جمعہ , 23 اگست 2019

پوپ فرانسس کا دورہ اور مسلم مسیحی تعلقات

(تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس)

ہر مذہب کی طرح مسیحیت بھی امن کا مذہب ہے، مسیحیت کی تعلیمات میں امن و سلامتی کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ اسی لیے مسیحی بچوں کو سکھایا جاتا ہے کہ اگر کوئی تمہاری ایک گال پر تھپڑ مارے تو دوسرا پیش کر دو، یہ بنیادی طور پر اسی فلسفہ عدم تشدد کا عکاس ہے۔ بادشاہوں نے مسیحیت کے پرامن چہرے کو اپنی خواہشات کو پورا کرنے کے لئے داغدار کیا اور مسیحت کا استعمال اپنے تحفظ اور اپنی حکومت کو وسعت دینے کے لیے کیا۔ کلیسا کا کردار بھی مثالی نہیں رہا، اس نے ہمیشہ بادشاہ گر کی حیثیت سے مغرب کی پسی عوام کو مزید دبانے کے لیے حکومتوں کا ساتھ دیا۔ صلیبی جنگوں کے نام پر کلیسا نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز مہم چلائی، جس کے نتیجے ایک بڑا لٹریچر مسلمانوں کے خلاف مرتب کیا گیا، جس میں مسلمانوں کا تعارف بے دین طبقے کے طور پر کرایا گیا۔ اسی طرح صلیبیجنگوں کا آغاز کیا گیا، جس میں سینکڑوں لشکر ارض مقدس کی آزادی کے نام پر روانہ کیے گئے، جنہوں نے قتل و غارت کا بازار گرم کیے رکھا۔

تاریخ یورپ کا مصنف اے، جی گرانٹ بیت المقدس پر صلیبیوں کی فتح پر تبصرہ کرتے ہوا لکھتا ہے کہ: صلیبیوں کے نزدیک دشمن کو قتل کرنا خدا کی عبادت کے مساوی تھا، اسی لیے پوپ کو یہ تحریر بھیجی گئی کہ خدا ہمارے عجز و انکسار سے رام ہوگیا، ہمارے عجز و الحاح کے آٹھویں روز اس نے شہر کو دشمنوں سمیت ہمارے حوالے کر دیا، اگر آپ یہ معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ جو دشمن وہاں موجود تھے، ان کے ساتھ ہم نے کیا سلوک کیا تو اس قدر لکھ دینا کافی ہے کہ جب ہمارے سپاہی حضرت سلیمان ؑکے معبد میں داخل ہوئے تو ان کے گھوڑوں کے گھٹنوں تک مسلمانوں کا خون تھا۔ یہ اس ظلم و تشدد کی ہلکی سی تصویر ہے۔ مسلم مسیحی تعلقات میں صلیبی جنگیں انتہائی اہم ہیں، اسی وجہ سے مسلمانوں اور مسیحیوں میں جب بھی تعلقات خراب ہوتے ہیں تو ہر دو طرف ان جنگوں کو یاد کرتی ہیں۔ جارج ڈبلیو بش نے افغانستان پر حملے کرتے وقت اسے صلیبی جنگ کا نام دیا تھا، جس پر بہت تنقید ہوئی، آج بھی ہوتی ہے مگر اس سے یورپ کی ایک نفسیات کا بھی پتہ چلتا ہے۔

صدیوں بعد جان پوپ فرانسس مسلم سرزمین پر آئے ہیں، جس میں انہوں نے مکالمہ بین المذاہب کے موضوع پر خطاب کیا اور سوا لاکھ کے قریب لوگوں کے اجتماع سے بھی خطاب کیا۔ یہ واقعاً ایک تاریخی موقع ہے کہ مسیحی قیادت یورپ میں سیاسی شکست کھا کر حکومتی ایوانوں سے دور ہونے کے بعد اور صلیبی تاریخ میں جنگجو روانہ کرنے کی تاریخ رکھتے ہوئے امن و سلامتی کا پیغام لیے مسلم سرزمین پر آئی ہے۔ ان کا آنا مسلم مسیحی تعلقات کو آگے بڑھائے گا۔ یہ بات اہم ہے کہ یورپ میں مسیحیت کو یا مذہب کو جو چیلنج درپیش ہے اور مسلمان معاشروں کو آنے والے وقت میں یہ چیلنج درپیش ہوگا، وہ مذہب سے دوری اور الحاد کا ہے۔ الحاد بڑی تیزی سے کئی ممالک میں مسیحیت کے پیروکاروں کی بڑی تعداد کو اپنی لپٹ میں لے چکا ہے، یہی وجہ ہے کہ یورپ میں بڑی تیزی سے چرچز کی تعداد بجائے بڑھنے کے کم ہو رہی ہے۔ یہ چیلنج اس بات کا متقاضی ہے کہ مسیحیت اور اسلام باہمی مکالمے سے ایک دوسرے کے قریب آئیں۔ اسی طرح حکومتی ایوانوں سے مسیحیت کو بے دخل کر دیا گیا اور جدید نظریہ سیاست یہی نظم لیے مسلمان ممالک کی طرف رواں دواں ہے، اسے جمہوریت کے نام پر اپنا لیا گیا ہے، اب اس کی اگلی اقساط آرہی ہیں، اس لیے دونوں مذاہب کو باہم مل جل کر اس چیلنج سے نبرد آزما ہونا ہے۔

خود جان فرانسس اس وقت کئی طرح کے چیلنجز کا شکار ہیں، جس میں خود کلیسا کے اندر اصلاحات سب سے اہم ہیں، اسی دورے کے دوراں انہوں نے تسلیم کیا کہ اہل کلیسا جنسی استحصال کے مرتکب ہوئے ہیں۔ اسی طرح اس نسل کے لیے مذہبی قیادت کی تیاری جو پوسٹ ماڈرن دور سے تعلق رکھتی ہے، بڑا چیلنج ہے، ویسے یہ خود مسلمانوں کے لیے بھی بڑا چیلنج ہے۔ یورپ میں حقوق نسواں اور شادی کے معاملے پر بھی سیکولرزم اور کلیسا میں ایک نظریاتی کشمکش جاری ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ پوپ کا یہ دورہ ادیان ابراہیمی ؑ کی باہمی قربت کا باعث بنے گا، کیونکہ مسلمان ان تمام انبیاءؑ کو مانتے اور ان کے فضائل کے قائل ہیں، جنہیں مسیحی مقدس جانتے ہیں اور اسی طرح حضرت مریم ؑ کی عظمت و عفت کے پرچارک ہیں۔ وہ خطے جس میں مسیحیت کا ظہور ہوا وہ آگ و خون میں غلطان ہیں۔ امید کرتے ہیں کہ حضرت مسیح ؑکے پیروکار اس آگ کو رکوانے میں اپنا کردار ادا کریں گے اور وہ سرزمین جس پر حضرت مسیحؑ نے امن کا سبق دیا، وہ سرزمین اپنے بیٹوں کے لیے امن و سلامتی کی جگہ بنے گی۔

رہبر کبیر امام خمینی ؒ نے کرسمس کے پیغام میں فرمایا تھا: میں دنیا کے مستضعفین کو اسی طرح ملت مسیحیت کو حضرت عیسیٰ بن مریم (ع) کی ولادت کی مناسبت پر تبریک و تہنیت پیش کرتا ہوں۔ اسی طرح ایرانی عیسائی اقوام کو بهی ہدیہ تبریک پیش کرتا ہوں۔ حریت پسند عیسائیوں کو اور وہ لوگ جو عیسیٰ روح اللہ کی آسمانی تعلیمات کی پیروی کرتے ہیں، ان سب پر سلام۔ عیسیٰ (ع) وہ عظیم الشان نبی ہیں، جو مظلوموں کی حمایت کیلئے اور عدل و انصاف پهیلانے کیلئے مبعوث برسالت ہوئے۔ حضرت (ع) سے متعلق تمام امور معجزہ ہے۔ ایک معجزہ وہ ہے کہ جب عذرائے بتول، پاک دامن خاتون نے آپ (ع) کو جنم دیا۔ اسی طرح جب نوزاد بچہ تهے تو لوگوں سے تکلم فرمایا اور جب بشریت کیلئے امن، محبت اور معنویت لے آئے تو بهی معجزہ تها۔ جناب عیسیٰ مسیح (ع) ہرگز ظلم کو مباح نہیں سمجهتے تهے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام امن و صلح کا نبی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

امریکہ ایران کشیدگی کے خطے پر اثرات

(مرزا اشتیاق بیگ) برطانیہ کے زیر انتظام جبرالٹر، مسلمانوں میں ’’جبل الطارق‘‘ کے نام سے …