بدھ , 21 اپریل 2021

انقلاب اسلامی، حیرت تو ہوتی ہے

(تحریر: ثاقب اکبر)

(حصہ اول)

انقلاب اسلامی ایران جو حضرت امام خمینیؒ کی قیادت میں 11 فروری 1979ء کو کامیابی سے ہمکنار ہوا، اسے 11 فروری 2019ء کو 40 سال پورے ہو جاتے ہیں۔ جدید تاریخ میں اور بھی انقلاب آئے ہیں لیکن اس انقلاب کو دوسرے انقلابوں سے یقینی طور پر ماہیت اور مقابلے کے اعتبار سے خصوصیت اور انفرادیت حاصل ہے۔ جدید تاریخ میں ایک انقلاب فرانس قابل ذکر ہے اور دوسرا اشتراکیت کا انقلاب، جس کا پہلا مرکز ماسکو قرار پایا۔ فرانس کا انقلاب بھی عوامی انقلاب تھا اور اس نے بھی پورے نظام کو تبدیل کرکے رکھ دیا۔ البتہ رفتہ رفتہ فرانس ایک استعماری قوت میں ڈھل گیا اور اس وقت اسے سرمایہ داری دنیا کے ایک ستون کی حیثیت حاصل ہے۔ اشتراکی انقلاب 70 برس بعد اپنے مرکز سے ہی اکھڑ گیا۔ ماسکو نواز چین کی اشتراکیت کو شروع سے ہی ترمیم پسند قرار دیتے تھے۔ البتہ آج بھی چین میں یک جماعتی نظام نافذ ہے اور اشتراکی اصولوں سے بہت حد تک گریز کیا جا چکا ہے۔ اشتراکی نظام نے دنیا کے بہت بڑے حصے کو متاثر کیا اور 70 برس تک سرمایہ داری نظام کا سینہ تان کر مقابلہ کیا۔ ایشیاء، افریقا اور یورپ کے بہت سے ممالک میں اس کا غلغلہ رہا، کئی ایک ممالک پر اس کا اقتدار قائم رہا، لیکن ہونی کو کون ٹال سکتا ہے، آخر کار زوال آشنا ہوا۔ روس اپنے تئیں مشکلات کے ایک سیاہ دور سے نکل کر اب پھر صفحہ عالم پر ایک قوت کے طور پر ابھر رہا ہے، لیکن اب وہ ایک اشتراکی قوت نہیں۔

انقلاب اسلامی ایران کو جو مشکلات پیش آئیں، شاید ان میں سے کسی انقلاب کو پیش نہیں آئیں۔ پہلے مرحلے میں تو سرمایہ داری اور اشتراکی نظام کے تحت تمام ملکوں نے اس کے خلاف محاذ آرائی میں حصہ لیا اور اس کے مخالفوں کی پیٹھ ٹھونکی، البتہ امام خمینی امریکا کو شیطان بزرگ کا لقب دے چکے تھے۔ امریکا نے اس لقب کا اپنے آپ کو پوری طرح سے حقدار ثابت کر دیا اور دنیا کو ایران کے گرد گھیرا تنگ سے تنگ کرنے پر مجبور کر دیا۔ امریکا نے ایران پر ایسی ایسی ستم انگیز پابندیاں عائد کیں کہ کوئی اور ملک ہوتا تو کب کا گھٹنے ٹیک چکا ہوتا۔ سب سے پہلے تو شرق و غرب نے ایران کے ہمسایہ ملک عراق کے حکمران صدام کی پیٹھ ٹھونکی اور ایران پر حملہ کرنے کے لیے ابھارا۔ 8 سال ایک ویران گر اور ہولناک جنگ کا سلسلہ جاری رہا۔ علاقے کی رجعت پسند شہنشاہیت اور آمریت نے صدام کا پوری طرح سے ساتھ دیا۔ دولت اور اسلحہ سے یاری اور یاوری کو پہنچے، لیکن ایران نے سر نہیں جھکایا۔

اس جنگ کے پس منظر میں یہ جاننا ضروری ہے کہ ایران کی باقاعدہ فوج سابق شاہ ایران کی وفادار تھی اور امریکا کی تربیت یافتہ، اس سے محاذ پر داد شجاعت اور تدبیر رزم آرائی کی کیا توقع کی جاسکتی تھی، جبکہ بڑی جنگی مشینری چلانے کی تربیت تو اسے ہی حاصل تھی۔ انقلاب کے فوری بعد امام خمینی کی خداداد بصیرت نے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی بنیاد تو رکھ دی تھی، لیکن اس کے جوان ابھی تربیت یافتہ نہ تھے اور مقابلے پر عراق کی اعلیٰ تربیت یافتہ فوج اور اس کے بے پناہ اسلحے کا مقابلہ کرنے کی مہارت نہ رکھتے تھے۔ انھیں محاذ جنگ پر لڑنے کی مشق تو کیا تربیت بھی نہ تھی۔ پھر بھی ان کے عشق و ولولہ نے وہ وہ معرکے سر کیے اور وہ وہ منظر دکھائے کہ دنیا ورطہ حیرت میں ڈوب گئی۔ یہ جنگ اس حالت میں لڑی گئی کہ پوری دنیا سے کوئی طیارہ تو کیا ایران جنگ کی ضرورت کے لیے پرندہ بھی نہ خرید سکتا تھا۔ ہر طرح کے اسلحہ کی خریداری پر پابندی تھی، جنھوں نے اسلحہ بیچا تھا، وہ اس کی مرمت کے وعدوں سے مکر چکے تھے۔ دیگر اقتصادی پابندیاں ماسوا تھیں۔

اسی دوران افغانستان میں روسی مداخلت کے خلاف جب مزاحمت شروع ہوئی تو پاکستان کی طرح ایران میں بھی افغان مہاجرین کا ایک سیلاب امڈ آیا۔ حالت جنگ میں ایران کو اسے بھی سنبھالنا تھا۔ مجاہدین خلق نامی تنظیم جسے امریکا کی سرپرستی حاصل تھی، ایران کے اندر سرگرم تھی۔ پے در پے مجاہدین خلق اور دیگر انقلاب دشمن تنظیموں نے اعصاب شکن حملے کیے۔ ایک وقت تو ایرانی پارلیمنٹ کے 72 اراکین کو ایک ہی وقت میں بم دھماکے میں مار دیا گیا۔ ایران کے صدر اور وزیراعظم کو ایک اور بم دھماکے میں شہید کر دیا گیا۔ اس سے پہلے ایک صدر مملکت مجاہدین خلق جسے انقلابی منافقین خلق کہتے ہیں، سے وابستہ پایا گیا۔ اس نے انقلاب کی جڑوں کو کاٹنے کے لیے جو کچھ کیا، وہ اب تاریخ کا حصہ ہے، آخر کار ایک بظاہر منتخب صدر برقعہ پہن کر ایک بیرونی پرواز کے ذریعے فرار کر گیا۔

محاذ پر جنگ آزمائی، شہروں پر جنگ کی مسلط کردہ ہولناک تباہی اور داخلی سیاست پر اس طرح کی وارداتیں پناہ بخدا، لیکن دن بدن انقلاب مضبوط سے مضبوط تر ہوتا گیا۔ امام خمینی اور انقلاب ہر صدمے کو جرات و شہامت سے برداشت کرتے چلے گئے۔ عوام نے امام خمینی سے محبت اور عشق کی انتہاء کر دی، وہ ہر مشکل میں میدان میں رہے۔ امام خمینی کو اپنی محبتوں کا خراج پیش کرتے رہے، قربانیاں دے دے کر انھوں نے انقلاب کو مضبوط سے مضبوط تر کر دیا۔ قربانی کے ایک مرحلے سے گزر کر وہ امام خمینی سے کہتے ”آپ نے بہت بڑے بت کو توڑا ہے اور کلہاڑا ابھی آپ کے کندھے پر ہے۔“ مائیں اپنے بچوں کو شہادت کے لیے یوں آمادہ کرتیں کہ کربلا کی مائیں یاد آنے لگتیں، نوجوان ماؤں سے کہتے کہ ہمیں محاذ جنگ پر جانے کی اجازت دیں، جوان عباس کا واسطہ دیتے اور کبھی علی اکبر کا۔ نوجوان قاسم کا نام لے کر محاذ پر جانے کی تمنا ظاہر کرتے۔ ایسی بھی مائیں تھیں، جنھوں نے اپنے سارے بیٹے اس انقلاب پر قربان کر دیئے اور وہ پھر بھی یہ کہتی ہوئی پائی گئیں کہ میرے اور بھی بیٹے ہوتے تو میں اس انقلاب پر قربان کر دیتی۔ عوام نے معاشی مشکلات بھی ہنس کر سہیں اور انقلاب دشمنوں کو داخل اور خارج میں مایوس کر دیا۔ یہ انقلاب قدم بہ قدم آگے بڑھتا رہا۔ دس برس تک امام خمینی جیسی حکیمانہ قیادت اس انقلاب کو میسر رہی۔

امام خمینی کوئی یک بعدی شخصیت نہ تھے، وہ بیک وقت فقیہ بھی تھے اور مرد عارف بھی تھے، سیاست مدار بھی تھے اور شب زندہ دار بھی، غریب پرور بھی تھے اور خدا پرست بھی، وہ بہادر و شجاع بھی تھے اور کریم و شفیق بھی۔ انھوں نے دنیا کی سیاست میں ہلچل مچا دی۔ بالکل ایک نیا انقلاب، ایک نئی فکر اور نئے اسلوب کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کیا، جو واقعاً اپنی مثال آپ ہے۔ انھوں نے قیادت کا بھی عمدہ نمونہ پیش کیا، بقول شہید صدرؒ کے ”امام خمینی نے ثابت کر دیا کہ علی ؑ ایک شخص نہ تھے بلکہ ایک شخصیت تھے، جو آج بھی زندہ ہے،“ وہ دعوت دیتے تھے کہ ”خمینی میں اس طرح سے جذب ہو جاؤ جیسے وہ اسلام میں جذب ہوچکے ہیں۔“ امام خمینی کے شاگرد شہید مطہری جب پیرس میں امام خمینی سے مل کر واپس آئے تو انھوں نے کہا کہ ”میں ایک ایسے شخص سے مل کر آیا ہوں کہ وہ جو کہتا ہے اس پر ایمان رکھتا ہے۔“

حقیقت یہ ہے کہ یہ انقلاب امام خمینی کے عشق الٰہی کے جلووں سے عبارت ہے۔ ان کی عارفانہ شاعری دلوں کو گرماتی اور اہل ہنر سے خراج عقیدت وصول کرتی ہے۔ ان کی خطابت خطیبوں کو ہنر سکھاتی ہے، ان کی تفسیر بیانی قرآن کے بطون سے آشنا کرتی ہے، ان کی فقہ میں تازہ بصیرتیں اسلامی فقہ میں موجود وسعتوں سے آشنا کرتی ہیں۔ ایسی شخصیت کی قیادت ایک انقلاب کو میسر آجانا واقعاً دنیا کو انگشت بدنداں کر دینے کے لیے کافی تھی۔ یہ انقلاب امام خمینی کے بعد اس وقت تک 30 برس گزار چکا ہے، لیکن کہیں تھکا ماندہ دکھائی نہیں دیتا بلکہ ہر روز قدم کچھ آگے بڑھا رہا ہے، دشمن بھی نئے سے نئے جال اور نئے سے نئے دام آزما رہا ہے اور دوست بھی نئی سے نئی ہنرمندی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ کئی محاذوں پر رقیب مضمحل دکھائی دیتا ہے اور کئی محاذوں پر اپنے آپ کو حوصلہ مند ظاہر کرنے کے درپے معلوم ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …