ہفتہ , 17 اپریل 2021

امریکہ کی دوغلی حکمت عملی

(جمیل اطہر قاضی)

جنوبی ایشیاء جیسے مردم خیز اور انسانی ترقی کیلئے میسر قدرتی وسائل سے بھرپور خطے میں قیام امن کی بیانات کی حد تک تو سبھی خواہش کرتے ہیں مگر اس خطے کے بعض سربراہان کی توسیع پسندانہ سوچ‘ خاص طور پر سمندر پار سے اقوام عالم میں خود کو انسانی حقوق کے سب سے بڑے ’’علم بردار ‘‘کہلانے والے‘ ہر دور کے امریکی حکمران جنوبی ایشیاء کا امن تہہ و بالا کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتے چلے آ رہے ہیں‘ کہ امریکی حکمرانوں نے کوئی موقع ضائع نہیں کیا‘ جب انہوں نے اس خطے میں مختلف ممالک کے مابین سرحدی تنازعات کو ہوا نہ دی ہو‘ یا نسلی اور مذہبی بنیادوں پر جنگ کا بگل بجا کر اپنی اسلحہ ساز فیکٹریاں چلانے اور اس خطے کے مالی وسائل پر ہاتھ صاف کرنے کی کوشش نہ کی ہو۔ ماضی تو قصہ پارینہ بن چکا‘ حال کی بات کی جائے تو مسئلہ کشمیر ہو یا افغانستان میں قیام امن کی بات بظاہر امریکہ حالات سنوارنے کی بات کرتا ہے مگر در پردہ وہ حالات کو بگاڑنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ وہ خود کو انسانی حقوق کا ’’چیمپئن‘‘ کہلاتا ہے مگر ایک ہی وقت میں کہیں جمہوریت کی بحالی کیلئے کوشاں ہوتا ہے اور کہیں آمریت کا راستہ ہموار کرتا نظر آتا ہے۔ کتنے ممالک ہیں جہاں پہلے جنگ کا طبل بجایا اور بعد ازاں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مالی مدد دینی شروع کر دی۔ امریکی حکمرانوں کی اس دوغلی پالیسی نے اقوام عالم میں ان امریکی حکمرانوں کے مکروہ چہرے بے نقاب کردیئے ہیں۔

یہ کیسے ممکن ہے کہ اگر امریکہ خلوص نیت سے چاہتا تو اب تک مسئلہ کشمیر حل نہ ہو چکا ہوتا یا ہندوستان اور پاکستان کے سرحدی تنازعات حل نہ ہو پاتے مگر ایسا اسی صورت ممکن تھا جب امریکہ اس خطے میں انسانی ہمدردی کی بنا پر قیام امن کی کوششیں کرتا۔ یہ امریکی حکمرانوں کی دوغلی امن پالیسی کا نتیجہ ہے کہ ایک طرف مسئلہ کشمیر عالمی امن کیلئے خطرہ بنا ہوا ہے اور دوسری طرف وہ افغانستان میں اپنی ہی لگائی آگ میں جھلس رہا ہے۔ یوں آج اگر جنوبی ایشیاء میں امن کا قیام سوالیہ نشان بن چکا ہے تو امریکہ کی اپنی پوزیشن بھی یہ ہے کہ ’’نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن‘‘ اور یوں ذلت اور رسوائی اس کا مقدر بن چکی ہے کہ یہ امریکی حکمرانوں کی غلط پالیسی کا نتیجہ ہے کہ آج سپر پاور ہوتے ہوئے اس کی معیشت ڈانواں ڈول نظر آتی ہے۔ بیروزگاری اور بدامنی امریکہ کا مقدر بن رہی ہے۔ امریکہ نے جو اربوں ڈالر جنگ پر خرچ کئے ہیں اپنے شہریوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کرتا تو آج امریکی عوام اپنے حکمرانوں کے خلاف صدائے احتجاج بلند نہ کررہے ہوتے۔ آج اگر امریکہ کو افغانسان سے نکلنے کا محفوظ راستنہ نہیں مل رہا تو اس میں قصور وار پاکستان ہے نہ افغان قوم بلکہ مجرم امریکی حکمران اور ان کے حواری ہیں‘ جنہوں نے بیس سال قبل ایک ایسے ملک میں جنگ کا آغاز کیا جس کی جغرافیائی سرحدوں بارے مکمل علم ہونا امریکی فوجیوں کیلئے ممکن نہیں تھا۔ یہ امریکہ کیلئے کس حد تک شرمناک صورتحال ہے کہ وہ دو دہائیوں سے جس قوم پر آگ برساتا چلا آ رہا ہے جس قوم پر بیس سال سے اس نے عرصہ حیات تنگ کر رکھا ہے آج اسی قوم سے رحم کی بھیک مانگ رہا ہے اور جو پاکستان ایٹمی طاقت ہوتے ہوئے امریکی حکمرانوں کو ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا آج اسی سے طالبان سے مذاکرات کی راہ ہموار کرنے سمیت افغانستان سے نکلنے کیلئے محفوظ راستہ ہموار کرنے کی درخواست کر رہا ہے۔

مگر حیرت ہے کہ انتہائی درجے کی ذلت اور رسوائی سمیٹنے کے باوجود امریکی حکام اپنی دوغلی پالیسی جاری رکھنے سے باز نہیں آ رہے اور درپردہ آج بھی داعش سمیت ایسی تنظیموں کی مالی مدد کررہے ہیں جو افغانستان سمیت اس خطے کا امن تباہ کرنے پر ادھار کھائے بیٹھے ہیں۔ اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ امریکی حکام کی یہ دوغلی پالیسی انہیں پوائنٹ آف نو ریٹرن پر لے جا چکی ہے کہ اگر امریکہ نے اب بھی مثبت راستہ اختیار نہ کیا تو ان کیلئے واپسی کا راستہ بند ہو جائے گا۔ افغانستان میں قیام امن کیلئے پاکستان ہمیشہ سے مثبت اقدام اٹھاتا چلا آ رہا ہے اب بھی اٹھا رہا ہے اور مستقبل میں بھی پاکستان کے ارادے نیک ہی رہیں گے مگر افغانستان ہو یا کشمیر کا مسئلہ یہ منطقی انجام تک صرف اسی صورت پہنچ سکتے ہیں جب امریکی حکام اپنی جارحانہ پالیسی ترک کرتے ہوئے دنیا بھر میں حکمرانی کا خواب دیکھا بند کر دیں اور امن کا راستہ اختیار کریں۔

پاکستان کو چاہئے کہ وہ خطے میں قیام امن کی مخلصانہ کوششیں جاری رکھے کیونکہ وہ وقت دور نہیں جب انشاء اللہ افغانستان میں امن کی صبح طلوع ہو گی اور کشمیر بھی آزاد ہوگا مگر ان مخلصانہ کوششوں کے ساتھ ساتھ امریکی اور ہندو ستانی حکمرانوں کی عیاری اور مکاری پر گہری نظر رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …