ہفتہ , 21 ستمبر 2019

عراق سے امریکی واپسی میں روکاوٹ کیا ہے ؟

عراق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ عرا ق میں امریکی کوئی بھی اڈہ موجود نہیں ہے لیکن عراقی وزیر اعظم کی یہ بات زمینی حقائق کے بر خلاف ہے ،ایک اندازے کے مطابق عراق میں چھ ہزار کے قریب امریکی افواج موجود ہیں اور امریکی اڈہ شام کی سرحد کے قریب علاقے عین الاسد میں موجود ہے .

عین الاسد وہی امریکی افواج کا اڈہ ہے جہاں ٹرمپ نے کچھ عرصہ قبل ہی اچانک دورہ کیا تھا ،عراقی وزیر اعظم کا بیان ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سامنے آیا تھا کہ جس میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکہ نے عراق میں اپنے اڈے بنانے کے لئے بہت بڑی رقم خرچ کرلی ہے اور وہ عراق سے ایران پر نگاہ رکھیں گے ۔

ماہرین اور عراقی و بین الاقوامی میڈیا کے مطابق عراق میں امریکی اڈوں کی تعداد ایک سے زیادہ ہوسکتی ہے کہ جن میں سے بعض مستقل اور بعض موبائل اڈے ہیں ۔

عراقی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ 31کے قریب چھوٹے بڑے اعلانیہ اور غیر اعلانیہ امریکی اڈے موجود ہیں کہ جن میں سے بعض اڈے عراقی اور امریکی افواج کے درمیان مشترکہ ہیں ۔حلبچہ ،کیوان کے علاوہ کردستان میں بھی بعض اڈوں کی بات کی جارہی ہے

واضح رہے کہ عراق میں موجود امریکی سفارتخانہ خطے میں موجود تمام امریکی سفارتخانوں میں سے سب سے بڑا سفارتخانہ ہے کہ جہاں پر ہزاروں کی تعداد میں عملہ کام کرتا ہے جبکہ بعض افراد کا کہنا ہے کہ یہ سفارتخانہ دنیا میں سب سے بڑا امریکی سفارتخانہ ہے ۔

دوسری جانب ٹرمپ کی جانب سے عراق میں اپنی موجودگی کو ایران کیخلاف استعمال کرنے کے بیان کے بعد عرا ق کی سب سے بڑی دینی قیادت اور مرجع اعلی آیت اللہ سیستانی کی جانب سے مذمت کے علاوہ سیاسی اور عوامی حلقوں میں بھی ایک قسم کی تشویش اور غم و غصہ پایا جاتاہے ۔

عرا قی حکومت کا سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ اس وقت تک حکومتی ڈھانچہ پوری طرح مکمل نہیں ہوا اور اب بھی عراق کی چار اہم وزارتیں اپنے وزیروں کو تلاش کررہی ہیں ۔وزارت دفاع ،وزارت داخلہ ،وزارت قانون یا انصاف اور وزارت تعلیم وتربیت ۔یہی وجہ ہے کہ عراقی وزیر اعظم اس وقت کسی بھی قسم کے بڑے فیصلوں کی پوزیشن میں نہیں ہیں لیکن ہوسکتا ہے کہ اب عراقی مذہبی مرجعیت کی جانب سے واضح اور کھلے انداز سے موقف بیان کرنے کے بعد حکومت بھی فوری طور پر کسی قسم کا کوئی اقدام کرے ۔

واضح رہے کہ عراق میں آیت اللہ سیستانی کی جانب سے نمائندگی کرتے ہوئے حاج مہدی کربلا ئی اور احمد صافی جمعہ کے خطبوں میں ٹرمپ کے بیانات پر کھلا اور واضح موقف پیش کرتے رہے ہیں یہاں تک چند روز قبل اقوام متحدہ کے سربراہ کی خصوصی نمائندہ اور عراق مشن کی سربراہ جینن بلااسچارتJenin Blaschart کی ملاقات کے دوران خود انہوں نے بھی واضح کردیا کہ عراق میں بیرونی مداخلت ناقابل قبول ہوگی اور نہ ہی عراق کسی ملک کیخلاف لانچنگ پیڈ بنے گا ۔

عراق میں پارلیمان میں موجود بہت سی سیاسی جماعتوں اور الائنس نے بھی کھلے لفظوں کہا ہے کہ وہ امریکی کو عراق سے نکال باہر کرنے کے لئے آئینی اور دستوری راستے کو اپنائیںگے جبکہ بعض عراقی رضاکار گروہ کا کہنا ہے کہ امریکیوں نے اگر عراقی زمین کو نہ چھوڑا تو وہ طاقت کا استعمال بھی کرسکتے ہیں ۔

عراق میں امریکی موجودگی تاریخی طور پر نشیب و فراز رکھتی ہے لیکن آخر بار امریکی افواج نے سن 2014میں اس وقت عرا ق کا رخ کیا تھا جب داعش بغداد کے دروازوں پر پہنچی تھی اور امریکی افواج اس وقت عراق حکومت کی اجازت کے بعد عراق میں آئی تھیں ۔یہ موضوع ایک مستقل بحث کا متقاضی ہے عراق میں دہشتگردی کیخلاف جنگ میں امریکی افواج کا کردار کتنا اور کیسا تھا ۔
تو کیا عراقی پارلیمان اور حکومت کی جانب سے امریکی افواج کو عراق چھوڑنے کا کہا جائے گا ؟اور کیا امریکی افواج عراقی حکومت کی بات مان لیں گی؟
اس قسم کے سوالات کا بہتر جواب آنے والا وقت دے سکتا ہے ہم اس حساس پہلو پر کسی بھی قسم کی قیاس آرائی نہیں کرنا چاہتے۔

یہ بھی دیکھیں

مقبوضہ کشمیر میں سیاہ رات کی کہانی: ‘تاریک کمرے میں بجلی کے جھٹکے لگائے گئے’

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے 5 اگست کو متنازع خطے کی خصوصی حیثیت ختم …