بدھ , 13 نومبر 2019

مذاکرات مثبت: افغان جنگ کوئی فریق اپنی طاقت سے نہیں جیت سکتا

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک)افغانستان میں موجود ایک اعلیٰ امریکی کمانڈر کا کہنا تھا کہ طالبان کے ساتھ سیاسی مذاکرات افغانستان میں امریکی معرکہ کے اختتام کا ایک اہم حصہ ہے۔جنرل اسکاٹ ملر نے اے بی سی نیوز کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ نہ ہی امریکا اور نہ ہی طالبان اس پوزیشن میں ہیں کہ وہ جنگ جیت سکیں لہٰذا یہ سیاسی حل کی طرف دیکھنے کے لیے ضروری ہے۔

خیال رہے کہ جنرل اسکاٹ ملر 2002-2001 میں افغانستان میں ایک نوجوان افسر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں جبکہ اب وہ تمام امریکی اور نیٹو فورسز کے کمانڈر ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ‘میں سمجھتا ہوں کہ سیاسی مذاکرات مثبت ہیں کیونکہ کوئی بھی فریق اپنی عسکری طاقت سے نہیں جیت سکتا اور اگر کوئی فوجی طاقت سے نہیں جیت تو آپ کو ادھر سیاسی حل کی طرف بڑھنا چاہیے’انٹرویو میں جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں امریکی معرکے کے اختتام میں طالبان ایک اہم حصہ ہیں؟ جس پر انہوں نے کہا کہ ‘بالکل’ ایسا ہی ہے۔

خیال رہے کہ افغانستان کے لیے امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے دوحہ، قطر اور متحدہ عرب امارات میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کے کئی دور کیے ہیں جبکہ مزید مذاکرات کا بھی امکان ہے۔

جنوری میں ہونے والے مذاکرات کے آخری دور میں انہوں نے صحافیوں کو کہا تھا کہ امریکا اور طالبان کے وفود مذاکرات کے مسودے پر راضی ہوگئے ہیں اور اب کچھ اہم معاملات پر کام کیا جارہا ہے۔

تقریباً 14 ہزار امریکی فوجی اس وقت افغانستان میں موجود ہیں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ان میں سے جلد نصب کے انخلا کا ارادہ رکھتے ہیں۔انٹرویو کے دوران ان سے پوچھا گیا کہ آیا انہیں افواج کو واپسی گھر بھیجنے کے احکامات ملے ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ نہیں۔

جنرل ملر نے واضح کیا کہ افغانستان میں کوئی ایسا معرکہ ختم نہیں ہونے والا جو دہشت گردوں کو ایک محفوظ پناہ گاہ فراہم کرے۔ان کا کہنا تھا کہ ‘ 2001 میں دنیا کو یہ واضح تھا کہ ہم افغانستان میں کیا کر رہے ہیں جبکہ 2019 میں بھی وہاں ہمارا قومی مفاد ہے جس کی حفاظت کی ضرورت ہے’۔

یہ بھی دیکھیں

شام کے ایئر ڈیفینس یونٹ نے فضائی حملہ ناکام بنا دیا

دمشق: شامی فوج کے ائیر ڈیفینس یونٹ نے دارالحکومت دمشق کے نواحی علاقے داریا کی …