جمعہ , 26 اپریل 2019

سیاسی اور اخلاقی دیوالیہ پن

(سینیٹر رحمان ملک)

ملک میں معاشی دیوالیہ پن کے بارے میں جو کچھ پڑھتے ہیںاسکے مطابق یہ معاشی دیوالیہ پن قیمتوں میں اضافہ کررہا ہے جس سے ہر شہری متاثر ہے۔ میں ایک دوسرے موضوع پر لکھنا چاہتا ہوں یہ موضوع ایسا ہے جو ہمیں قانون کی حکمرانی اور بدعنوانی کی طرف لے کر جارہا ہے۔ مجھے یہ لکھتے ہوئے اچھا نہیں لگتا کہ اس وقت جو کام ہورہا ہے وہ ہمارے موجود سیاسی نظام پر ایک بڑا سوال ہے۔ ہمارے پانچ پچھلے وزرائے اعظم شوکت عزیز‘ یوسف رضا گیلانی ‘ پرویز اشرف‘ شاہد خاقان عباسی سب کے سب نیب زدہ ہیں اور ان پر بدعنوانی کے الزام میں نیب عدالتوں میں مقدمات چل رہے ہیں۔ کیا یہ سیاسی دیوالیہ پن نہیں ہے۔ پارلیمنٹ کو ہمارے نظام حکمرانوں اور احتساب کے نظام کا ازسرنو جائزہ لینا چاہیے۔ موجودہ حالات میں کون مستقبل میں وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے پر تیار ہوگا۔ اگر وزیراعظم کے خلاف تحقیقات ہونی ہے اور اسے عدالتوں کا سامنا کرنا ہے تو کوئی وزیراعظم بننا پسند کرے گا؟ اس صورت حال میں ہمارے موجودہ نظام پر کئی سوالات کھڑے کرادیئے گئے ہیں اور عام آدمی ان حالات کا پریشانی سے سامنا کررہا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ہم مزید دیوالیہ پن کی طرف سفر کررہے ہیں۔ بحیثیت قوم ہم ایک دوسرے کے لیے احترام اور محبت کے جذبات سے عادی ہوتے جارہے ہیں۔ ہمارے آباؤ اجداد نے بڑی قربانیوں سے ایک آزاد ملک لے کر دیا تھا ۔ خاص کر انہیں ہندوں کے ہاتھوں استحصال کا تجربہ ہوا تھا۔ ہمارے آباؤ اجداد چاہتے تھے کہ ہماری آنے والی نسلیں ایک آزاد ملک میں عزت اور آزدی کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔

پاکستان برصغیر کے مسلمانوں کو عزت اور مساوی حقوق دینے کے لیے بنایا گیا تھا۔ 1937ء اور اس کے بعد 1944 اور 1945 کے انتخابات میں یہ واضح ہوگیا تھا کہ ہندو مسلمانوں کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں تھے نہ وہ انہیں حقوق دینا چاہتے تھے ۔

اسلام ہمیں ایک جامع نظام زندگی عطا کرتا ہے جس کی بنیاد دوسرے کے ساتھ اچھے سلوک پر رکھی گئی ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ ’’اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامو اور ایک دوسرے سے اختلاف نہ کرو اور گروہ بندی نہ کرو‘‘ وہ وقت یاد رکھو کہ جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے اور اللہ نے تمہارے دلوں میں الفت پیدا کر دی اور تم آپس میں بھائی بھائی بن گئے۔

آزادی کے بعد بتدریج لالچ اور اقتدار کی خواہش نے ہمیں اپنی گرفت میں لے لیا جلد ہی آپس میں بھائی چارے اور احترام کا رشتہ ختم ہوگیا۔ ہم نے اپنے آباؤ اجداد کے ساتھ کئے گئے وعدے فراموش کر دئیے ۔ قائداعظم نے ہمیں ’’اتحاد ‘ ایمان اور تنظیم‘‘ کا سبق دیا تھا۔ یہی نعرہ ہماری قومی ترقی کی بنیاد بن سکتا ہے اسی کو اپنا کر ہم باہمی اخوت اور احترام کا جذبہ پیدا کرسکتے ہیں۔ اس نعرے پر عمل کرکے ہم قانون کی حکمرانی کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔

ہماری اکثریت مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ ہم نبیؐ کریم کی تعلیمات پر عمل کرتے ہیں۔ اسلام ہمیں بھائی چارے کے رشتہ میں منسلک کر دیتا ہے۔ جس سے ہم ایک دوسرے کا احترام اور ایک دوسرے سے محبت کرسکتے ہیں۔

قائداعظم نے ایک آزاد ملک ہمیں دے کر اپنی تقریر میں کہا تھا۔ ’’ میں نے ایک خونی جنگ کے بعد آپ کو پاکستان بنا کر دیا ہے۔ یہ ملک سیاسی جدوجہد ‘ اخلاقی اور عملی جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ قلم کی طاقت تلوار کی طاقت سے زیادہ موثر ہوتی ہے۔ ہم سچائی کے راستے پر رہے اس لیے ہمیں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ یہ ہماری عظیم فتح ہے جس کی تاریخ میں کوئی دوسری مثال نہیں۔ اب اس عظیم وطن کی تعمیر کریں اور اسے عظیم ملک بنائیں۔ ہم اتحاد کے اس سبق کو فراموش کرسکتے ہیں جس کے لیے ہمارے آباؤاجداد نے عظیم قربانیاں دیں۔ ہم نے ایک دوسرے کے خلاف بازاری زبان استعمال کرنا شروع کر دی ہے۔

ہم شیریں زبان بھول چکے ہیں۔ اس لیے ہمارا کردار مجروع ہوگیا ہے۔ ایک دوسرے کا احترام اور محبت کا رشتہ ہمارے درمیان اتحاد کی بنیاد بن سکتا ہے۔

ہم اس وقت سیاسی اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم ہیں ۔ ہمارے دشمن ہمیں فرقہ واریت کے راستے تقسیم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ہمیں مذہبی بنیادوں پر تقسیم کی وجہ سے دہشت گردی کا سامنا ہے اسی لیے میں نے طالبان کو ظالمان کا نام دیا ہے۔ کیا کوئی مذہبی سکالر ہمیں یہ بتا سکتا ہے کہ ہم مذہبی تقسیم کو ختم کرسکتے ہیں۔ اور کس طرح ہم مذہب اور عقیدے کے اختلافات کے باوجود قومی مقاصد حاصل کرسکتے ہیں۔

ہمارا 1947ء سے پہلے والا جذبہ کہاں ہے اس وقت ہماری قیادت قوم میں اتحاد کرنے کی بجائے ہمیں تقسیم کررہی ہے۔ ہم اپنے ہم وطنوں کو سہولت دینے کی بجائے اس کے لیے مسائل کھڑے کررہے ہیں۔ یہاں کسی کی عزت اور احترام اس کے سماجی مقام اور بنک بیلنس پر مبنی ہے۔ ہمارے وزرائے اعظم ‘ بیوروکریسی کے بریف پر چلتے ہیں‘ مخالفین پر تابرتوڑ حملے کرتے ہیں اور مخالفین کے خلاف غیر شائستہ زبان استعمال کرتے ہیں۔ اگر ہم ایک قومی ضابطہ اخلاق طے کرکے اس پر عملدرآمد کریں تو ہم موجودہ اخلاقی دیوالیہ پن سے بچ سکتے ہیں۔

(ترجمہ و تلخیص: جاوید صدیق)

 

یہ بھی دیکھیں

نئے پاکستان کو ایران جیسے انقلاب کی تلاش

(تحریر: ٹی ایچ بلوچ) انقلاب اسلامی ایران ایک سچائی اور حقیقت ہے، روزنامہ جنگ نے …