ہفتہ , 17 اپریل 2021

شرح سود میں اضافہ: ایف پی سی سی آئی کا اظہار تشویش

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈانڈسٹر ی کے صدرانجینئر دارو خان اچکزئی نے گزشتہ 2 ماہ میں شر ح سود میں 0.25 فیصداضافے پر تشویش کااظہارکرتے ہوئے کہاہے کہ اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں یہ اضافہ افراط زر میں اضافے، پاکستانی کر نسی کی قدرمیں کمی، تجارتی خسارے اور کرنٹ اکاؤنٹ کے خسارے میں اضا فے کی وجہ سے کیاہے۔

انھوں نے کہا کہ مرکزی بینک نے پچھلے ایک سال سے سخت مانیٹری پالیسی اپنایا ہوا ہے اور پچھلے ایک سا ل میں 4.5فیصد شر ح سو د میں اضا فہ کیا ہے۔ مرکز ی بینک کی اس پالیسی سے سرمایہ کا ری میں کمی ہو ئی ہے جس کا اثر معا شی سر گر میوں پر بھی پڑا ہے۔ اعدادوشمار کے مطا بق پاکستان میں سرما یہ کا ری جی ڈی پی کا تنا سب صرف 16.4فیصد ہے جبکہ یہ تنا سب بھا رت میں 30فیصد اور بنگلادیش میں 31فیصد ہے۔ انجینئر دا رو خان نے شر ح سود میں اضا فے کو سر ما یہ کا ری مخالف پالیسی قر ار دیتے ہو ئے کہاکہ اس پالیسی نے اس ما لیا تی سا ل کے پہلے 6 ما ہ میں بڑ ی پیمانے کی صنعتو ں کی گرو تھ میں کمی کی ہے۔

خا ص طو رپر ٹیکسٹائل، فو ڈ، مشروبات، پٹرولیم، لو ہے، دواسازی، الیکٹرانکس اور لکٹری کی صنعت پرمنفی اثرات مر تب کیے ہیں۔ دارو خان نے کہاکہ علا قا ئی ممالک کی معیشتو ں کے مقابلے میں پاکستان میں شر ح سو د اس وقت سب سے زیا دہ ہے۔ خا ص طو ر پر بھا رت میں شرح سود 6.5فیصد ، چین میں 4.3فیصد، سر ی لنکا میں 9.0فیصد ، تھا ئی لینڈ میں 1.75فیصد، انڈ ونیشیا میں6.5 فیصد، ملا ئیشیا میں 3.25 فیصد وغیرہ۔ انہو ں نے مز ید کہاکہ اس وقت پاکستان میں افراط زر 6سے7فیصد ہے جو کہ پچھلے سال اسی عر صے میں 3.8 فیصد تھی۔ پاکستان میں افراط زر کی وجہ کا رو با ری لا گت میں اضا فہ ہے ،پا کستان میں افراط زر کی وجہ کا بلندکاروباری لاگت ، یو ٹیلیٹی کی قیمتو ں میں اضا فہ ، انڈسٹریلان پٹس کی قیمتو ں میں اضا فہ اور ضروری اشیاکی کمی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

حکومت نے تیل و گیس کی پیداوار کی ریئل ٹائم نگرانی شروع کردی

اسلام آباد: صوبوں کی جانب سے شفافیت کے مطالبات سامنے آنے کے بعد وفاقی حکومت …