جمعہ , 23 اگست 2019

’’امریکی جانیں اور طالبان‘‘

(نصرت جاوید)

جانے ہم کیوں بھول چکے ہیں کہ ٹرمپ سے کہیں زیادہ اوبامہ کو بھی امریکی افواج افغانستان سے نکالنے کی بہت جلدی تھی۔ اس ہدف کو اپنے آٹھ سالہ دورِاقتدار کے باوجود حاصل نہ کرپایا۔ بالآخر یہ پیغام دیتا ہوا وائٹ ہائوس سے رخصت ہوگیا کہ ’’آنے والی کئی دہائیوں تک‘‘ ہمارا خطہ مستقل بدامنی کا نشانہ بنارہے گا۔

اوبامہ کے مقابلے میں ٹرمپ اتاولی طبیعت کا حامل ہے۔ پل میں تولہ پل میں ماشہ۔ اقتدار سنبھالتے ہی پاکستان کو افغانستان کے حوالے سے بیہودہ زبان میں لکھے ٹویٹس کے ذریعے تڑیاں لگانا شروع ہوگیا۔ اس کے بعد اس نے ایک ’’نئی افغانستان پالیسی‘‘ بھی متعارف کروائی۔

فیصلہ اس پالیسی میں یہ ہوا کہ امریکی فوجی قوت کے بھرپور استعمال کے ذریعے طالبان کو صلح کی التجا کرنے پر مجبور کیا جائے گا۔پاکستان کو ان کی مبینہ ’’سرپرستی‘‘ کی قیمت ادا کرنا ہوگی۔ رعونت بھرے دھونس پر مبنی یہ پالیسی ناکام ہوگئی تو امریکی صدر نے پاکستان کے وزیر اعظم کو ’’دوستانہ‘‘ خط لکھ کر افغانستان کا مسئلہ حل کرنے میں مدد کی درخواست کی۔

اس خط کا متن آج تک ہمارے سامنے نہیں آیا ہے۔اس کی جانب سے مذکورہ خط لکھنے کے بعد افغان معاملے پر کئی حوالوں سے مثبت پیش رفت دیکھنے کوملی۔ محسوس یہ ہوا کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان شاید 2019کے پہلے چھ ماہ ہی میں کوئی معاہدہ ہوجائے گا۔

امریکی افواج اس معاہدے کے بعد افغانستان سے نکل جائیں گی۔طالبان کے اشتراک سے اس کے بعد وہاں ایک عارضی حکومت قائم ہوگی۔ افغانستان میں امن بحال ہونے کے امکانات حقیقت کی صورت اختیار کرنا شروع ہوجائیں گے۔میراجھکی ذہن مگر مطمئن نہ ہوا۔ ٹھوس معلومات تک رسائی نہ ہونے کے باوجود محض ماضی کے تجربات کو ذہن میں رکھتے ہوئے یاد دلانے کی کوشش کی کہ امریکہ میں بھی ایک Deep Stateہوتی ہے۔

ٹرمپ کے اتاولے پن کو وہ کسی نہ کسی طرح ہینڈل کرنے کی کوشش ضرور کرے گی۔میرے کئی دوست جو خارجہ امورپر بااختیار لوگوں سے گفتگو کرکے خبریں اور مضامین لکھتے ہیں میرے جھکی پن کو قنوطیت ٹھہراتے رہے۔ بہت اعتماد سے انہوں نے بلکہ مجھے بتایا کہ 5فروری کی شام امریکی پارلیمان سے State of the Union )SOTU)والا خطاب کرنے سے قبل صدر ٹرمپ پاکستانی وزیر اعظم کو ’’شکریہ‘‘ ادا کرنے والا فون کرے گا۔

اس کے مذکورہ خطاب میں بھی طالبان کو میز پر لانے کے لئے پاکستان کی کاوشوں کا تھوڑا بہت اعتراف ہوگا۔ اس کے بعد اُمید بنے گی کہ امریکی افواج اس سال کے ستمبر ہی سے افغانستان سے نکلنا شروع ہوجائیں گی۔ پاکستان کو افغان سرحد کے حوالے سے سکون بہم ہوجائے گا۔

ٹرمپ کا SOTUوالا خطاب منگل کی رات ہوگیا ہے۔صدر ٹرمپ نے اس سے قبل وزیر اعظم پاکستان کو فون نہیں کیا۔ اس کے خطاب میں بھی پاکستان کا ذکر نہیں ہوا۔افغانستان کے بارے میں فقط دوپیروں پر مشتمل کلمات ادا ہوئے۔ ان کے ذریعے امریکی صدر یہ بڑھک لگاتا محسوس ہوا کہ اس کے فوجیوں کی ’’بہادر(Valor)‘‘کی وجہ سے ’’دوسرا فریق‘‘ گفتگو پر مجبور ہوا۔

اس گفتگو کے بعد ’’ممکنہ سیاسی حل‘‘ کی راہ نکلنے کی امید بندھی ہے۔ امریکی افواج ’’فریق‘‘ سے ممکنہ معاہدہ ہوجانے کے بعد افغانستان سے باہر مگر نکل بھی آئیں تو ’’کائونٹرٹیررازم‘‘ والی جنگ جاری رہے گی۔منگل کے خطاب سے قبل ٹرمپ ایک امریکی ٹی وی نیٹ ورک کو یہ بتاچکا تھا کہ افغانستان سے امریکی افواج تو نکل آئیں گی لیکن وہاں کے معاملات پر کڑی نگاہ رکھنے کے لئے امریکی انٹیلی جنس اس ملک میں مؤثر تعداد میں موجود رہے گی۔

امریکی افواج کی عدم موجودگی کا فائدہ اٹھائے ہوئے ’’دہشت گردوں‘‘ نے افغانستان میں اپنے ٹھکانے قائم کرنے کی کوشش کی تو عراق کے ہوائی اڈوں سے اُڑے جہازوں کے ذریعے ان سے نبردآزما ہوا جائے گا۔مختصراََ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ افغانستان میں امن کی بحالی کا عمل اس سرعت اور آسانی سے آگے نہیں بڑھ رہا ہے جس کی میرے کئی باخبردوست امید دلارہے تھے۔
معاملات کی پیچیدگی کو مزید سمجھنا ہو تو اس حقیقت پر بھی غور کرلیجئے کہ منگل ہی کے دن روس کے دارالحکومت ماسکو میں طالبان نے ان افغان سیاسی رہ نمائوں سے مذاکرات کا آغاز کیا ہے جو اشرف غنی کی حکومت کا حصہ نہیں ہیں۔مذاکرات کے پہلے روز طالبان کے نمائندے شیرعباس ستانک زئی نے جو خطاب کیا اسے کئی ٹیلی وژن چینلوں نے براہِ راست نشر کیا۔ طالبان نے اس خطاب کی مزید وضاحت کے لئے ایک پریس ریلیز بھی جاری کی ہے۔ اس پریس ریلیز کا ایک ایک لفظ قابلِ غور ہے۔

اہم ترین بات یہ ہے کہ طالبان اب بھی خود کو افغان مسئلہ کا ایک ’’فریق‘‘ نہیں بلکہ اس ملک کی باقاعدہ حکومت (امارتِ اسلامی)قرار دینے پر مصر ہیں۔اس ’’امارت‘‘ کی قیادت’’امیر المومنین‘‘ یعنی مولوی ہیبت اللہ کررہے ہیں۔طالبان کا اصرارہے کہ امریکی فوج نے ان کے ملک پر جنگ مسلط کررکھی ہے۔

اس جنگ کے سترہ سال گزرجانے کے باوجود طالبان کی ’’امارت‘‘ افغانستان کے کئی صوبوں میں بدستور موجود ہے۔ وقت آگیا ہے کہ اب افغانستان کے ’’دیگر علاقوں‘‘ میں بھی امن کے قیام کے لئے ان سے بات چیت کی جائے۔ قابض افواج افغانستان سے نکل جائیں۔اس کے بعد ’’افغان علما‘‘ کے تعاون سے ایک ’’اسلامی آئین‘‘ بنے جس کے تحت افغانستان کا ریاستی بندوبست چلایا جائے۔
مضحکہ خیز بات یہ بھی ہے کہ اشرف غنی کی حکومت خود کو ایک ایسی حکومت کہلوانے پر بضد ہے جو اس ’’آئین‘‘ کے تحت چل رہی ہے جو بون کانفرنس کے بعد ہوئے ’’لویہ جرگہ‘‘ کے ذریعے بنایا گیا تھا۔ افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے اس ’’آئینی بندوبست‘‘ کے تحت ہی اپنے ملک پر 13سال حکومت کی۔

کرزئی کی ماسکو میں مذاکرات کی میز پر موجودگی کے ہوتے ہوئے طالبان نے مگر مذکورہ آئین کو ’’غیر اسلامی‘‘ اور قابض افواج کا مسلط کردہ ریاستی بندوبست ٹھہرایا۔ واضح الفاظ میں اسے قبول کرنے سے انکار کردیا۔طالبان یہ طے کرچکے ہیں کہ ٹرمپ افغانستان سے اپنی افواج کو نکالنے کے لئے بے چین ہے۔ اسی باعث وہ سفارتی زبان میں Position of Strengthسے گفتگو کررہے ہیں۔

امریکہ کا بنیادی مسئلہ مگر یہ ہے کہ وہ افغانستان سے نکلتے ہوئے ’’ویت نام‘‘ کی تاریخ دہرانا نہیں چاہتا۔ اسے ’’باعزت‘‘ انخلاء درکار ہے۔ طالبان میدانِ جنگ میں ’’کامیاب‘‘ رہنے کے اعتماد کی بدولت ’’باعزت‘‘ واپسی کی منہ مانگی قیمت طلب کررہے ہیں۔ ٹرمپ کے ہوتے ہوئے بھی لیکن امریکہ ان کی “Dictation”کے تحت کام کرنا گوارہ نہیں کرسکتا۔

معاملہ پیچیدہ ہوتا جائے گا اور شاید یہ پیچیدگی ہی امریکی Deep Stateکی تمنا ہے۔ایک عام پاکستانی ہوتے ہوئے ایمانداری کی بات ہے کہ میں نے ربّ کا شکریہ ادا کیا کہ ٹرمپ نے SOTUسے قبل پاکستانی وزیر اعظم کو ’’تھینک یو‘‘ والا فون نہیں کیا۔ اس کے SOTUمیں بھی پاکستان کو نظرانداز کرنا ہمارے لئے خیر کی خبر ہے۔

و ہ ہمیں ’’شکر یے‘‘ کا فون کردیتا تو طالبان کو لچک پر آمادہ کرنے کی ذمہ داری ہمارے سرتھونپ دی جاتی۔ پیچیدگیاں حل نہ ہوتیں تو ایک بار پھر افغانستان میں امریکہ کی مشکلات کا واحد سبب پاکستان کو ٹھہرادیا جاتا۔ ہمارے لئے ’’امریکی جانیں اور طالبان‘‘ والارویہ اپنائے رکھنا ہی مناسب ہے۔بشکریہ ہم سب نیوز

یہ بھی دیکھیں

امریکہ ایران کشیدگی کے خطے پر اثرات

(مرزا اشتیاق بیگ) برطانیہ کے زیر انتظام جبرالٹر، مسلمانوں میں ’’جبل الطارق‘‘ کے نام سے …