منگل , 21 مئی 2019

پاکستان کے لئے آگے بڑھنے کا سنہری موقع

(محمود شام)

قوم نے ایک بار پھر کشمیر کے عوام سے یکجہتی کا دن منایا۔ پھر حقِ خود ارادیت ’کشمیر بنے گا پاکستان‘ کے نعرے بلند ہوئے۔ جلسے، جلوس، اخبارات کے خاص نمبر، ٹاک شوز، پھر ایک سال کی خاموشی۔ جبکہ 72سال سے آزادی کے لئے جدوجہد کرتے کشمیری تو نسل در نسل اپنی جانوں کے نذرانے پیش کررہے ہیں۔ پاکستان کا پرچم جتنی دلجمعی سے وہ لہراتے ہیں ہم پاکستانی بھی اس استقامت کا مظاہرہ نہیں کرتے۔

5فروری میرے لئے تو ویسے ہی اہم ہے کہ کاغذات کے مطابق مَیں دُنیا میں اسی تاریخ کو اتارا گیا۔ کچھ نوجوان اہل قلم اپنے ساتھ کیک اور نیک جذبات لئےمیری طرف آبھی جاتے ہیں۔ چین ہمارا دوست ہے۔ ہماری بےعملی اور نالائقی کے باوجود وہ ہم سے اپنی دوستی نباہ رہا ہے۔ کیونکہ اسے یہ شدت سے احساس ہے کہ جب اس کے ساتھ بہت کم ملک تھے۔ پاکستان اس وقت بھی اس کے ساتھ رہا۔ اقوام متحدہ اور امریکہ تک پہنچنے کا راستہ پاکستان نے ہی ہموار کیا۔ چین پاکستان کی قوت نمو، امکانات، قدرتی و معدنی اور انسانی وسائل کی اہمیت سے بھی پوری طرح آشنا ہے اور انہیں استعمال میں لاکر وہ پاکستان کو ترقی کرتی معیشتوں میں شامل بھی کروانا چاہتا ہے۔ ہم چین کی دوستی پرناز کرتے ہیں لیکن اس کا راستہ اپنانا نہیں چاہتے۔ کشمیر کی طرح چین کا ہانگ کانگ بھی متنازع علاقہ تھا لیکن چین نے اسے مسئلہ ہانگ کانگ نہیں بنایا۔ ہر پارلیمنٹ کی ہانگ کانگ کمیٹی نہیں بنائی۔ کروڑوں اربوں روپے غیر ملکی دوروں پر صرف نہیں کئے۔ اسے اندازہ تھا کہ

ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات

اس نے اپنی ضعیفی کو دور کیا۔ دفاع بھی مضبوط کیا لیکن ترجیح اپنی معیشت کو دی۔ اپنے انسانی اور قدرتی وسائل کو بروئے کار لایا۔ نتیجہ یہ کہ ہانگ کانگ خود اس کی جھولی میں آن گرا۔

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

ہم نے اس کے بر عکس کشمیر کے غم میں اپنے آپ کو کمزور کرلیا۔ مشرقی پاکستان ہم سے الگ ہوگیا۔ہماری علاقائی اہمیت محدود ہوگئی۔ ہم مشرق وسطیٰ سے بھی قریب تھے، ادھر مشرق بعید سے بھی۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی سے ہم صرف جنوبی ایشیا کے ہوکر رہ گئے۔ یہ درست ہے کہ ہم پر اتنے المیے گزرے ہیں، اتنی بے وفائیاں ہوئی ہیں، اتنے دھوکے دیئے گئے ہیں کہ ہم مایوسیوں میں گھر گئے ہیں۔ احساس کمتری میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا کے جس اہم محل وقوع میں مملکت پاکستان قائم کی ہے ہمیں اس کی اہمیت، عظمت اور حساسیت کا احساس نہیں ہے۔ کسی ایک ملک میں سمندر، ریگ زار، سر سبز و بنجر پہاڑ، دریا، میدان اور وادیاں اس طرح یکجا نہیں ہوتے۔ وسائل قدرتی ہوں، انسانی یا معدنی، ہمارے پاس بے پایاں ہیں۔ ہمارے افراد محنت کش ہیں۔ ذہین ہیں۔ کسی کام سے نہیں گھبراتے۔ ان کی ذہانت نے دوسرے ملکوں کو جو استحکام اور خوشحالی بخشی ہے اسی سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ خدائے بزرگ و برتر نے ذہانت میں ہمارا کتنا حصّہ رکھا ہے۔

میری طرح بہت سے درد مند یہی سوچتے ہیں کہ اتنا عظیم ملک، عالمی برادری میں وہ مقام کیوں حاصل نہیں کر پارہا، جو ایسی جغرافیائی حیثیتیں رکھنے والی سرزمینوں کا مقدر ہوتا ہے۔ ہم سے تو اللہ دنیا کی امامت کا کام لینا چاہتا ہے لیکن ہم تو سب الگ الگ امامتوں میں نمازیں ادا کررہے ہیں۔ کبھی ہم نے تدبر کیا کہ ہم امریکہ کی بھی ضرورت ہیں۔ تاریخ نے یہ ثابت بھی کیا۔ ہم روس کے لئے بھی ناگزیر ہیں۔ بھارت کو بھی اندرونی استحکام اور معاشی خوشحالی ہمارے بغیر نہیں مل سکتی۔ افغانستان میں سکون بھی ہمیں نظر انداز کر کے نہیں آ سکتا۔ ایران کو بھی ایک مستحکم اور آگے بڑھتا پاکستان موزوں لگتا ہے۔ چین نے ہماری اس جغرافیائی حیثیت سے بہت فائدہ اٹھایا ہے۔ اور آئندہ کئی دہائیوں تک وہ ہماری سر زمین سے استفادہ کرتا رہے گا۔

کتنے پاکستانی تحقیقی ادارے، یونیورسٹیاں یہ جاننے کی کوشش کرتی ہیں کہ پاکستان کو اپنے محل وقوع اپنے جفاکش افراد، اپنی تاریخی ذہانت، ہُنر مندی اور صلاحیتوں کے باوصف جس اعلیٰ مقام پر ہونا چاہئے وہاں کیوں نہیں ہے۔ کون سے عوامل اس میں حقیقی رُکاوٹ ہیں۔ ہمارے سائنسدانوں کو دنیا میں مطلوبہ اہمیت حاصل کیوں نہیں ہوتی۔ ہمارے ناول نگار، شاعر اور مصوّر عالمی افق پر ستارے کیوں نہیں بنتے۔

میں یہ سب باتیں اس لئے کررہا ہوں کہ اب ایسا وقت آرہا ہے جس میں پاکستان کو پھر مرکزیت ملنے والی ہے۔ بھارت میں الیکشن ہونے والے ہیں۔ اس خطّے کیلئے یہ فیصلہ کن ہو سکتے ہیں اگر پاکستان اس علاقے میں اور عالمی سطح پر فعال کردار ادا کرے۔ اسی طرح افغانستان میں بھی سماجی، سیاسی اور اقتصادی تبدیلیاں آنے والی ہیں۔ امریکہ، نیٹو اور مغربی ممالک طالبان کو تمام منصوبہ بندی کے باوجود ختم نہیں کر سکے اب ان سے مذاکرات پر مجبور ہیں۔ طالبان کو مرکزیت مل رہی ہے۔ ہم کیا سوچ رہے ہیں۔ کیا پارلیمنٹ میں اس پر بحث نہیں ہونی چاہئے۔ قوم کو اعتماد میں نہیں لیا جانا چاہئے۔

یہ امر تو فوری توجہ کا مستحق ہے۔ صرف حکمرانوں کے لئے نہیں۔ میڈیا، تاجر برادری اور درسگاہوں سب کے لئے۔ میرا دُکھ یہ ہے کہ اپنی اہم جغرافیائی حیثیت، تاریخی کردار، مقامی معیشت کو کالجوں یونیورسٹیوں میں پڑھایا ہی نہیں جاتا۔ ہم اپنے وسائل سے اپنی بین الاقوامی حیثیت سے اپنے بچوں کو آگاہ ہی نہیں کرتے۔ آنے والی نسلوں کو دن رات ٹی وی چینل، گھر والے، محلّے کے بزرگ مایوسی کی گھٹی پلاتے رہتے ہیں۔ ہمارے ذہنوں کی ساخت ایسی ہو رہی ہے کہ آگے کچھ کرنے کا نئے آفاق کی تسخیر کا ارادہ ہی جنم نہیں لیتا۔ اس احساس کمتری اور ذہنی ساخت کے ساتھ ہی پاکستانی نسلیں سول سروس میں داخل ہوتی ہیں۔ اپنا کاروبار سنبھالتی ہیں۔ سیاست کے میدان میں اُترتی ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری اس کی ایک مجسم مثال ہیں۔ اس نوجوان سیاست دان کو تو قوم کو امید دلانا چاہئے۔ پرانی سیاست گری سے ہٹ کر راستہ اختیار کرنا چاہئے۔ ہر خاندان میں ایک بلاول، ایک حمزہ، ایک مریم آگے آرہے ہیں لیکن وہ سب پہلے سے شکست خوردہ شاہیں لگ رہے ہیں۔ جو کرگسوں میں پل رہے ہیں۔

ہم آئندہ کسی وقت یہ جائزہ لیں گے کہ ہم اپنے ہم وطنوں، چھوٹے صوبوں، صدیوں سے تسلسل پاتی قومیتوں کی صلاحیتوں کو بروئے کار نہیں آنے دیتے۔ سب کی ذہانت کو قومی ترقی کے لئے یکساں طور پر استعمال نہیں کرتے۔ سیاسی اور فوجی قیادت تمام علاقوں میں یکساں طور پر مقبول کیوں نہیں ہوتی لیکن ابھی پاکستان کو جو موقع مل رہا ہے اس میں انفرادی قیادت کی بجائے اجتماعی قیادت کا تجربہ ہونا چاہئے۔ شراکتی جمہوریت کا۔ اس سنہرے موقع کو ضائع نہ ہونے دیں۔ اس لمحے پر اپنی گرفت مضبوط کریں۔ صدیاں آپ کی گرفت میں آجائیں گی۔بشکریہ جنگ نیوز

یہ بھی دیکھیں

الاعیان من آل حسن علیہ السلام(1)

(تحریر: سید اسد عباس) امام حسن علیہ السلام خاندان نبوت و امامت کا پہلا چشم …