پیر , 26 اگست 2019

ایک اور سعودی لڑکی کی برطانیہ میں پناہ

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) ہر برس سینکڑوں سعودی خواتین اپنے ملک سے فرار ہو کر مغربی ممالک میں پناہ کی طلب گار ہوتی ہیں اور وہ اپنے اہلخانہ پر گھریلو تشدد اور جبر کے الزامات لگاتی ہیں،حال ہی میں ایک اور لڑکی راوان نے گھر سے بھاگ کر برطانیہ میں پناہ لے لی ہے۔

سعودی لڑکی راوان کا برطانوی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں کہنا ہے کہ میں بہت ڈررہی تھی اور ہیتھرو میں موجود تھی اور میرے پاس بھاگنے کے لیے چند منٹ باقی تھے،میں نے موقع پا کر بھاگنے کا فیصلہ کیا اور آج برطانیہ میں ہوں۔وہ کہتی ہے کہ میں نے ایک برس پہلے اپنے مذہب کو ترک کردیا تھا اور مجھے عبادات پر مجبور کیا جاتا جو میں نہیں چاہتی تھی،

یادرہے سعودی عرب میں خواتین کے لیے اپنے مردوں کی سرپرستی کا قانون ہے جس کے تحت وہ سفر کے لیے اپنے سرپرست کے بغیر کہیں نہیں جاسکتیں۔خاتون شادی شدہ ہوتو اس کا شوہر سرپرست ہوتا ہے اگر غیر شادی شدہ ہوتو وہ اپنے والد کی سرپرستی میں ہوتی ہے۔

راوان نے کہا کہ سرپرستی کے قانون کے ذریعے میرے والد نے میری زندگی اپنے تابع کررکھی تھی،مجھے کہاں رہنا ہے?کیا پڑھنا ہے ?سب میرے والد کے تابع تھا،چھوٹی چھوٹی باتوں کے لیے اجازت لینے پر مجھے بے عزتی محسوس ہوتی تھی-انہوں نے مزید بتایا کہ العطیبی نامی لڑکے نے برطانیہ میں پناہ لینے میں میری مدد کی،گھر والوں کو جب پتا چلا تو انہوں نے مجھ سے رابطہ کیا لیکن میں نے فون سننے سے انکار کردیا۔

یہ بھی دیکھیں

ظلم و تشدد کے شکار افراد سے اظہار یکجہتی کا پہلا عالمی دن آج منایا جارہا ہے

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) بین الاقوامی برادری آج دنیا بھر میں مذہب اور عقیدے کی بنیاد …