بدھ , 22 مئی 2019

قدس کے غاصبین ہمارے اصلی دشمن ہیں: آیت اللہ طائب

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک)ہم اپنے دشمنوں سے مقابلہ آرائی میں اختلاف کا شکار ہیں ، اور ہماری توجہ اس بات پر نہیں ہے اگر ہمارے حملوں کی نوک یہودیوں کی طرف ہو جائے تو دنیا آزاد ہوجائے گی لہذا عیسائیوں کو بھی اس ہٹ دھرم و ڈھیٹ گروہ سے انتقام لینے کے لئے مسلمانوں کے ساتھ ہو جانا چاہیے ۔ رسرچ سینٹر کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل سے مقابلہ کی راہوں کے سلسلہ سے ہونے والی باہمی ہم فکری کی نشست میں جو چند دن پہلے منعقد ہوئی ۔ میں عمار بٹالین کے ثقافتی ہیڈ کوارٹر کے سربراہ جناب حجۃ الاسلام و المسلمین مہدی طائب نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ یہودی حضور سر ورکائنات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے سے اب تک امت اسلامی کی مشکل بنے رہے ہیں کہا: ہماری اصلی مشکل اصحاب پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دشمن شناسی تھی ۔

استاد طائب نے اپنی گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ دشمن کی حقیقت و ماہیت کے سلسلہ سے بڑی مشکل سے اصحاب اطلاع پاتے تھے اور یہی وجہ تھی کہ بروقت حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مدد نہیں کر پاتے تھے ، مسلمانوں کو احد میں دشمن کے بارے میں اطلاع نہیں تھِی اس لئے پہاڑوں کے درمیان کی دراڑ کا محاذ چھوڑ دیا اور اسلامی لشکر کو شکست کا منھ دیکھنا پڑا یا جنگ بدر میں بے بصیرتی کا شکار ہوئے۔

حوزہ علمیہ قم کے درس خارج کے استاد نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اسی بے بصیرتی اور دشمن کی شناخت نہ ہونے کی بنا پر انجام کار حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا انہوں نے ساتھ نہ دیا۔ جسکا نتیجہ یہ ہوا پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے اصلی مقصد میں کامیاب نہ ہو سکے جو کہ دین اسلام کے عالمی ہونے کی زمین فراہم کرنے سے عبارت تھا اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسی بات پر مامور تھے، شاید یہ بات لائق توجہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہرگز فطری طور پر عام حالات میں مسجد الاقصی کا سفر نہ کر سکے اور صرف شب معراج یہ ممکن ہوا کہ اس مسجد کا سفر کر سکیں ۔

ہماری اصلی مشکل:
استاد طائب نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ اگر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قدس کو اپنے اختیار میں لے لیتے تو دین اسلام عالمی ہو جاتا کہا: یہ معاملہ اس بات کی حکایت کرتا ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اطراف میں رہنے والے دشمن کو اچھی طرح نہیں پہچان سکے، طول تاریخ میں اس سلسلہ سے بہت زحمتیں اٹھائی گئیں کہ یہ دشمن سازی حاصل ہو سکے اور پتہ چل سکے کہ قدس کے غاصبین ہمارے اصلی دشمن ہیں ۔

عمار بٹالین کے ثقافتی ہیڈ کوارٹر کے سربراہ جناب حجۃ الاسلام و المسلمین مہدی طائب نے اپنی گفتگو کے دوسرے حصہ میں کہا کہ حضور سرورکائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہودیوں کی پیشانی پر استکبار کا نشان لگا دیا اور انکے استکباری طرز فکر کی نشاندہی کر دی جسکی طرف قرآن کریم میں بھی زمیں پر اپنی بالا دستی قائم کرنے اور فساد کی صورت اشارہ ہوا ہے ۔چنانچہ جسکی اس دنیا میں آخرت نہیں ہے وہ یہودی ہیں اور جولوگ آخرت کے ماننے والوں کے خلاف ہیں ویہی یہودی گروہ ہے، استاد طائب نے آگے بیان کیا کہ آج شہدا کی سعی و کوشش اور انکے خون کی یہ برکت ہے کہ ہمارے لئے طول تاریخ میں یہ مسئلہ روشن و واضح ہو رہا ہے، اور سب مکمل اپنے روشن ضمیر کے ساتھ اس مسئلہ کو سمجھ لیں گے کہ اسلام کے سب سے شدید دشمن یہودی ہیں، جبکہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور میں یہ ضمیر ابھی روشن و بیدار نہیں تھا ۔

حجۃ الاسلام و المسلمین جناب طائب نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ آج یہودیوں کے فتنہ گری کی کہانی سب پر آشکار ہو چکی ہے مزید کہا: دنیا کو یہ بات جان لینا چاہیے کہ یہاں پر معاملہ محض فلسطین میں یہودیوں کے مظالم نہیں ہیں بلکہ یہودیوں کی پوری زمین پر فتنہ گری ہے اور انکے خلاف ہمارا اقدام اس لئے ہے ہم انہیں اس لئے فلسطین سے ہٹانا چاہتے ہیں کہ اسلام نجات پا سکے ۔

استاد طائب نے مزید بیان کیا کہ رہبرانقلاب اسلامی نے ایک تقریر میں کہا کہ ” اگر دنیا اس بات کو جان لے کہ یہودیوں نے کس طرح دوسرے ملکوں سے بھتہ وصول کیا ہے کس طرح دوسرے ملکوں سے لگان لی ہے اور ان پر تسلط قائم کیا ہے تو ہرگز لوگ خاموش نہیں بیٹھ سکیں گے”

یاچند سال قبل رہبر انقلاب نے فرمایا: “اسرائیل کو مٹانے کے لئے قلم اور ذرائع ابلاغ کو میدان میں آنا ہوگا ” استاد طائب نے حماس اور فلسطین کے مجاہدین کے کاندھوں سے بوجھ کو ہلکا کرنے کے سلسلہ سے اس بات کو بیان کرتے ہوئے کہ حماس اور فلسطین کے کاندھوں کا بوجھ اسرائیل کے مقابلہ کے سلسلہ سے ہلکا ہونا چاہیے کہا: آج قلم اور میڈیا کا اس اسلام مخالف موومنٹ کے خلاف فضا تیار کرنا بہت اہم ہے اگر یہ سرطانی پھوڑا نکال دیا جائے تو ساری دنیا کے مسائل من جملہ عراق ، شام اور افغانستان کے مسائل بھی حل ہو جائیں گے۔

حجۃ الاسلام والمسلمین استاد طائب نے واضح کیا : سعودی عرب کی امریکہ کی جانب سے چو طرفہ حمایت کی وجہ اور دلیل بھی یہی ہے سعودی عرب اسرائیل کا حامی ہے جیسا کہ خود امریکی صدر ٹرمپ نے اس بات کا اعلان کیا کہ ہم جانتے ہیں کہ بن سلمان نے خاشقجی کو ہلاک کیا ہے لیکن ہم سعودی عرب سے اپنے تعلق کو ختم نہیں کریں گے چونکہ سعودی عرب علاقے میں اسرائیل کا سب سے بڑا حامی ہے اور اگر اسرائیل نہ ہو تو ایران مشرق وسطی پر قابض ہو جائے گا ۔

یاد رہے کہ اس نشست کا اہتمام تلالو بعثت اسٹراٹیجک مطالعاتی مرکز، خیبر صہیون تحقیقاتی وبگاہ اور رسا نیوز ایجنسی نے مشترکہ تعاون سے کیا تھا، اس نشست میں صہیونییت کے موضوع کے ماہر اساتذہ نے صہیونیت سے مقابلہ کی راہوں پر تبادلہ خیال کیا۔

یہ بھی دیکھیں

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے ذمہ دارامریکہ اور اسرائیل ہیں؛شیخ نعیم قاسم

بیروت(مانیٹرنگ ڈیسک)حزب اللہ لبنان کے نائب سربراہ نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل مشرق …