی عالمی معاہدوں کو پانچویں ٹھوکر

(تحریر: رضا حسینی)

امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپئو کی جانب سے روس کو درمیانی رینج کے جوہری میزائلوں سے متعلق معاہدے کے تحت لازمی اقدامات انجام دینے کیلئے چھ ماہ کی مہلت دیے جانے اور اس بات کے اعلان کے بعد کہ امریکہ اس مدت میں مذکورہ بالا معاہدے کی رو سے اپنے اوپر لازمی قرار پانے والے اقدامات معطل کر رہا ہے اور اگر روس نے ضروری اقدامات انجام نہ دیے تو یہ معاہدہ ختم کر دیا جائے گا، روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے وزیر خارجہ اور وزیر دفاع کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا: "ہمارے امریکی شریکوں نے اعلان کیا ہے کہ اس معاہدے کی پابندی معطل کر رہے ہیں۔ روس کا جوابی اقدام بھی ایسا ہی ہو گا اور ہم بھی معاہدے کی پابندی معطل کر دیں گے۔” ولادیمیر پیوٹن نے کہا کہ روس آواز کی رفتار سے تیز رفتار میزائلوں سمیت نئے میزائل بنانے کا آغاز کر دے گا۔ انہوں نے اسی طرح اپنے وزیروں کو حکم دیا کہ واشنگٹن سے ہتھیاروں کی روک تھام کے بارے میں مذاکرات شروع نہ کریں۔ روس کے صدر نے کہا: "ہم مشابہہ اقدام انجام دیں گے۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ جدید ہتھیاروں کے بارے میں تحقیق اور تجربات شروع کر دیں گے، ہم بھی ایسا ہی کریں گے۔”

روس کے صدر نے تاکید کی کہ ماسکو کی جانب سے 1987ء معاہدے پر نظرثانی کرنے اور اس میں موجود ابہامات دور کرنے کی پیشکش میز پر ہی رہے لیکن دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات کا آغاز نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ روس جوابی اقدامات انجام دینے کے باوجود ہر گز ہتھیاروں کی دوڑ شروع کرنے میں پہل نہیں کرے گا۔ ولادیمیر پیوٹن نے کہا: "میں آپ کی توجہ اس نکتے کی جانب مرکوز کرنا چاہتا ہوں کہ ہم جوابی اقدامات انجام دینے کے باوجود ہر گز ہتھیاروں کی ایسی دوڑ میں شامل نہیں ہوں گے جو ہمارے لئے اخراجات کا باعث بنے۔” روس کے صدر جو سرگئے لاوروف اور سرگئے شویگو کے ہمراہ صحافیوں سے بات چیت کر رہے تھے نے کہا: "آئی این ایف معاہدے کے بارے میں ہمارے آپشنز میز پر ہیں اور مذاکرات کا دروازہ بدستور کھلا ہے لیکن میں آپ سے چاہتا ہوں کہ اس بارے میں مذاکرات کی ابتدا آپ نہ کریں۔” اسی طرح انہوں نے روس کے وزیر خارجہ اور وزیر دفاع کو حکم دیا کہ وہ دیگر ممالک میں میزائل نصب کئے جانے پر مبنی اقدامات پر کڑی نظر رکھیں۔ ولادیمیر پیوٹن نے تاکید کی کہ جب تک امریکہ علاقے میں درمیانی اور کم رینج کے میزائل نصب نہیں کرتا روس بھی ایسے میزائل نصب کرنے سے گریز کرے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے مدمقابل کی جانب سے ہتھیاروں کی روک تھام کے بارے میں مساوی بنیادوں پر حقیقی گفتگو کے منتظر رہیں گے۔

