جمعہ , 23 اپریل 2021

حج اخراجات میں حکومتی اضافہ اور سماجی رویہ

(تحریر: طاہر یاسین طاہر)

عبادات اللہ اور بندے کا براہِ راست معاملہ ہے۔ اس میں کوئی دوسری رائے ہے ہی نہیں۔ البتہ یہ بحث موجود رہے گی کہ ریاست اور مذہب ہم رکاب رہیں یا الگ الگ۔ بارہا تحریر کیا، مکرر لکھتا ہوں کہ ہم سماجی حیات کے نازک مرحلے میں سانس لے رہے ہیں۔ یک رخے معیار کے مارے لوگ، ہیجان کو یہاں اور ہمیں ہیجان میں مزا آتا ہے۔ شاید سماج اور ہیجان ایک دوسرے کے عادی ہوچکے ہیں۔ سنسنی خیزی کے سوا کوئی دوسری چیز ہمیں بھاتی ہی نہیں۔ ہمارے ہاتھ وہ تلوار ہے جو گردنیں اڑانے سے زیادہ خطرناک ہے۔ فتویٰ گری کا ہنر۔ سیاست کاری اب عیار لوگوں کا کام ٹھہرا۔ گذشتہ تین عشروں کی تاریخ دیکھ لیں، پاکستانی سیاست کی، اپوزیشن نے حکومت کے ہر کام پر تنقید کرنا فرض اول سمجھا ہوا ہے۔ اسی طرح ہر حکومت خود کو پاکستانی عوام کا مسیحا اور اپنے سے پہلے والوں کو لٹیرا کہتی آرہی ہے۔ یہی تاریخ ہے، یہی کہانی ہے، جو بار بار دہرائی جاتی ہے۔ البتہ کردار بدلتے آرہے ہیں۔

مذہب اور دینیات کے فلسفہ پر بڑی بڑی بحثیں کرنے والے یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ تمام الہٰی مذاہب کا مرکزی نکتہ انسانی حیات میں نظم لا کر ایک معبود کے سامنے اسے سجدہ ریز کرنا ہے۔ جدید ریاستی نظام جو دنیا نے اپنے لیے چنا ہوا ہے، اسے جمہوریت کہتے ہیں۔ بدقسمتی سے کسی بھی اسلامی ملک میں عملی طور پر جمہوری پریکٹس نہیں ہو رہی۔ بادشاہتیں ہیں، ملائیت ہے یا پھر چند خاندانوں کی "جوان کی ہوئی جمہوریت”، جو ایک دوسرے کی گردنیں فتوے اور کردار کشی کی تلوار سے اتارتی ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل بڑا مستند اور متحرک ادارہ ہونا چاہیئے تھا۔ ابھی نئے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز نے اسلامی نظریاتی کونسل کا قبلہ درست کرنے کی ہمت باندھی ہوئی ہے۔ لیکن اصل اس کی یہ ہے کہ اس اہم ادارے کو بھی سیاسی ملائیت کی نذز کر دیا گیا۔ تاریخ کے نوکیلے حقائق اگر کوئی نہ چھاپے تو اس سے حقائق بدل تو نہیں سکتے۔ ہمارے ہاں فتویٰ کا جو عمومی تصور ذہن میں آتا ہے، وہ سخت ترین سزا، نکاح کا ٹوٹ جانا وغیرہ وغیرہ۔

اشعار گنگنانے میں تو ہمارا کوئی ثانی نہیں۔ مجھ سمیت بے شمار اخبار نویسوں کو سیمینارز اور جلسوں میں یہ شعر سننے کو ملتا ہے کہ
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لر کر تا بہ خاکِ کاشغر
حضرے علامہ اقبال کے اشعار یا سیاسی جلسوں میں بہار دکھاتے ہیں یا پھر کسی ایسے موقع پر جب لہو گرمانا ہو۔ عملاً ہم جدا جدا ہیں۔ پشاور کی مسجد قاسم سب کو یاد ہے، جہاں عید الفطر کا چاند ایک دن پہلے جلوہ گر ہو جایا کرتا تھا۔ چاند کی اس جلوہ گری کے نتیجے میں ہم دنیا بھر میں تماشا بنتے اور خود بھی اس تماشے سے لطف اندوز ہوتے۔ ابھی حال ہی کی بات ہے، سابق چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار نے پاکستان میں بڑھتی ہوئی آبادی اور وسائل کے تناسب کے حوالے سے ایک سیمینار کروایا اور غالباً کوئی حکم نامہ بھی جاری کیا۔ اس کے جواب میں جماعت اسلامی نے ایک سیمینار کرایا اور اعداد و شمار اور "دلائل” سے ثابت کرنے کی کوشش کی کہ جس ملک یا قوم کی آبادی زیادہ ہوگی، وہی قوم دنیا پر غالب آئے گی۔

ملک اس وقت معاشی بدحالی اور سیاسی ابتری کا شکار ہے۔ یہ رواج عشروں سے چلا آرہا ہے کہ ہر حکومت جانے والی حکومت کو کوسنے سناتے سناتے اپنا وقت پورا کر دیتی ہے۔ یہ غلط پریکٹس ہمارے ہاں کمزور جمہوریت کی علامت ہے۔ دنیا بھر میں ریاستوں کی اولین ترجیح اپنے شہریوں کی زندگیوں میں آسانی لانا ہے۔ اس کی جزئیات درجن بھر سے زائد ہوسکتی ہیں، لیکن یک نکاتی ایجنڈا ہر ریاست کا یہی ہے کہ اپنی زمین اور شہریوں کا دفاع۔ وفاقی کابینہ نے سبسڈی کے بغیر حج پالیسی منظور کر لی ہے۔ا س حوالے سے اپوزیشن نے وہ شور مچایا کہ رہے نام اللہ کا۔ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی جانب سے ایوان بالا کا اجلاس ہوا، جس میں جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے حج اخراجات میں اضافے کے خلاف توجہ دلاؤ نوٹس پیش کیا۔ یاد رہے کہ دو چار دن پہلے وفاقی کابینہ نے حج پالیسی 2019ء کا اعلان کیا تھا، جس کے تحت ملک کے شمالی علاقہ جات کے رہائشیوں کے لیے حج کی فی کس لاگت 4 لاکھ 36 ہزار 975 روپے ہوگی جبکہ جنوبی علاقے (کراچی، کوئٹہ اور سکھر) کے لیے 4 لاکھ 26 ہزار 975 روپے ہوگی۔

ان اخراجات میں قربانی کی لاگت شامل نہیں ہے، قربانی کے ساتھ یہ اخراجات 4 لاکھ 56 ہزار 426 روپے ہوں گے۔ یاد رہے کہ گذشتہ سال کی حج پالیسی کے اخراجات 2 لاکھ 80 ہزار روپے کے مقابلے میں حکومت نے رواں سال کی پالیسی میں 63 فیصد یعنی ایک لاکھ 76 ہزار 426 روپے اضافہ کیا ہے۔ اس سارے معاملے پر سینیٹ اجلاس میں جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ حکومت نے مدینہ کی ریاست بنانے کا دعویٰ کیا تھا، لیکن یہ لوگوں کو مکہ اور مدینہ جانے سے روک رہی ہے۔ دوسری جانب وفاقی وزیر مذہبی امور نورالحق قادری نے حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست مدینہ کا مطلب یہ نہیں کہ لوگوں کو مفت حج کرایا جائے۔ بے شک وزیر مذہبی امور نے درست فرمایا، میرا خیال بھی یہی ہے کہ ریاست مدینہ کا مطلب یہ قطعی نہیں کہ سب کو حکومتی خرچے پر مکہ اور مدینہ بھجوا دیا جائے، بلکہ یہ ایک علامتی بات تھی کہ ملک کا نظام ایسا بنایا جائے گا، جہاں عدل، انصاف اور سماجی حیات آسان و سہل ہوگی، یعنی رہنمائی کا منبع مدینہ کا ریاستی ماڈل ہوگا۔

کیا مدینہ کی ریاست کا تصور یہ ہے کہ حکومت غریبوں سے ٹیکس لے کر امیروں کو حج کروائے؟ کیا مدینہ کی ریاست کا مطلب یہ ہے کہ حکومت ٹیکس کے پیسوں سے قرعہ اندازی کے ذریعے صحافیوں، بیوروکریٹس اور دیگر سیاسی و کاروباری شخصیات کو اللہ کے گھر کا طواف کرائے؟ ریاستیں سبسڈی عوام کو "حاجی” بنانے کے لیے نہیں دیا کرتیں، بلکہ سبسڈی کا سادہ مفہوم لوگوں کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کرنا ہے۔ ہمیں، بجلی، پیٹرولیم مصنوعات، کچن کی ضروریات اور صحت و تعلیم جیسے معاملات پر سبسڈی چاہیئے حج و زکوٰۃ صاحب استطاعت پر فرض ہے، جو اتنے اخراجات برداشت نہیں کرسکتا، وہ صاحب حیثیت نہیں اور جب صاحب حیثیت نہیں تو یقیناً اس پر سے حج کا وجوب اٹھ گیا ہے۔ اس ایشو کو دین و دنیا کی بقا کا ایشو مت بنائیں۔ اسلامی نظریاتی کونسل پڑوسی ممالک کی مثالیں لانے کے بجائے فلسفہ حج اور سبسڈی پر بحث کروائے۔ میرے خیال میں سماج کی نئے سرے سے تربیت بہت ضروری ہے، ہم ہر چیز کو منفی اور فتویٰ گرانہ انداز میں دیکھنے کے عادی ہوچکے ہیں۔ حکومت کو قطعاً حج و عمرہ پیکجز پر سبسڈی نہیں دینی چاہیئے۔ ہاں فلاحی ریاست کا جو خاکہ عمران خان اور ان کی ٹیم کے ذہن میں ہے، اس میں ہنرمندی کے ساتھ رنگ بھرے جا سکتے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …