منگل , 13 اپریل 2021

میڈیا بحران ۔۔۔ ذمہ دار کون؟

(مجاہد بریلوی)

کیا پاکستانی میڈیا میںموجود بحران کی ذمہ دار صرف تحریک انصاف کی حکومت ہے؟ جس کی ایڈورٹائزنگ پالیسی نے اُسے پاکستانی صحافت کو تاریخ کے سب سے بڑے بحران سے دوچار کردیا ہے ا ور جس کے سبب ہر دوسرے دن کسی اخبار اور چینل کی بندش اور سینکڑوں ملازمین کی برطرفیوں سے صحافتی دنیا میں ایک بھونچال آیا ہوا ہے۔بنیادی طور پر اس وقت میڈیا کے تین اسٹیک ہولڈر ہیں۔ حکومت،میڈیا مالکان اور تیسرے ان اداروں میںکام کرنے والے ملازمین ۔ الیکٹرانک میڈیا آنے سے پہلے ایک چوتھا بڑا فریق بھی ہوا کرتا تھا اور وہ تھیں اخباری کارکنوں کی تنظیمیں جنہیں معروف معنوں میں ’’ٹریڈ یونین ‘‘بھی کہہ لیں۔قیام پاکستان کے بعد ہی سے یہ اخباری ٹریڈ یونین اتنی طاقت ور ہوتی تھیں کہ ان کے آگے میڈیا مالکان کو بھی جھکنا پڑتا تھا اور مالکان اخبارات کو بھی۔۔ ۔ ابھی تک یادداشت میں محفوظ ہے کہ جب پیپلز پارٹی کی پہلی حکومت میں 1974ء کے اریب قریب جماعت اسلامی کے اخبار ’’جسارت‘‘ پر پابندی لگی اور ان کے مدیر کو گرفتار کیا گیا تو نظریاتی مخالفت کے باوجود اُس وقت کی پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے جس کے قائد کٹر مارکسسٹ معراج محمد خان برنا تھے، سارے ملک کے اخبارات میں قلم چھوڑ ہڑتال کر کے ایک دن کے لئے اخباری دفاتر میں تالے ڈلوائے تھے ۔اور جس کے سبب تاریخ میں پہلی بار کوئی اخبار شائع نہ ہوسکاتھا۔اسی طرح جنرل ضیاء الحق کے دور میں جب پیپلز پارٹی کے اخبار ’’مساوات‘‘ پر پابندی لگی تو ڈھائی ماہ تک سینکڑوں صحافیوں نے لاہور اور کراچی میں گرفتاریاں دے کر ضیاء کی مارشل لاء حکومت کو جھکنے پر مجبور کردیا تھا۔یہ وہ کڑا اور سیاہ دور تھا جب مارشل لا ء مخالفین کو کوڑوں جیسی بہیمانہ سزائیں دی جارہی تھیں۔

دنیا کی صحافتی تاریخ میں پہلی بار جب چار صحافیوں کو بھی کوڑے مارے گئے مگر صحافیوں کی تنظیمیں نوے کی دہائی کے آخر تک اتنی مضبوط تھیںکہ سویلین فوجی حکومتیں اتنی آسانی سے خبروں پر پابندی لگانے کی جرأت کرتی تھیں اور نہ ہی اخباری ملازمین کو بھیڑ بکریوں کی طرح نکالا جاتا تھا۔بلا شبہ یہ الیکڑانک میڈیا کی چیختی چنگھاڑتی آمد تھی ۔ ۔ ۔جس نے ساری صحافتی تاریخ کا حلیہ اور چہرہ ہی بگاڑ کر رکھ دیا۔یقینا دہائی اوپر تک میڈیا ہاؤسز کیلئے بھی شاندار دور تھا۔اوراخباری ملازمین کیلئے بھی۔اسکرین کی طاقت کے سبب ان کی سیاسی طاقت میں بھی اضافہ ہوا اور آمدنی میں دن دونی رات چوگنی اضافہ ہوا۔ہر اخبار ی گروپ نے اپنا اپنا چینل تو کھول ہی لیا مگر ان کی شہرت ،طاقت اور دولت میں روز افزوں اضافہ دیکھ کر بڑے بڑے تجارتی اداروں نے بھی میڈیا ہاؤسز کے جھنڈے گاڑ دئیے۔ خدا جھوٹ نہ بلوائے مگر اس دشت نوردی میں چار دہائی گزارنے والے ایک عینی شاہد کی حیثیت سے اپنی غریب معلومات کے باوجود کہہ سکتا ہوں کہ لاکھوں کمانے والے میڈیا ہاؤس کے مالکان کی آمدنی کروڑوں اور سینکڑوں روپے ماہانہ تنخواہ حاصل کرنے والے ملازمین کی تنخواہیں ہزاروں نہیں لاکھوں تک پہنچ گئیں۔اخباری مالکان جو چینلوں کے آنے کے بعد میڈیا مالکان کہلانے لگے اور خاص طور پر ان میں سے ایک کاضرورتذکرہ کرتا چلوں کہ جب محترم میاں نواز شریف وزیر اعظم کی کرسی پر بیٹھے تھے تو انہوں نے کھڑے ہو کرایک بڑے میڈیا گروپ کے مالک کو اپنی کرسی پر بٹھاتے ہوئے کہا ’’یہ کرسی آپ کے میڈیا ہاؤس کے طفیل ملی ہے‘‘ تصو ر میں لاسکتے ہیں کہ اُس میڈیا ہاؤس کا مالک کون سے آسمان پر ہوگا۔