روس کے وزیر خارجہ سرگئے لاوروف نے بھی پریس کانفرنس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: "2014ء میں میزائل ڈیفنس کے بارے میں بات چیت تعطل کا شکار ہونے کے بعد امریکہ نے یورپ اور ایشیا میں اپنے میزائل اڈوں میں توسیع کی ہے اور آلاسکا اور مشرقی ساحل سمیت دیگر پوائنٹس پر اپنے میزائل سسٹمز کو مزید مضبوط بنایا ہے۔” انہوں نے مزید کہا: "روس درمیانی رینج کے میزائلوں پر کم طاقت والے جوہری ہتھیار نصب کرنے پر مبنی امریکی ڈاکٹرائن کے بارے میں پریشان ہے۔” ولادیمیر پیوٹن اور سرگئے لاوروف نے تاکید کی کہ یورپ میں امریکہ کی جانب سے 41MK میزائل سسٹمز نصب کرنے کا عمل جو ٹام ہاک میزائلوں سے تناسب رکھتے ہیں، آئی این ایف معاہدے کی واضح خلاف ورزی محسوب ہوتی ہے۔ روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ 1999ء سے امریکہ نے مسلح ڈرونز کے تجربات بھی شروع کر رکھے ہیں اور یہ اقدام بھی آئی این ایف معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ ان کے بقول آئی این ایف معاہدے سے متعلق روس کی پیشکش امریکی جارحیت کا نشانہ بنی ہے اور روس امریکہ کی ڈیڈ لائن قبول نہیں کر سکتا کیونکہ وہ اس معاہدے کی روح اور متن کے خلاف ہے۔

یاد رہے 1987ء میں امریکہ اور روس کے درمیان درمیانی رینج کے میزائلوں کے بارے میں ایک معاہدہ طے پایا تھا جس کا نام آئی این ایف یا Intermediat Range Nuclear Forces Treaty انجام پایا تھا۔ اس معاہدے کی روسے طے پایا تھا کہ 310 میل سے 3400 میل تک رینج رکھنے والے زمین سے زمین پر مار کرنے والے تمام بیلسٹک میزائل ممنوعہ ہوں گے۔ امریکہ نے بارہا یہ دعوی کیا ہے کہ روس کے میزائل 19M729 کی رینج اسی مقدار میں آتی ہے لہذا ان کی تیاری اس معاہدے کی خلاف ورزی ہے لیکن ماسکو نے ہمیشہ اس کی تردید کی ہے۔ دوسری طرف روس کا بھی دعوی ہے کہ یورپ میں نصب کئے گئے امریکی میزائل سسٹمز درمیانی رینج کے کروز میزائلوں پر مشتمل ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ 500 کلومیٹر سے زیادہ رینج کے جوہری ہتھیاروں سے لیس ہونے کے قابل میزائلوں کی تیاری میں مصروف ہے جو آئی این ایف معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ دوسری طرف روس کا موقف ہے کہ اسکندر ایم میزائل کی رینج 480 کلومیٹر ہے جو مذکورہ بالا معاہدے کی خلاف ورزی نہیں ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاوس میں اپنے جاری کردہ بیانیے میں کہا ہے: "ہم ایک اور قدم اٹھائیں گے اور جوابی فوجی کاروائی کیلئے اپنے مخصوص آپشنز مدنظر قرار دیں گے۔ ہم نیٹو، اتحادی ممالک اور دیگر دوستوں سے اتحاد کے ذریعے روس کی ایسی ہر قسم کی فوجی برتری کا مقابلہ کرنے کی کوشش کریں گے جو وہ "غیر قانونی” سرگرمیوں کے نتیجے میں حاصل کرے گا۔” امریکی صدر نے تاکید کی کہ امریکہ 2 فروری سے روس کا رویہ تبدیل نہ ہونے کی صورت میں اس سال کے وسط میں سرکاری طور پر آئی این ایف معاہدے سے دستبردار ہونے کیلئے ضروری اقدامات انجام دینا شروع کر دے گا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر روس پر الزام لگایا کہ اس نے آئی این ایف معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ وہ اس قسم کے ہتھیاروں میں کمی کیلئے نیا معاہدہ انجام دینے کیلئے تیار ہیں۔ امریکی صدر نے وائٹ ہاوس میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: "مجھے امید ہے کہ ہم تمام فریقوں کے ساتھ ایک بڑے اور خوبصورت کمرے میں بیٹھ کر نئے معاہدے پر دستخط کر سکیں گے جو گذشتہ معاہدے سے بہت بہتر ہو گا۔ میں یقیناً یہ واقعہ رونما ہونے کا خواہاں ہوں۔”

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …