بدھ , 14 اپریل 2021

افغانستان اور خطے میں اپنی پالیسی!

(نفیس صدیقی)

18سال کی تباہ کاریوں کے بعد امریکہ افغانستان سے فوجی انخلاء کی منصوبہ بندی کر رہا ہے اور اُن طالبان سے مذاکرات کو ’’افغان مسئلے‘‘ کا حل قرار دے رہا ہے، جن کے خلاف اس نے 18سال پہلے جنگ شروع کی تھی اور پوری دنیا خصوصاً ہمارے خطے کو آگ اور خون کی سرزمین بنا دیا تھا۔ 18سال پہلے پاکستان نے جو غلطی کی تھی، اسی طرح کی غلطی دوبارہ کرنے کا جواز پیدا کیا جا رہا ہے۔ 18سال پہلے امریکی منصوبے کی آنکھیں بند کرکے حمایت کی گئی تھی اور پاکستان کو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جنگ میں جھونک دیا گیا تھا اور اب بھی امریکی منصوبے کو اپنا منصوبہ قرار دینے کے لئے دلائل دیئے جا رہے ہیں۔ ماضی کے تجربات کی روشنی میں یہ بات انتہائی تشویش ناک ہے۔

اب وقت کا تقاضا بھی ہے اور موقع بھی کہ پاکستان اپنی پالیسی بنائے۔ (اپنی پالیسی کا مطلب امریکہ سے تصادم نہیں ہے) اگر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ طالبان سے مذاکرات کی بات پہلے ہم نے کی تھی، اب امریکہ نے اسے تسلیم کر لیا ہے اور یہ ہمارے مؤقف کی فتح ہے تو ہم غلط فہمی کا شکار ہیں۔ امریکہ نے جو پالیسی اپنائی ہے، وہ ہماری پالیسی نہیں ہے۔ یہ امریکہ کی پالیسی ہے۔ ہمیں پہلے کی طرح آنکھیں بند کرکے اس کی پیروی نہیں کرنا چاہئے۔ہماری اپنی پالیسی کیا ہونا چاہئے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے، جس کا جواب تلاش کرنا آسان نہیں ہے کیونکہ ہمارے ہاں خارجہ پالیسی اب تک ایسی نہیں بننے دی گئی، جسے ہماری (قومی) پالیسی قرار دیا جا سکے۔ پھر بھی کچھ تجاویز پیش کرنا ’’قومی فریضہ‘‘ سمجھتا ہوں۔ دنیا کی جن اقوام نے اپنا قومی تشخص تسلیم کرایا ہے اور اپنے قومی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے عالمی برادری میں باوقار مقام حاصل کیا ہے، ان قوموں کی خارجہ پالیسی ایک بنیادی اصول پر بنتی ہے۔ وہ یہ ہے کہ اپنے قومی مفاد پر کوئی مفاہمت نہ کی جائے لیکن یہ قومی مفاد، علاقائی اور عالمی امن و استحکام سے متصادم نہ ہو۔ قومی مفاد نہ تو کسی گروہ کے مخصوص مفادات کا تابع ہوتا ہے اور نہ ہی کسی ایک ایشو کے جال میں قومی مفاد کو یرغمال بنایا جاتا ہے۔ اس بنیادی اصول کے پیش نظر ہمیں افغانستان کے معاملے میں یہ اپروچ اختیار کرنا چاہئے کہ افغانستان سے اتحادی افواج کے انخلاء اور وہاں کے مسئلے کے حل کے لئے کسی بھی معاہدے کے خطرناک اثرات سے پاکستان کو محفوظ بنایا جائے۔ افغانستان ہمارا پڑوسی ملک ہے۔ ہماری نیک نیتی سے یہ کوشش ہونا چاہئے کہ وہاں پائیدار امن اور سیاسی استحکام کے حالات پیدا ہوں۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم اس معاہدے یا منصوبے کی حمایت کریں جسے افغانستان کے عوام، سیاسی قوتوں اور اسٹیک ہولڈرز کی حمایت حاصل ہو اور وہ افغانستان کے مسئلے کا خالصتاً افغانی حل ہو۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایسا ممکن ہے کہ اب ہم اپنی پالیسی بنا سکیں؟

اپنی پالیسی بنانے کے تاریخی مواقع ہیں۔ دنیا میں طاقت کا توازن تبدیل ہو رہا ہے۔ یک قطبی دنیا (یونی پولر ورلڈ) کا خاتمہ ہو رہا ہے۔ امریکہ کی واحد سپر پاور کی حیثیت ختم ہو رہی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ امریکہ کے عالمی کردار کو غیر ضروری قرار دے رہے ہیں اور سب سے پہلے امریکہ کی بات کر رہے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اپنا عالمی کردار محدود نہیں کر رہا بلکہ عالمی سطح پر اس کی وہ حیثیت نہیں رہی اور وہ اپنی حیثیت بحال کرنے کے لئے عالمی سیاست میں نیا جال بچھا رہا ہے۔ ’’دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ‘‘ شروع کرتے وقت زیادہ تر قوتیں امریکہ کے اس کھیل سے نکل چکی ہیں۔ امریکہ اب کمزور پوزیشن میں ہے اور امریکی صدر ٹرمپ عالمی تنہائی کا شکار ہیں۔ انہوں نے یہ تاثر ختم کر دیا ہے کہ امریکی صدر ایک عالمی لیڈر ہوتا ہے۔ اب عالمی سیاست میں چین اور روس جیسے دو نئے کھلاڑی میدان میں آگئے ہیں۔ قیام پاکستان کے کچھ عرصے بعد امریکی کیمپ میں شامل ہونے والے مجبور اتحادی کی حیثیت سے اب پاکستان کے لئے مواقع ہیں کہ وہ اپنے قومی مفاد کے مطابق اپنے مستقبل کی حکمت عملی طے کرے۔ لیکن ان مواقع کے ساتھ خطرات اور چیلنجز بھی موجود ہیں۔ اس لئے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا یہ مشورہ صائب ہے کہ پاکستان کو بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔

اپنی پالیسی بنانے کے لئے ضروری ہے کہ کچھ باتوں کو ضرور مدنظر رکھا جائے۔ امریکہ نے جن طالبان کے خلاف 18سال پہلے جنگ شروع کی تھی، اب وہ افغانستان سمیت اس پورے خطے کو ان کے حوالے کرنا چاہتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ 18سال تک افغانستان میں طالبان کا خاتمہ نہیں ہوا بلکہ امریکی کانگریس کے لئے افغانستان کی صورت حال پر رپورٹ تیار کرنے والے ادارے ’’اسپیشل انسپکٹر جنرل آف افغانستان ری کنسٹرکشن‘‘ (SIGAR) نے رپورٹ دی ہے کہ افغانستان کی حکومت کا افغانستان کے علاقوں اور آبادی پر کنٹرول کم ہوتا جا رہا ہے۔

افغان مسئلے کے حل کے لئے روس اور ایران بھی کود پڑے ہیں اور وہ بھی ہماری طرح ان طالبان کو زیادہ اہمیت دے رہے ہیں، جو ان کے نزدیک ’’اچھے‘‘ ہیں لیکن وہ ہمارے لئے کسی بھی طرح اچھے نہیں ہیں۔ اس طرح امریکہ، روس اور ایران نے جن طالبان کو ’’ENGAGE‘‘ کیا ہوا ہے، وہ بھی ہمارے اچھے طالبان نہیں ہیں کیونکہ وہ ان کے اچھے یا پرانے دشمن طالبان ہیں۔ اگر افغان حکومت اور عوام خصوصاً نمائندہ سیاسی قوتیں جن طالبان سے مذاکرات کریں گی، ان پر اصولاً ہمیں کوئی اختلاف نہیں ہونا چاہئے لیکن افغان حکومت اور عوام کا کردار ان ’’امن مذاکرات‘‘ میں نہ ہونے کے برابر ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ امریکہ طالبان کے ساتھ مذاکرات اس شرط پر کر رہا ہے کہ وہ ’’داعش‘‘ جیسی ابھرتی ہوئی نئی دہشت گرد تنظیم کا راستہ روکیں گے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امریکہ اور اس کی نیٹو اتحادی افواج افغانستان میں طالبان کو ختم نہیں کر سکی ہیں تو طالبان کیونکر داعش کا راستہ روکیں گے؟اب یوں محسوس ہو رہا ہے کہ اس خطے میں نیا کھیل شروع ہو رہا ہے۔

طالبان کی جگہ ’’داعش‘‘ اب نیا ’’فیکٹر‘‘ بن سکتا ہے۔ جس طرح طالبان نے امریکی ایجنڈے کو 18سال تک پورا کیا، اسی طرح اب داعش اس ایجنڈے پر کام کرے گی۔ میں آج تک ایک امریکی تھنک ٹینک کی رپورٹ نہیں بھول سکا کہ آئندہ 20سال تک دہشت گردی کا خطرہ برقرار رہے گا۔ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ طالبان مذاکرات کر رہے ہیں اور دہشت گردی ختم ہوجائے گی تو وہ اس رپورٹ کو مدنظر رکھے۔ خطرات کے باوجود ہمیں اس تاریخی مواقع سے فائدہ اٹھانا ہے۔ ہمیں اپنی پالیسی بنانا ہے۔ہمیں سیکورٹی خدشات پر بھی نئی قومی پالیسی نہیں بنانی بلکہ ہمیں ایران سے سبق حاصل کرنا ہے، جس کو ہم سے زیادہ سیکورٹی خدشات ہیں، ہمیں اپنی پارلیمنٹ کے اندر اور باہر کی سیاسی قوتوں کو اعتماد میں لینا ہے اور حتمی پالیسی پارلیمنٹ کی منظوری سے بنانا ہے اور آخر میں ہمیں چین، روس، ایران، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، افغانستان اور دیگر پڑوسیوں اور ہمسایہ ممالک کو اعتماد میں لینا ہوگا تاکہ مشترکہ پالیسی بنائی جا سکے، جو امریکہ کے نئے ایجنڈے کو غیر مؤثر بنا دے۔بشکریہ جنگ نیوز

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …