منگل , 13 اپریل 2021

شیخ رشید کی ریل

(مظہر بر لاس)

پہلے تو بلاول بھٹو زرداری کا شکریہ، جنہوں نے میری لکھی ہوئی بات پر عمل کرتے ہوئے شیخ رشید احمد سے معذرت کی ہے۔ اس سے یقیناً بلاول بھٹو زرداری کا قد بڑھا ہے، انہوں نے ایک اچھی روایت قائم کی ہے ورنہ ایک بڑی پارٹی ان کے اشارۂ ابرو کی منتظر تھی۔ شیخ رشید احمد بھی بلاول کے اس رویے پر خوش ہیں بلکہ انہوں نے صحافیوں سے مخاطب ہو کر کہہ دیا ہے کہ ’’بلاول اب دل کا جانی بن گیا ہے‘‘ شیخ صاحب نے مزید کہا کہ ’’یار چھوڑ دو اب، بلاول بچہ ہے، معصوم ہے‘‘

ویسے تو عمران خان کی کابینہ میں شامل چار پانچ وزراء بہت کام کر رہے ہیں مگر شیخ رشید کا جوڑ نہیں، انہوں نے تو ٹرین ہی میں ڈیرہ لگا لیا ہے، وہ بذریعہ ٹرین شہر شہر جا رہے ہیں، لوگ ان کا محبت سے استقبال کر رہے ہیں، ان پر پھول برسا رہے ہیں بلکہ اب تو ہر طرف یہ ہو رہا ہے کہ

پراں ہوجا سوہنی اے
ساہڈی ریل گڈی آئی

آج کل شیخ صاحب کی ریل کے چرچے ہیں، دورانِ سفر وہ خوب ریٹنگ لے رہے ہیں۔ اسی سفر میں ان کی بلاول بھٹو زرداری سے جھڑپ ہوئی، پھر ایک دو دن گولہ باری ہوتی رہی اور بالآخر بلاول کی معذرت نے لڑائی کا خاتمہ کر دیا۔ شیخ رشید نے ایک ریل سے حالیہ سیاست میں پانچ تیر چلائے ہیں، ایک ماہر سیاست دان کے طور پر وہ پانچوں میں کامیاب ہوئے ہیں۔ بلاول کے ساتھ انہوں نے لفظی جنگ کی، ن لیگ کے گرائونڈ سینٹرل پنجاب میں بذریعہ ٹرین بڑے ریلوے اسٹیشن پر جلسہ کیا، اس جلسے کیلئے کسی انتظامی افسر سے اجازت کے عمل سے پاک جلسہ گاہیں سجائی گئیں۔ یہ شیخ رشید احمد کی حکمت عملی ہے کہ وہ بڑے احسن انداز میں ن لیگ کی پچ پر پہنچ کر چھکے چوکے لگا رہے ہیں۔ تیسرے تیر میں انہوں نے وزیراعظم عمران خان کو بتایا ہے کہ جہاں سے تحریک انصاف کو شکست ہوئی تھی وہاں پی ٹی آئی کے لیڈر تو نہیں گئے مگر آپ کا شیخ رشید ہو کر آیا ہے، ن لیگ کے خلاف تقریریں بھی کر آیا ہے، ان تقریروں میں عمران خان کے سیاسی مخالفین کو خوب رگڑ کر آیا ہے۔ شیخ رشید احمد نے اپنے اس عمل سے عمران خان سمیت پورے ملک کے سیاست دانوں کو بتایا ہے کہ جس موسم میں لوگ جلسے نہیں کرتے شیخ رشید اس موسم میں بھی جلسے کر سکتا ہے۔ چوتھے تیر کے ذریعے جہاں شیخ رشید نے ملک کے تمام سیاست دانوں کو پیغام دیا ہے وہاں وفاقی کابینہ میں شامل اپنے ساتھیوں کو بھی بتا دیا ہے کہ جو کام آپ نہیں کر سکتے وہ کام شیخ رشید احمد دھڑلے سے کرسکتا ہے۔ پانچویں تیر میں فرزندِ پاکستان نے عالمی برادری کی توجہ حاصل کی ہے، شیخ رشید احمد نے یہ اعلان کر کے کہ ’’کرتار پور کو ماڈل ریلوے اسٹیشن بنائیں گے‘‘ دنیا بھر کے سکھوں کے دل جیت لئے ہیں۔ خوشی کی یہ لہر بھارت، برطانیہ، امریکہ اور کینیڈا سمیت کئی ملکوں تک پہنچ گئی ہے، دربار صاحب کرتار پور کو ماڈل ریلوے اسٹیشن بنانے سے پہلے وہاں ارد گرد باغات لگا دیئے گئے ہیں تا کہ سبزہ خوبصورتی میں مزید اضافہ کر دے۔ پاکستانی سیاست میں ٹاپ ریٹنگ کے حامل شیخ رشید احمد تین نسلوں کی سیاست کے عکاس ہیں۔ انہوں نے حالیہ بذریعہ ٹرین جلسے کر کے 1947ء سے پہلے کے مناظر یاد کروا دیئے ہیں۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ اور گاندھی سمیت بہت سے سیاست دان 47ء سے پہلے ایسے ہی کیا کرتے تھے۔ جلسوں سے خطاب کا انداز ساٹھ اور ستر کی دہائی یاد کروا دیتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ شیخ رشید سیاست کا بے باک مقرر ہے ،اس کی شعلہ بیانی سے ساٹھ اور ستر کی خوشبو آتی ہے کبھی کبھی تو 1940ء کے جلسوں کی مہک آتی ہے اور حیرت یہ ہے کہ کبھی عصر حاضر کا گمان ہوتا ہے، وہ اس کمال سے جدید اصطلاحیں استعمال کرتے ہیں کہ تازگی کا احساس ختم نہیں ہوتا۔ گویا وہ تین زمانوں کے نمائندہ سیاست دان ہیں کہ

چلی ریل نی، چلی ریل نی
سوہنے رب نے بنایا تیرا میرا میل نی

کمال کے جملے باز اس سیاست دان نے حالیہ دورے میں کوٹ رادھا کشن کو بھی یاد رکھا، ان کی یادوں میں کہیں کوٹ رادھا کشن ضرور ہو گا، وہ پنجابی کی معروف شاعرہ طاہرہ سرا کے دیس منڈی ڈھاباں سنگھ بھی گئے۔ اب زمانہ اسے صفدر آباد کہتا ہے، ہمیں ایک خوبصورت نام ختم کرنے سے کیا ملا؟ ہمیں نام تبدیل نہیں کرنا چاہئے تھے۔

2018ء کا الیکشن شیخ رشید اسی دن جیت گئے تھے جس روز وہ دونوں بھائیوں کی حکومتوں کی تمام تر رکاوٹیں عبور کر کے کمیٹی چوک پہنچ گئے تھے، وہ مقررہ وقت تین بجے پہنچے تھے۔ شیخ رشید احمد عوامی آدمی ہیں، عوامی لباس پہنتے ہیں، عوامی لب و لہجہ اختیار کرتے ہیں، وہ بلاشبہ راولپنڈی کے مقبول ترین سیاسی رہنما ہیں۔ پہلے پیپلز پارٹی ان کے مقابلے میں بڑے بڑے لیڈر اتارتی تھی، وہ ہار جاتے تھے اب ن لیگ بڑے بڑے لیڈر اتارتی ہے، وہ بھی ہار جاتے ہیں۔ کبھی یہ بھی ہوتا کہ دونوں پارٹیاں مل کر الیکشن لڑتی ہیں مگر شیخ رشید پھر جیت جاتا ہے۔ ابھی شیخ رشید کے کچھ خواب ادھورے ہیں اسی لئے مجھے نائلہ انجم کا شعر بہت یاد آ رہا ہے کہ

کم تو نہیں خراب محبت میں اپنا حال
لیکن جو سوچ رکھا تھا ویسا نہیں ہوا
(بشکریہ جنگ نیوز)

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …