جمعہ , 19 جولائی 2019

سعودی تاریخ کا بدترین واقعہ۔۔۔۔۔۔۔۔کربلا کا ظلم مدینہ منورہ میں دہرایا گیا

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) مدینہ منورہ میں ایک اور محسن کو اس کی ماں کے سامنے شہید کردیا گیا، مدینہ منورہ میں ایک چھ سالہ شیعہ زائر رسول خداؐ زکریاکو سعودی وہابی تکفیری انتہا پسندٹیکسی ڈرائیور نے بے دردی سے ذبح کردیا، مدینہ منورہ میں ذبح ہونے والے بچے زکریا کی خالہ نے بتایا کہ بروز بدھ ظہر کے وقت اس کی بہن جدہ سے مسجد نبوی کی زیارت کیلئے آئی اور رھائش گاہ تک پہنچنے کیلئےسلطان بن عبدالعزیز روڈ پر بس اسٹینڈ سے ایک ٹیکسی پر سوار ہوئی راستے میں زکریا بچے کو پیاس لگی اور اس نے ماں سے پانی طلب کیا تو اسکی ماں نے ایک جنرل اسٹور کے سامنے رکنے کو کہا تاکہ پانی خرید سکے اور بچے کو لیکر دکان پر پانی خریدنے گئی۔

سعودی تاریخ کا بدترین واقعہ۔۔۔۔۔۔۔۔کربلا کا ظلم مدینہ منورہ میں دہرایا گیا

سعودی تاریخ کا بدترین واقعہ۔۔۔۔۔۔۔۔کربلا کا ظلم مدینہ منورہ میں دہرایا گیا شھید معصوم بچے کی نماز جنازہگذشتہ شب کو مدینہ منورہ میں یہ بھیانک اور جانسوز واقعہ پیش آیا ہے جس پر جتنا احتجاج کیا جائے کم ہے، اس کی تفصیلات کچھ اس طرح سے ہیں کہ ایک خاتون سلطان بن عبدالعزیز روڈ پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ کی زیارت کی غرض سے اپنے چھ سالہ بیٹے کے ساتھ ٹیکسی میں بیٹھتی ہیں اور کہتی ہیں بسم اللہ الرحمن الرحیم توکلنا علی اللہ ، اللھم صل علی محمد و آل محمد ڈرائیور صلوات سن کر پوچھتا ہے تم شیعہ ہو خاتون کہتی ہیں جی میں شیعہ ہوں ڈرائیور ملعون یہ سن کر طیش میں آتا ہے اور ایک کافی شاپ کے سامنے رک کر اور شاپ کا شیشہ توڑ کر اس کے ذریعے چھ سالہ معصوم بچے کو گردن کے پیچھے کی طرف س ذبح کرتا ہے اور ماں بیچاری پاگلوں کی طرح چیختی رہتی ہیں اور کوئی مدد کیلئے نہیں آتا ۔ایسے ہوتے ہیں علی کے شیعہ ، ایسے ہوتے ہیں علی کے نوکر جو کھلے بازار میں بھی میثم و بوذر اور زینب کا کردار ادا کرتے ہیں۔

Posted by Iblagh News on Wednesday, February 6, 2019

ماں نے سوار ہوتے وقت الحمد لله اور اللہم صلی علی محمد وآلہ کہا تو ڈرائیور نے پوچھا تم شیعہ ہو، اس نے کہا ہاں،ڈرائیور آگ بگولا ہوا اور ایک شیشہ توڑ کر اور بعض لوگوں کے بقول چھری لیکر بچے کی جانب بڑھا اور بچے کو پکڑ کر زمین پر لٹایا اور اللہ اکبر کہ کر ذبح کر دیا۔

کیا علی کا شیعہ ھونا سعودی عرب میں اتنا بڑا جرم ھے ؟

اس پھول سے بچے کا قصور کیا تھا ؟؟؟کیا علی کا شیعہ ھونا سعودی عرب میں اتنا بڑا جرم ھے ؟

Posted by Iblagh News on Thursday, February 7, 2019

ماں شور مچاتی رہی اور بچا ؤ بچاؤکی آوازیں لگاتی رہی لیکن اسکی کسی بھی راہگیریا دکانداروں نے کوئی مدد نہ کی،ششدر اور بے بس ماں جب بچے کو گود میں لیکردوڑی تو وہ درندہ اس کے پیچھے آکر پوچھ رھا تھا کہ بچہ مرا ہے یا نہیں، بچے کا تعلق سعودیہ کے شہر احساء کے قریب الشعبہ نامی علاقے سے ہے اور اسکی والدہ جدہ میں ملازمت کرتی تھی۔

یہ بھی دیکھیں

ایران نےامریکا کیساتھ بات چیت کا امکان مسترد کردیا

اقوام متحدہ میں ایرانی ترجمان علی رضا میر یوسفی کا کہنا ہے کہ  امریکا کیساتھ …