ہفتہ , 17 اپریل 2021

یورپ ایٹمی معاہدے سے متعلق اپنے وعدوں پر عمل کرے، وزیر خارجہ ایران

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک)ایران کے وزیر خارجہ ڈاکٹر محمد جواد ظریف نے کہا ہے کہ اگر یورپی ممالک نے ایٹمی معاہدے کے تحت اپنے وعدوں پر عملدرآمد نہ کیا تو ایران کے پاس بھی تمام آپشن کھلے ہوئے ہیں۔رشیا ٹوڈے کو انٹرویو دیتے ہوئے اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ یورپی ممالک ایٹمی معاہدے سے متعلق اپنے وعدوں پر قائم رہے تاہم انھوں نے اس پر عمل درآمد کےسلسلے میں کوتاہی کی ہے۔جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر یورپ نئے مالیاتی نظام، انسٹیکس میکنزم کو ایران کی ایف اے ٹی ایف میں شمولیت یا میزائل پروگرام پر مذاکرات سے مشروط کرے، تو ایران کیا ردعمل ظاہر کرے گا، اس پر ڈاکٹر محمد جواد ظریف کا کہنا تھا کہ بہتر یہی ہے کہ یورپ ایٹمی معاہدے سے متعلق اپنے وعدوں پر عمل کرے کیونکہ وہ ایران پر اپنے مطالبات مسلط کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے ایٹمی معاہدے پر پوری طرح سے عمل کیا ہے جبکہ امریکہ غیر قانونی طور پر اس معاہدے سے نکلا ہے اور یورپی ممالک نے بھی اس پر عملدرآمد نہیں کیا۔ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ یورپ نے تہران سے بہت سے وعدے کیے ہیں جن پر انہیں عملدرآمد کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یورپ نے ایٹمی معاہدے کو ختم تو نہیں کیا لیکن اس پر عملدرآمد میں کوتاہی ضرور کی ہے۔

وزیرخارجہ ڈاکٹر محمد جواد ظریف نے ایران کے میزائل پروگرام کے حوالے سے یورپی اور امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے میزائل صرف دہشتگردوں کے خلاف استعمال ہوتے ہیں مگر مغربی ممالک کے ہتھیار خطے کے مظلوم عوام بالخصوص یمن، لبنان، غزہ اور شام کے نہتے عوام کے خلاف استعمال کیے جا رہے ہیں۔ایرانی وزیر خارجہ نے یورپی ممالک کو خبردار کیا کہ اگرانہوں نے انسٹیکس میکنزم کے اجرا کو ایف اے ٹی ایف یا میزائل پروگرام سے مشروط کرنے اور ایسی شرائط مسلط کرنے کی کوشش کی جن کا ایٹمی معاہدے سے کوئی تعلق نہیں ہے تو ایران کے پاس بھی بہت سے آپشن موجود ہیں۔

انسٹیکس پر عملدرآمد کے حوالے سے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کا کہنا تھا کہ یہ میکنیزم امریکی پابندیوں کو بائی پاس کرنے اور ایران کو پہنچنے والے نقصانات کے ازالے کا دانشمندانہ طریقہ کار ثابت ہوسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ حقیقی معنوں میں یہ مالیاتی لین دین کا نظام نہیں بلکہ ایران اور یورپ کے تجارتی تعلقات کی ضمانت اور دونوں فریقوں کےتاجروں کے درمیان رابطوں کے قیام کا پیش خیمہ ہے۔قابل ذکر ہے کہ رومانیہ میں اکتیس جنوری کو ہونے والے یورپی یونین کے وزارتی اجلاس کے بعد جرمنی، برطانیہ اور فرانس کے وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں ایران کے لئے مخصوص مالیاتی نظام (INSTEX) کے اجرا کا باضابطہ طور پر اعلان کیا تھا ۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …