پیر , 12 اپریل 2021

ایٹمی عدم پھیلاؤ کا معاہدہ، امریکا کی دست برداری کی کوشش

امریکا نے سرد جنگ کے زمانے میں جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے اہم بین الاقوامی معاہدے سے یک طرفہ طور پر دست بردار ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔یہ معاہدہ جسے انٹرمیڈی ایٹ رینج نیوکلیئر فورسز ٹریٹی کہا جاتا ہے، 1987ء میں اس وقت کے امریکی صدر رونلڈ ریگن اور سوویت یونین کے سربراہ میخائل گورباچوف کے درمیان طے پایا تھا۔ درمیانی سطح تک مار کرنے والے جوہری ہتھیاروں کے اس معاہدے کا مقصد وسیع سطح پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی دوڑ کو روکنا تھا۔

عالمی ماہرین نے اس معاہدے کو ایک سنگ میل قرار دیا تھا۔ حال ہی میں امریکا کا یہ کہنا ہے کہ روس کی جانب سے نصب کیے گئے میزائل اس معاہدے کی خلاف ورزی ہے جب کہ روس نے امریکا کا یہ الزام مسترد کر دیا۔ یاد رہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ برس اکتوبر میں تصدیق کی تھی کہ امریکا جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے اس معاہدے سے دستبردار ہو جائے گا۔ امریکی ریاست نویڈا میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا تھا ہم اس معاہدے کو ختم کرنے جا رہے ہیں اور اس سے دستبردار ہو جائیں گے۔

باور کیا جاتا ہے کہ امریکا پہلے تو اس معاہدے کو چھ ماہ کے لیے معطل کرے گا اور اگر روس اس تنازع کو طے کرنے میں ناکام ہو جائے تو امریکا مستقل طور پر دست بردار ہو جائے گا۔ روسی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا کی اس معاہدے سے دستبرداری ناگزیر ہے اور یہ کہ امریکا کے اس اقدام سے جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کی عالمی کوششوں کو شدید جھٹکا لگے گا تاہم جرمن حکومت کے ترجمان نے کہا ہے کہ روس کی ذمے داری ہے کہ وہ اس معاہدے کو بچانے کے لیے اقدامات کرے۔

برطانوی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ کے مشیر قومی سلامتی جان بولٹن امریکا کو اس معاہدے سے دستبردار کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں جب کہ امریکی محکمہ دفاع اس کوشش کے خلاف ہے۔ برطانوی تحقیقی ادارے رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ نے کہا ہے کہ اس دہائی کے بعد جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کا شدید ترین بحران پیدا ہو گا۔ اگر آئی این ایف معاہدہ ختم ہو جائے تو 1972ء کے بعد پہلی مرتبہ ایسا ہو گا کہ دنیا کسی بھی تخفیف اسلحہ یا جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے بغیر ہو گی۔

تخفیف اسلحہ کا معاہدہ 1987ء میں روس اور امریکا کے درمیان طے پایا تھا۔ گزشتہ روز امریکا اور روس کے نمائندوں نے بیجنگ میں آئی این ایف کو بچانے کی کوشش کی مگر یہ کوشش ناکام ہوگئی۔ امریکا کا اصرار ہے اگر روس نے یورپ میں لگائے گئے میزائل تباہ نہ کیے تو امریکا معاہدے سے الگ ہو جائے گا جب کہ روس نے امریکا کا یہ مطالبہ مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے روس نے میزائل معاہدے کی حدود وقیود کے مطابق لگائے ہیں۔

ادھر پاکستان نے بھی اعلان کیا ہے کہ جوہری ہتھیاروں کو غلط ہاتھوں میں نہیں جانے دیا جائے گا۔ واضح رہے پاکستان وہ ملک ہے جس نے 13 سال پہلے اقوام متحدہ کے جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر دستخط کر دیئے تھے۔بشکریہ ایکسپریس نیوز

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …