اتوار , 11 اپریل 2021

بھارتی ریاستی دہشتگردی کیخلاف اظہار یوم یکجہتی

(سراج الحق)

5فروری ملک بھر میں یوم یکجہتی کشمیر انتہائی جوش و جذبہ اور تزک و احتشام سے منایا جاتا ہے۔اس دن پوری پاکستانی قوم مظلوم کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ یک جہتی کے اظہار کیلئے جلسے جلو س ،ریلیوں اور سیمینارز میں کشمیریوں کا ہر سطح پر ساتھ دینے کے عہد کا اعادہ کرتی ہے۔حکومتی سطح پر بھی رسمی تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے جس میں اعلیٰ حکومتی شخصیات کی طرف سے بھارتی ظلم و جبر کے خلاف آواز اٹھانے کے بلند و بانگ دعوے سنائی دیتے ہیں ،بلاشبہ یہ تقریبات اور روایت انتہائی مبارک اورقابل تحسین ہیں لیکن بحیثیت قوم ہمیں جائزہ لینا اور اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا کہ کیا ہم ان توقعات اور امیدوں پر پورا اترتے ہیں جو کشمیری شہداء کی مائوں بہنوں اور بیٹیوں نے ہم سے لگا رکھی ہیں۔کشمیری شہدا قبر میں بھی اپنے جسموں پر پاکستان کے سبز ہلالی پرچم لپیٹ کر اترتے ہیں مگر ہمارے حکمران بھارت سے دوستی اور تجارت کے لیے کشمیری شہدا کے خون سے غداری کررہے ہیں۔ پاکستانی قیادت اور قوم کی آنکھیں کھولنے کیلئے مودی کا یہ بیان کافی ہے کہ خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے اور یہ بیان اس نے طوطے کی طرح کئی بار دہرایا ہے۔مودی کشمیر میں ہمار ا خون بہارہا ہے اور پاکستان کے حصہ کا پانی بند کرکے پاکستان کو بنجر صحراء بنانے کے ایجنڈے پر کاربند ہے۔کشمیر کے لوگ مزاحمت نہ کرتے تو بھارت اب تک کئی بیراج اور ڈیم بنا چکا ہوتا،موجودہ پنجاب اور سندھ ریگستان کا منظر پیش کررہا ہوتا،کشمیریوں نے جانوں کا نذرانہ پیش کرکے پاکستان کو سیراب کرنے والے دریا?ں کی حفاظت کی اور پاکستان کو بنجر ہونے سے بچایا۔پنجاب اور سندھ کی لہلہاتی فصلوں میں پانی کے ساتھ ساتھ کشمیریوں کا خون بھی شامل ہے۔کشمیری بھارت کا راستہ نہ روکتے تو پاکستان کے اندر ہزاروں کلبھوشن تخریب کاری کررہے ہوتے۔پاکستان کے جغرافیائی تحفظ کیلئے کشمیریوں نے لاکھوں جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔ کشمیری28سال سے بھارتی قابض فوج کے ساتھ برسرپیکار ہیں ، ہزاروں نوجوان بھارت کے عقوبت خانوں میں اذیت ناک اور انسانیت سوز سزائیں بھگت رہے ہیں،کشمیریوں کی عزتیں محفوظ نہیں رہیں ،مساجد اور مدارس اور کھیتو ں اور کھلیانوں کو نذرآتش کیا جارہا ہے ،جعلی مقابلوں میں نوجوانوں کو قتل کردیا جاتا ہے اور زخمیوں کو ہسپتال پہنچانے کی بجائے تیل چھڑک کر زندہ جلا دیا جاتا ہے ،برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد سے بھارتی فوج کے ظالمانہ ہتھکنڈوں میں بے انتہاء اضافہ ہوچکا ہے لیکن کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو یہ ظلم و جبر اور حیوانیت ٹھنڈا نہیں کرسکی۔تحریک آزادی میں اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان اور اساتذہ شامل ہوگئے ہیں ،گزشتہ سال کے دوران پانچ پی ایچ ڈیز جام شہادت نوش کرچکے ہیں۔ کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی کا سلسلہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا لیکن اس پر عالمی برادری کی مسلسل خاموشی اور بھارت کو اس جبر و اتبداد سے روکنے کی کوئی کوشش نہ کرنا انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔ برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد سے پوری وادی میں کرفیوکاسماں ہے۔ مقبوضہ کشمیر بھارت کے لیے ایک آتش فشاں بن چکاہے جو کسی وقت بھی پھٹ سکتا ہے۔ بھارتی فوج نے ہزاروں لوگوں کو زخمی اور پیلٹ گنوں سے اندھا کر دیاہے۔

بھارت نے پاکستان پر تین جنگیں مسلط کیں اور کشمیریوں کی نسل کشی کے لیے 70سال سے جارحیت کررہاہے مگر عالمی برادری نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔قابض فورسز کی طرف سے ممنوعہ پیلٹ گن کے استعمال پر بھی عالمی برادری کا ضمیر نہیں جاگا۔

مودی اور ٹرمپ کی دھمکیوں سے ہم ڈرنے والے نہیں ،پانچ فروری کو دنیا بھر میں نہ صرف پاکستانی اور کشمیری بلکہ کشمیریوں پر ہونے والے ظلم و جبر اور بھارتی کے ریاستی دہشت گردی کے خلاف امن پسند یوم یکجہتی کشمیر منائیں گے۔یہ طے ہے کہ بھارت کشمیر پر اپنا قبضہ برقرار نہیںرکھ سکتااسے آج یا کل کشمیر سے ذلیل و خوار ہو کر نکلناپڑے گا۔

بھارت دونوں طرف کے کشمیریوں کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کرسکتا۔ بھارت کیساتھ پاکستان کے تعلقات کا راستہ کشمیر سے گزرتا ہے۔ اگر بھارت مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے آگے نہیں بڑھتا تو ہمیںکیا ضرورت ہے کہ ہم بھارت کے گلے میں بانہیں ڈالتے پھریں۔ پوری دنیا کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کو مانتی ہے جس کی بنیادی وجہ کشمیریوں کی لازوال جدوجہد ہے۔ برطانوی پارلیمنٹ میں بحث اور قرارداد ایک اہم پیش رفت ہے۔وہ دن دور نہیں جب کشمیریوں کو اْن کی امنگوں کے مطابق استصوابِ رائے کے ذریعے بھارتی جبر و تسلط سے آزادی نصیب ہوگی اور وہ خود اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے کے قابل ہونگے۔

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …