پیر , 20 مئی 2019

انقلاب اسلامی ایران اور جمہوریت

(تحریر: سید امتیاز علی رضوی)

اسلام کے نام پر اٹھنے والی تحریکوں کی تعداد کم نہیں ہے۔ ہر اسلامی ملک میں کم و بیش اسلام کے نام پر تحریکیں مختلف ناموں سے چل رہی ہیں یا چل چکی ہیں۔ ان تحریکوں میں سے متعددتحریکیں اسلامی نظام کے نفاذ کے نعرہ کے ساتھ چلی ہیں لیکن ان کی اکثریت ناکامی کا شکار رہی ہے جن سے یہ تاثر اُبھرا ہے کہ اسلامی نظام کی تشکیل عملی طور پر ممکن نہیں۔ مذہبی افراد کا انتشار اور نفرت انگیزی اور مزاجوں میں سختی نے اس تاثر کو اور بھی تقویت دی ہے۔ اس تناظر میں اسلامی نظام کے نفاذ کے نعرے کو ایک مذاق سمجھا جانے لگا ہے خصوصاً اسے مذہبی افراد کی دال روٹی کا ایک ذریعہ قرار دے دیا گیا ہے۔

پاکستان میں یہ سلسلہ قرارداد مقاصد کی منظوری سے شروع ہوا اور اسلامی ریاست، نظام مصطفیٰ، نفاذ شریعت اور کئی دیگر نعروں کے ساتھ میدان میں رہا لیکن صرف چند ظاہری کاسمیٹک تبدیلیوں اور قراردادوں کے کچھ بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ نہیں بن سکا۔ انقلاب اسلامی کی کامیابی سے پہلے ایران بھی اس سے مختلف نہیں رہا تھا۔ درباری علماء کی کمی نہ تھی۔ زمانہ شہنشاہیت میں نہ صرف دربار میں بلکہ ایران کے تمام حساس مقامات پر اخلاقی اقدار کی پامالی کا بازار گرم کیا گیا تھا تاکہ اسلام اور اسلامی نظام کی بات کرنے والوں سے نفرت پیدا ہو۔

ان حالات میں اور ایسے ملک میں اسلامی انقلاب کی کامیابی یقینا ًنا قابل تصور اور غیر معمولی چیز تھی۔ اسلامی ممالک میں اسلام اور مذہبی افراد کی کیفیت اور ایران کی داخلی بے راہ روی دیکھ کر کوئی یہ اندازہ نہیں کر سکتا تھا کہ وہاں اسلام کے نام پر کوئی اسلامی حکومت قائم ہو گی۔ امام خمینیؒ کی قیادت میں 1979 میں دنیائے اسلام کا پہلا عوامی و اسلامی انقلاب رونما ہوا جس کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ کا سب سے طاقتور شاہی نظام حکومت زمین بوس ہوگیا اور نظام جمہوری اسلامی وجود میں آیا۔

انقلاب اسلامی کی کامیابی اور دیگر اسلامی تحریکوں کی ناکامی میں ایک بنیادی عنصر جمہوریت ہے۔ ایران کے اسلامی انقلاب کی تحریک ہو یا انقلاب کی کامیابی کے بعد اس کے راہنماؤں کے رویے سب کے سب اس انقلاب کے اسلامی ہونے کے ساتھ ساتھ جمہوری ہونے کا اعلان بھی کرتے رہے ہیں۔

امام خمینی ؒ اصول پسنداور گہری سوچ رکھنے والے ایک ایسے لیڈر تھے جنہیں عوامی حمایت و تائید پر یقین تھا۔ ایران میں انقلاب کے ابتداء ہی سے امام خمینی نے عوام کے دل جیت لئے تھے اور یہ انقلاب خالصتاً عوامی حمایت و تائید سے ہی کامیاب ہوا تھا۔امام خمینی نے ایران میں اسلامی نظام کی بنیاد رکھ کر دنیا میں نئی حکمرانی کا طریقہ روشناس کرایا تھا جس کی نظیر تاریخ میں پہلے نہیں ملتی۔ آپ نے اسلامی اصولوں پر استوار جمہوریت کو اس نئی طرز حکمرانی کا بنیادی عنصر قرار دیا اور واضح عوامی حمایت کے باوجود ووٹ کے ذریعے عوامی حمایت و تائید حاصل کی اور حالت جنگ میں بھی عوامی پارلیمنٹ اور صدارتی انتخابات منعقد کروائے اور ان میں تاخیر کو نظام اسلامی کے خلاف ایک قدم سمجھا۔ ایک مرتبہ تو صدر، وزیراعظم سمیت پارلیمنٹ کے ۷۲ ممبران کو بم دھماکے سے اڑا دیا گیا تب بھی امام خمینی نے جمہوری سلسلے کو جاری و ساری رکھا اور ہر منصب کے لئے دوبارہ انتخابات کروائے۔

