بدھ , 21 اپریل 2021

سعودی عرب کا ’مرد سرپرستی نظام‘ کا جائزہ لینے کا امکان

ریاض(مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب کی جانب سے اس بات کا امکان ہے کہ وہ اس بات کا مطالعہ کرے گا کہ کس طرح اس کے مرد سرپرستی کے نظام کا غلط استعمال کیا جارہا ہے۔سعودی ذرائع ابلاغ نے رپورٹ کیا کہ گزشتہ مہینے ایک 18 سالہ سعودی خاتون سے متعلق تھائی لینڈ ایئرپورٹ والا معاملہ عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنا تھا، جس کے بعد سعودی عرب اس بات کو دیکھے گا۔

خیال رہے کہ شادی کرنے، پاسپورٹ حاصل کرنے اور بیرون ملک سفر کرنے کے لیے ہر سعودی خاتون کے ساتھ ایک مرد ضروری ہوتا ہے، اکثر یہ والد یا شوہر ہوتا ہے لیکن کبھی کبھی انکل، بھائی یا یہاں تک کہ بیٹا بھی ہوتا ہے۔

انسانی حقوق گروپس کہتے ہیں کہ یہ انتظامات خواتین کو دوسرے درجے کے شہری میں تبدیل کرتے ہیں، ساتھ ہی سماجی اور اقتصادی آزادیوں سے محروم رکھنا انہیں تشدد سے زیادہ کمزور بناتا ہے۔

انگریزی روزنانہ سعودی گیزٹ کے مطابق سعودی پبلک پراسیکیوٹر سعود الموجب کا کہنا تھا کہ ان کا دفتر ‘ان افراد، جن میں خواتین، بچے یا والدین ہوں، ان کے تحفظ میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گا جن کے ساتھ سرپرستی کے اختیار کا غلط استعمال کرتے ہوئے غیر منصفانہ سلوک کیا جاتا ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ان کا دفتر بہت کم تعداد میں سرپرستی سے متعلق شکایات موصول کرتا ہے اور یہ بغیر تفصیلات کے ہوتی ہیں۔دوسری جانب اس تمام معاملے پر حکومتی کمیونیکیشن دفتر کی جانب سے فوری طور پر جواب نہیں دیا گیا۔

اس حوالے سے سرگرم کارکنان کہتے ہیں کہ متعدد سعودی خواتین ڈرتی ہیں کہ بدسلوکی کے بارے میں پولیس کو رپورٹ کرنا ان کی زندگی کو مزید خطرے میں ڈال دے گا۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ سرپرستی کو ختم ہونا چاہیے، جو گزرتے برسوں میں ختم ہورہا ہے لیکن اس کی طاقت ابھی بھی باقی ہے۔

ریاست میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے کچھ آزادیاں دی گئی ہیں لیکن اسے اختلاف رکھنے پر کارروائی سے مشروط کردیا ہے۔محمد بن سلمان نے گزشتہ برس اس بات کا اشارہ کیا تھا کہ وہ سرپرستی نظام کے خاتمے کے حامی ہیں لیکن وہ اس کی منسوخی سے رک گئے تھے۔

یہ بھی دیکھیں

میزائل تجربے پر تنقید : شمالی کوریا نے اقوام متحدہ پر چڑھائی کردی

شمالی کوریا نے میزائل ٹیسٹ کے بعد پابندیوں کی تجویز پر اقوام متحدہ پر چڑھائی …