دوسروں کا کیا ذکر خودہم جیسے قلم کی گھسائی کرنے والے بھی اسکرین پر آئے تواتنا مشاہرہ اور مراعات ملنے لگیں جس کا محض خواب دیکھا کرتے تھے ۔(تفصیل میں اس لئے نہیں جاؤں گا کہ سال دو سال سے کم از کم میری دہاڑی تو اپنی اہلیت اور اوقات کے آس پا س آچکی ہے۔)مگر اس ساری صورت حال میں میڈیا ہاؤس کے چار ستونوں میں سے ایک اہم ستون نکل گیا۔اور وہ تھا ا ن میڈیا ہاؤسز کی یونینیں یا دوسرے معنوں میں ٹریڈ یونینیں کہ وہ سارے قلم کی گھسائی کرنیوالے جب لاکھوں کے مشاہروں میں کھیلنے لگے اور اس کے ساتھ ہی’’ چھاتہ بردار‘‘ اینکرز بھی اسکرین پر راج کرنے لگے تو اُن کے پاس اتنا کہاں وقت اور دلچسپی کہ اپنے اپنے اداروں کی یونینوں کی دس روپے کی ممبر شپ لے کر ’’زندہ باد مردہ باد‘‘ میںو قت ضائع کرتے ۔ جہاں ایک جانب اخباری اور پھر میڈیا ہاؤسز کی یونینیں ختم ہوئیں۔وہیں بتدریج حکومتیں ایک بڑے کلائنٹس کی حیثیت سے میڈیا ہاؤسز پر اثر انداز ہونے لگیں۔ اور اس کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ ہماری منظم سیاسی جماعتوں کا سارا محور و مرکز اسکرینیں بن گئیں ۔آج کے آزاد،پاپولر میڈیا کے ظہور کا کریڈٹ سابق فوجی ڈکٹیٹر صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو جاتا ہے۔مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی آزاد پاپولر میڈیا اُن کے زوال کا سبب بھی بنا جب کالے کوٹوں کی تحریک اسکرینوں پر چنگھاڑتی ،ایوان صدر اور جی ایچ کیو کو ہلا رہی تھی۔2008ء میں پیپلز پارٹی اور 2013ء میں مسلم لیگ ن کی ’’کامیابی‘‘ کا سارا کریڈٹ بھی ’’میڈیا ہاؤسز‘‘ کو دیا گیا۔جن کے مالکان اور اینکروں کے سروں میں یہ سودا سماگیا کہ ہم حکومتیں لابھی سکتے ہیں اور گرا بھی سکتے ہیں۔

تحریک انصاف کے دھرنے اور محترم عمران خان صاحب کی سیاسی طور پر دیو مالائی شخصیت بننے میں بھی اسکرینوں کی وہ کوریج تھی جس میں گھنٹوں ،شریفوں اور زرداریوں کے، معذرت کے ساتھ، بازاری زبان میں اسکرینوں پر کرپشن کے حوالے سے کپڑے اتار رہے ہوتے تھے۔ جولائی 2018ء میں تحریک انصاف کو وفاق اور پنجاب میں جو کامیابی ملی اُس کا کریڈٹ خان صاحب کو کم ،اسکرینوں پر اُن کی گھنٹوں شاندار پرفارمنس کو زیادہ جائے گا۔اور پھر یہ بھی دلچسپ بلکہ المناک اتفاق ہے کہ اسی دن سے میڈیا میں بحران کا آغاز بھی ہوا۔ہر شعبے کے سارے کے ساروں کو کرپٹ کہنے اور سمجھنے والے poor چند ہزار لینے والے بھی لپیٹے میں آگئے۔اوروہ بھی سینکڑوں نہیں ہزاروں میں۔یہاں تک پہنچا ہوں تو صفحہ تمام ہورہا ہے اور بقول شخصے ’’مداح‘‘باقی ہے۔اوپر کی سطروں میں جو کچھ لکھا وہ حال کی اور واقعاتی تحریر ہے۔اصل میں پاکستانی میڈیا آج جس بحران سے گزر رہا ہے۔وہ سال دو سال کی نہیں ۔سالوں بلکہ دہائیوں کی بات ہے۔مگرخود اخباری بلکہ میڈیا ملازمین نے بھی پھلتے پھولتے میڈیا کے زوال میں جو کردار ادا کیا ہے اُسے آئندہ کے کالم پر اٹھائے رکھتا ہوں ۔ (جاری) بشکریہ 92 نیوز

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …