جمعہ , 23 اگست 2019

پاکستان کیخلاف صہیونی گماشتے سرگرم

(تحریر: صابر ابو مریم)

امریکی صدر ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد جب سے انہوں نے مسئلہ فلسطین کے حوالے سے غیر منصفانہ حل تجویز کرتے ہوئے صدی کی ڈیل نامی معاہدہ متعارف کروایا اور اس کے نتیجہ میں یکطرفہ اعلانات، جن میں القدس کو اسرائیل کی جعلی ریاست کا دارالحکومت تسلیم کرنا، پھر اس کام کے لئے دنیا کے دیگر ممالک کو دباؤ میں لا کر ان سے اس بات کو تسلیم کروانا، اسی طرح امریکی سفارت خانہ کو القدس شہر میں منتقل کرنے کے ساتھ دوسرے ممالک کے سفارتخانوں کو بھی القدس شہر منتقل کرنے پر راضی کرنے جیسے معاملات سرفہرست ہیں۔ امریکی صدر کے مسئلہ فلسطین کے حوالے سے پیش کردہ صدی کی ڈیل نامی معاہدے میں عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کو آئندہ پچاس برس کی بادشاہت کی کلین چٹ دینا بھی شامل ہے، اس کے ساتھ ساتھ عرب ممالک میں اسرائیل کے عہدیداروں کے دوروں میں تیزی اور اسرائیل عرب اور اسی طرح اسرائیل افریقا تعلقات کو قائم کرنا بھی اس معاہدے کی چیدہ چیدہ سرخیاں ہیں۔ اس عنوان سے ماضی کے کالمز میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے کہ امریکہ صدی کی ڈیل نامی معاہدے کے تحت کس طرح سے اسرائیل اور عرب مسلمان اور افریقی مسلمان ممالک کو قربت میں لانے کے لئے سرگرم عمل ہے۔

ایک طرف عرب دنیا اور افریقا کے ممالک اسرائیل کی لپیٹ میں آرہے ہیں تو دوسری طرف صہیونیوں کی ناپاک نظر مملکت خداداد پاکستان پر بھی گڑھی ہوئی ہے کہ جب سے نیا پاکستان وجود میں آیا ہے، اس کے بعد سے پے در پے ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں کہ جو واضح طور پر اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ پاکستان میں مملکت خداداد کے خلاف صہیونی گماشتے کہ جو کالی بھیڑوں کے روپ میں موجود ہیں، سرگرم ہوچکے ہیں۔ جیسا کہ دیکھا گیا ہے کہ ایک طیارہ عین ایسے وقت میں کہ جب اسرائیلی جعلی ریاست کے وزیراعظم نیتن یاہو مسقط کے دورے پر تھے، یہ طیارہ تل ابیب سے پرواز کرتا ہوا براستہ عمان اسلام آباد میں پہنچا اور دس گھنٹوں کے قیام کے بعد اسی راستے واپس چلا گیا۔ حکومت پاکستان کی طرف سے کمزور سی تردید آئی، لیکن کوئی ٹھوس قسم کی بات نہیں کی گئی۔ اسی طرح اس واقعہ کے چند روز بعد ہی ایک سابق فوجی جرنیل نے ایک محفل میں اسرائیل کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرنے کے لئے بھونڈی قسم کی دلیلیں پیش کرکے ناکام کوشش کی، جبکہ ان کی ہی پیروی کرتے ہوئے حکومتی بینچوں پر موجود ایک خاتون رکن قومی اسمبلی نے قرآن کی آیات کو توڑ موڑ کر پیش کرتے ہوئے صہیونیوں کے حق میں بیان اور قرارداد پیش کرنے کی ناکام ترین کوشش کی، جس کے بعد پاکستانی عوام کا شدید ردعمل سامنے آیا اور بہت وضاحت دینے کی نوبت پیش آئی۔

پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لئے صہیونی گماشتے ہمیشہ کسی نہ کسی صورت میں سازشوں کا جال بناتے رہتے ہیں۔ درج بالا دو واقعات کے بعد ایک پاکستانی یہودی کو منظر عام پر لا کر مذہبی جذباتیت کو ڈھال بنا کر یہ کہا جانے لگا کہ یہودی کو اسرائیلی جعلی ریاست میں جانے دیا جائے، تاکہ وہ اپنی سالانہ مذہبی رسومات کی ادائیگی کرے۔ حالانکہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اور قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے وضع کردہ پالیسی کے اصولوں کے مطابق پاکستانی پاسپورٹ، جس پر اسرائیل کے لئے پاسپورٹ کے کارآمد نہ ہونے کی تحریر ثبت ہے۔ البتہ اب حکومت نے اس پاکستانی یہودی کو کس پاسپورٹ پر اسرائیل جانے کی اجازت دی ہے، یہ ایک سوال ہے؟ موصولہ اطلاعات یہی کہہ رہی ہیں کہ پاکستان میں مقیم پاکستانی شہریت رکھنے والے یہودی کا پاسپورٹ مملکت خداداد پاکستان کا ہی ہے۔ ان تمام واقعات کے دوران پاکستانی وزیراعظم نے عرب ممالک بشمول سعودی عرب، ابو ظہبی اور قطر وغیرہ کے دورے بھی کئے، جبکہ ابو ظہبی کے حکمران بھی پاکستان آئے اور ماہرین سیاسیات کی نظر میں ان دوروں میں بھی جہاں پاکستان کی معاشی مدد کے عنوان سے چند ایک ارب ڈالرز کی مدد کی گئی ہے، وہاں ساتھ ساتھ کچھ ایسی شرائط بھی ان عرب ممالک کی طرف سے رکھی گئی ہیں، جن کا مقصد براہ راست امریکی منصوبہ صدی کی ڈیل کی حمایت کرنا اور غاصب صہیونی ریاست اسرائیل کے لئے نرم گوشہ پیدا کرنا ہے۔

گذشتہ دنوں ہی پاکستان کے ایک ٹی وی چینل دنیا نیوز پر ایک معروف اور نامور اینکر پرسن نے پاپائے روم کے دورہ امارات پر تبصرہ کیا، لیکن اس تبصرہ کے پس پردہ ان کا مقصد صہیونی جعلی ریاست کے لئے پاکستان میں نرم گوشہ ہموار کرنا تھا۔ جس وقت یہ معروف اینکر صاحب پروگرام کر رہے تھے، اس وقت پاپائے روم سے متعلق کم جبکہ اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو کے عرب ممالک کے دوروں کے بارے میں اسکرین بھری پڑی تھی، جو اس ٹی وی چینل اور اس کے اینکر پرسن کی صہیونی دوستی اور پاکستان دشمنی کا منہ بولتا ثبوت تھا۔ موصوف نے پاپائے روم کے عرب ممالک کے دورہ پر تعریف کرتے ہوئے ساتھ ساتھ ایسا ماحول بنانے کی ناکام کوشش کی کہ جس میں پاکستان کو اسرائیل کے ساتھ کھڑا کیا جائے اور اس کام کے لئے انہوں نے ایک نام نہاد مذہبی اسکالر کو مدعو کیا اور پھر گفتگو کو اس سمت میں لے کر جاتے رہے کہ پاکستان کو اسرائیل کے ساتھ تعلقات بنا لینے چاہئیے اور ایسے من گھڑت سوالات پیش کئے جاتے رہے کہ جو دلائل سے عاری تھے، ان تمام سوالات کا جواب آئندہ مقالہ میں تفصیل سے پیش کیا جائے گا۔

پاکستان تحریک انصاف کو اگرچہ ابھی بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے، تاہم ان تمام مسائل میں سے بڑھ کر ایک مسئلہ خود حکومتی صفوں اور اداروں سمیت ذرائع ابلاغ جیسے اہم اداروں میں صہیونی گماشتوں کا موجود ہونا انتہائی خطرناک ہے، کیونکہ یہ کالی بھیڑیں چند سو یا شاید چند ہزار ڈالرز کے عوض مملکت خداداد پاکستان کی اساس پر سودے بازی کر رہے ہیں اور ساتھ ساتھ بانیان پاکستان کے افکار اور نظریات کو روندنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حکومت وقت اور حکومتی اداروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ پاکستان میں موجود ان صہیونی گماشتوں کو جو بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کے نظریات اور پاکستان کی بنیادوں کو کھوکھلا کرکے اسرائیل جیسی جعلی ریاست کی چوکیداری پر مامور کرنا چاہتے ہیں، ان سب سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے۔

یہاں پر مجھے ایک سابق فوجی جرنیل جناب غلام مصطفیٰ صاحب کی بات دہرانے میں فخر محسوس ہو رہا ہے، انہوں نے کہا تھا کہ اگر پاکستان اسرائیل کے لئے تل ابیب میں بیٹھ کر بھی چوکیداری کرے، تب بھی صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل پاکستان سے دشمنی کرتے ہوئے پاکستان کو نقصان پہنچانے سے باز نہیں رہے گی۔ خلاصہ یہ ہے کہ پاکستان کے خلاف صہیونی گماشتے کہیں بین المذاہب کی آڑ میں تو کہیں مذہبی اسکالرز کا لبادہ اوڑھ کر اور کہیں میڈیا جیسے اہم اداروں میں گھس پیٹھ کرکے پاکستان کے خلاف سازشوں کے جال بننے میں مصروف عمل ہیں، لیکن پاکستان کے غیور عوام کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے ہمیشہ فلسطین کاز پر سودے بازی کرنے والوں کو مسترد اور ذلیل و رسوا کیا ہے اور اس مرتبہ بھی پاکستان میں موجود صہیونی گماشتوں کو ہر قدم پر ذلت و رسوائی کا ہی سامنا ہوگا۔

یہ بھی دیکھیں

امریکہ ایران کشیدگی کے خطے پر اثرات

(مرزا اشتیاق بیگ) برطانیہ کے زیر انتظام جبرالٹر، مسلمانوں میں ’’جبل الطارق‘‘ کے نام سے …