مشرقِ وسطیٰ کے بیشتر ممالک میں چونکہ آمریت کا طوطی بولتا تھا لہذا ایران میں جمہوری بنیادوں پر اسلامی طرز حکمرانی قائم ہونا علاقے کے سب ممالک کے لئے خطرے کی گھنٹی تھی جہاں سے اس نو مولود نظام اسلامی کی دشمنی کا آغاز ہوا اور اسے عرب و عجم یا مسالک کے اختلاف کی جنگ سمجھ لیا گیا۔ اسی لئے ابتداء میں ہی اس پر 8 سالہ جنگ مسلط کی گئی نیز انقلاب کو نقصان پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔ اب دردناک 40 سال گذر جانے کے بعد بھی ایران میں اسلامی تصورات پر مبنی نظام حکومت جس طرح کامیابی سے چل رہا ہے وہ ہر مسلمان کے لئے اطمینان بخش ہے کہ اسلامی اصول نتیجہ بخش ہیں اور ان میں دوام و استقامت بھی ہے۔جدید مغربی تہذیب میں جمہوری نظام حکومت کو ایک بڑی اچھائی سمجھا جاتا ہے لہذا اسلام مخالف مغرب زدہ لوگ اسلامی ممالک میں استبدادی، آمرانہ اور مطلق العنانیت پر مبنی نظام ہائے حکومت پر ہمیشہ تنقید کرتے ہیں اور ایران کے اسلامی جمہوری نظام کے خلاف بھی یہی پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ ایران کا انقلابی نظام حکومت جمہوری نہیں ہے۔

اس طرح یہ اپنی اسلام دشمنی کا اظہار کرتے ہیں۔ متعدد مذہبی لوگ بھی جمہوری نظام ہی کو خلاف شریعت کہہ کر اپنی نادانستگی میں اسلام دشمنوں کی حمایت کر تے ہیں۔ حتی چند نادان دوست بھی ایران کی اسلامی حکومت کو غیر جمہوری قرار دے کر اپنے آپ کو نمایاں کرنے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ اپنے اس عمل سے وہ اس حقیقت کو چھپا لیتے ہیں کہ ایران میں اسلامی انقلاب نے جو پیغام دیا ہے وہ یہ ہے کہ اصلی جمہوری اصولوں کی پرورش اسلام کے سائے ہی میں ہو سکتی ہے۔انقلاب اسلامی ایران جدید دور میں اسلامی تاریخ کا پہلا انقلاب ہے جو عوامی بنیاد پر برپا کیا گیا ہے۔ ایران میں اس انقلاب کے بعد ایک نئے نظام کی تشکیل وتعمیرکے عمل کا آغاز ہوا۔ یہ نیا نظام نہ صرف جمہوری بلکہ مثالی جمہوری اصولوں پر قائم کیا گیا ہے کیونکہ اس کی بنیاد شریعت اسلامی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ اسلامی جمہوریت مغربی ثقافت میں پھلنے پھولنے والی جمہوریت کا عین چربہ ہو بلکہ یہ جمہوریت خود اسلام کے متن سے نکلی ہے۔

انقلاب اسلامی کے موجودہ رہبر آیت اللہ خامنہ ای نے امام خمینی (رہ) کی پچیسویں برسی کے موقع پر فرمایا: کسی کو یہ وہم و گمان نہیں ہونا چاہیے کہ حضرت امام خمینی (رہ) نے انتخابات کو مغربی ثقافت سے اخذ کیا اور پھر اسے اسلامی فکر کے ساتھ مخلوط کردیا کیونکہ اگر انتخابات اور جمہوریت،  اسلامی شریعت کے متن سے اخذ نہ ہوسکتی ، تو امام (رہ) اس بات کو واضح اور صریح طور پر بیان کردیتے۔رہبر کے اس بیان سے واضح ہے کہ انقلاب، اسلامی اصول و روایات پر قائم ہے جن میں سے ایک جمہوریت ہے۔ اسی خطاب میں آپ نے مزید فرمایا: اس سیاسی اور مدنی نظم کی حرکت جمہوریت کی بنیاد پر ہے جو اسی شریعت کا مظہر اور اسی سے برخاستہ ہے،اور عوام بالواسطہ یا بلا واسطہ ملک کے تمام حکام کو انتخاب کرتے ہیں۔آیت اللہ خامنہ ای نے عرب دنیا میں بیداری کی تحریکیں اٹھنے کے موقع پر ایک خطاب میں فرمایا:”وہ چیز جو ان ممالک کیلئے مددگار ثابت ہو سکتی ہے اسلامی جمہوریت کا نظریہ ہے۔

اسلامی جمہوریت کا نظریہ جو امام خمینی رہ کا عظیم کارنامہ ہے ان سب ممالک کیلئے بہترین نسخہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس میں جمہوریت بھی ہے اور اسکی بنیادیں بھی دین پر استوار ہیں”۔اس سے پہلے کہ ہم یہ جائزہ لیں کہ جمہوری اسلامی ایران جمہوریت کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے یا نہیں بہتر یہ ہے کہ اجمالی طور پر جمہوریت اور جمہوری نظاموں کو سمجھ لیا جائے۔کسی بھی جمہوری نظام حکومت میں عوام کو حکومت منتخب کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ جمہوری نظاموں میں عوام کو بنیادی حقوق حاصل ہوتے ہیں۔ منتخب نمائندے اپنے حلقے کی عوام کے سامنے جواب دہ ہوتا ہے۔ اسی طرح افراد پر قانون کی بالادستی جمہوریت کی بنیادی خصوصیت ہے۔

اگرچہ جمہوریت کی جامع تعریف میں خود علمائے سیاست کا بڑا اختلاف ہے، لیکن بحیثیت مجموعی اس سے ایسا نظام حکومت مراد ہے جس میں عوام کی رائے کو کسی نا کسی شکل میں حکومت کی پالیسیاں طے کرنے کے لیے بنیاد بنایا گیا ہو۔ لہذا ہم مذکورہ چار اصولوں پر نظام جمہوری اسلامی ایران کا جائزہ لیتے ہیں یعنی (۱) عوام کو حکمران منتخب کرنے کا حق حاصل ہونا (۲) عوام کو بنیادی حقوق ملنا (۳) عوامی نمائندوں کا اپنی عوام کے سامنے جوابدہ ہونا (۴) افراد پر قانون کی بالادستی ہونا۔ اگر یہ چار اصول اسلامی حکومت میں موجود و رائج ہیں تو ہم اطمینان سے کہہ سکتے ہیں کہ یہ نظام جمہوریت پر یقین رکھتا ہے۔ انقلاب کی کامیابی کے بعد سب سے پہلے جمہوری اسلامی کے قیام کے لئے ایک عوامی ریفرنڈم کرایا گیا۔ اس ریفرنڈم میں کامیابی کے بعد آئین ساز اسمبلی کے انتخابات ہوئے اور ان منتخب نمائندوں نے اسلامی جمہوری اصولوں پر مشتمل ایک نیا آئین مرتب کیا جویکم اپریل 1979 کے دن عوام کے سامنے منظوری کے لئے پیش کیا گیا۔

ایرانی عوام نے بھاری اکثریت سے اس نئے آئین کی منظوری دی۔ جمہوری نظاموں میں آئین کو عوام یا عوام کے نمائندے منظور کرتے ہیں اورایران میں جو آئین اب رائج ہے وہ عوامی منظوری سے نافذ ہوا ہے۔ لہذا اس لحاظ سے ایرانی انقلابی نظام جمہوری اصولوں پر قائم ہوا ہے۔ ایران کے آئین کی رو سے رہبر کا منصب سب سے اعلیٰ اور برتر ہے۔ رہبر کا تعین مجلس خبرگان کرتی ہے جو ایک ماہرین کی منتخب اسمبلی ہوتی ہے اور عوامی ووٹ سے معرض وجود میں آتی ہے۔ یہی منتخب اسمبلی رہبر کے واجد الشرائط نہ رہنے پر اسے عزل بھی کر سکتی ہے۔ امام خمینی کی رحلت کے بعد موجودہ رہبر کا انتخاب مجلس خبرگان نے آئین کے انہی اصولوں کو مد نظر رکھ کر کیا تھا۔ اپنے مقررہ وقت پر یہ منتخب اسمبلی رہبر کے اپنے عہدے پر باقی رہنے یا نہ رہنے کا فیصلہ بھی کرتی ہے۔

صدر جمہوریہ کو بھی براہ راست عوامی ووٹ کے ذریعے منتخب کیا جاتا ہے۔ ایران کے موجودہ رہبرآیۃ اللہ خامنہ ای عوام کی منتخب مجلس خبرگان سے منصب رہبری کے لئے چنے جانے سے پہلے دومرتبہ ایران کے صدارتی منصب پر براہ راست انتخابات کے ذریعے بھاری اکثریت سے منتخب ہوچکے تھے۔ایران میں مقننہ یعنی اسلامی مجلس شوریٰ کا انتخاب ہر چار سال بعد عوام بالغ رائے دہی کے اصول پر کرتے ہیں۔ انقلاب کی کامیابی سے لے کر آج تک ہمیشہ مجلس/پارلیمنٹ کا انتخاب آئینی تقاضوں کے مطابق وقت مقررہ پر ہوتا رہا ہے، چاہے جنگ ہویا امن۔ یہ منتخب صدر اپنی کابینہ کے وزراء کو نامزد کرتا ہے اورعوام کی منتخب مجلس کے سامنے منظوری کے لئے پیش کرتا ہے۔ہر ترقی یافتہ جمہوری معاشرے اورملک کی طرح ایران میں بھی لوگوں کو آئینی آزادی اور بنیادی حقوق حاصل ہیں۔ عدلیہ ،انتظامیہ کے اثر سے آزاد ہے۔

قانونی مساوات بھی ہے اور قانون وآئین کی بالادستی بھی۔ نیچے سے لے کر صدر اور رہبر تک ہر کوئی دستور کا پابند ہے۔ ہرکسی حکومتی عہدہ دار کا کڑا احتساب ہوتا ہے۔ وزرا، صدر اور حکومتی عہدیدار سب پارلیمان کے سامنے جوابدہ ہیں۔صدر جمہوریہ، پارلیمنٹ اور رہبر کے سامنے جوابدہ ہے اور رہبر منتخب مجلس خبرگان کے سامنے جوابدہ ہے۔ کوئی شخص آئین وقانون سے برتر نہیں اوراعلیٰ سے اعلیٰ منصب پر فائز شخص بھی آئین وقانون کے زیردست ہے۔ جمہوری معاشروں میں آئینی آزادی اور بنیادی حقوق کو معاشرے میں خواتین کے کردار سے پرکھا جاتا ہے۔ انقلاب کی کامیابی میں خواتین کے کردار کو انقلابی تحریک کے مظاہروں میں خواتین کے برابر سے شرکت کی قدیم تصاویر اور ویڈیوز سے مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ جس فعالیت سے انقلاب کی کامیابی میں خواتین آگے رہیں اسی طرح انقلاب کی کامیابی کے بعد بھی خواتین ہر میدان میں فعال کردار ادا کرتی رہیں۔

علم و ادب کے علاوہ کھيل کے ميدان ميں بھي آج کے ایران میں خواتين کا کردار قابل توجہ ہے کیونکہ کسی اسلامی ملک میں اس کی نظیر نہیں ملتی البتہ ايراني خواتين کھيل کے وہ مقابلے جہاں اسلامی اصولوں کے برخلاف کوئی کام کرنا پڑے ميں شرکت نہیں کرتی۔اسلامی معاشروں کو عموماً فن و ادب اور سینما کے خلاف سمجھا جاتا ہے جبکہ جمہوری معاشروں کو ہنر و فن کی ترقی کا ضامن مانا جاتا ہے۔ اسلامی ایران نے سینما حتی موسیقی کے میدان میں ترقی کر کے اپنے جمہوری ملک ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ اسلامي انقلاب کے بعد ایرانی سينما ميں اچھی تبديلياں آئي ہيں- موجودہ ایرانی فلميں انقلاب سے پہلے کی فلموں سے قابل قياس ہی نہيں ہيں- البتہ خواتين پردے کے ساتھ کيمرے کے سامنے آتي ہيں- ان کي اداکاري بالکل اسلامي تعليمات کے مطابق ہوتي ہے- اس شعبے ميں خواتين اتني کامياب ہوئي ہيں کہ ان کو بين الاقوامي سطح پر بھي ايوارڈ ملے ہيں-

ايران ميں کئي خواتين فلم دائرکٹر ہيں جن کي بنائي ہوئي فلميں دنيا ميں  مشہور ہوئیں ۔ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد جو نظام حکومت بنایا گیا اسے نظام ولایت فقیہ کے نام سے شہرت ملی۔ یہ نظام ولایت فقیہ چونکہ نظام شہنشاہیت کو ہٹا کر آیا تھا لہذا کچھ لوگ یہ سمجھ بیٹھے کہ یہ بھی آمریت ہی کی کوئی شکل ہے جس میں شہنشاہ کی طرح ایک فقیہ کو مطلق العنان حاکم بنا دیا گیا۔ مغرب نے بھی اس بات کو خوب اچھالا اور ایران میں رائج نظام کو غیر جمہوری نظام کہا گیا اور اسے آمریت ہی سے تشبیہ دی جس سے ایران کے حامی انقلابی لوگ بھی دھوکے میں آگئے اور ولی فقیہ کو بادشاہ ہی طرح سمجھنے لگے۔ ذیل میں انقلاب اسلامی کے بانی امام خمینی کے دو اقوال نقل کرتے ہیں جس سے یہ غلط فہمی دور ہو جانا چاہئیے۔ امام خمینی نے فرمایا: ہم آمریت کا خاتمہ چاہتے ہیں ہم نہیں چاہتے کہ (ہمارے ملک میں) آمریت ہو،ہم چاہتے ہیں کہ ولی فقیہ آمریت کے خلاف ہو، ولایت فقیہ ، آمریت کی ضد ہے نہ کہ آمریت۔ ( صحیفۂ امام، ج۱۰، ص۳۱۱)ایک اور مقام پر آپ نے کہا: خدائی قانون کے علاوہ
کسی کا قانون نہیں چلتا، اس کی حکومت سے ہٹ کر کسی کی حکومت نہیں ہے، نہ فقیہ اور نہ ہی غیر فقیہ کی۔ تمام قانون کے تحت عمل کرتے ہیں، ہم سب قانون کے اجراء کرنے والے ہیں۔ چاہے وہ فقیہ ہو یا غیر فقیہ سب کو قانون کے تحت ہونا چاہئے۔ (صحیفۂ امام، ج۱۰، ص۳۵۳)

اب تک ہم یہ ثابت کر پائے ہیں کہ ایران میں موجود اسلامی نظام حکومت میں جمہوریت کے چار بنیادی اصول اپنی پوری قوت سے موجود ہیں اور وہاں کے حکمران ان اصولوں کی حفاظت بھی کر رہے ہیں اور ان کو محفوظ رکھنے پر زور بھی دیتے ہیں لیکن اب آئیے ایک اور زاویے سے بھی اس نظام کے جمہوری ہونے کا جائزہ لیتے ہیں۔ غیر جمہوری آمرانہ حکومت میں تمام اختیارات ایک ہی شخص کے پاس ہوتے تھے۔ علمائے سیاست نے ریاست کے اختیارات کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہے، مقننہ، انتظامیہ، اور عدلیہ۔ جمہوری طرز حکومت میں یہ تینوں اختیارات کسی ایک شخص یا ادارے میں مرتکز نہیں ہونے چاہئیں، بلکہ تینوں ادارے ایک دوسرے سے آزاد اور خود مختار ہونے چاہئیں۔ چنانچہ جمہوریت میں مقننہ (یعنی قانون سازی) کا اختیار پارلیمنٹ یا اسمبلی کو حاصل ہوتا ہے۔ قانون کے مطابق ملک کے نظم ونسق چلانے کا اختیار جس ادارہ کو حاصل ہوتا ہے اسے انتظامیہ یا عاملہ کہا جاتا ہے جس کا سربراہ صدارتی نظام میں صدر مملکت اور پارلیمانی نظام میں وزیر اعظم ہوتا ہے۔ قانون کی تشریح اور تنازعات کا تصفیہ کرنے والے ادارہ کا نام "عدلیہ” ہے جو ملک کی عدالتوں کی شکل میں وجود میں آتا ہے۔ ایران کی اسلامی حکومت میں بھی یہی تینوں ادارے مکمل خود مختاری کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ منتخب آزاد پارلیمنٹ موجود ہے جو قانون سازی کرتی ہے اور مقننہ کےمعاملات میں انتظامیہ و عدلیہ مداخلت نہیں کرتے اسی طرح انتظامیہ مکمل اختیارات کے ساتھ کام کرتی ہے۔ براہ راست عوامی ووٹ سے منتخب صدر جمہوریہ انتظامیہ کی سربراہی کرتا ہے، اور انتظامی امور کو اپنی کابینہ کے ساتھ مل کر انجام دیتے ہیں۔ ایران کی عدلیہ بھی بے مثال ہے اور مکمل آزادی سے کام کرتی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

یمن جنگ کے نئے باب کا آغاز

(تحریر: امیر مسروری) یمن کی مسلح افواج نے اس سال کے آغاز پر اسے "ڈرون …