ہفتہ , 24 اگست 2019

پاپائے روم کا دورہ ابو ظہبی، پاکستان میں صہیونی گماشتے سرگرم

(تحریر: صابر ابو مریم)

حالیہ دنوں پاپائے روم مسیحی دنیا کے ایسے واحد رہنما ہیں، جو گذشتہ آٹھ سو برس میں پہلے پاپ ہیں، جو کسی عرب سرزمین پر آئے ہیں۔ یقیناً ان کا یہ دورہ مسلمانوں اور مسیحی برادری کے مابین محبت و الفت کا مظہر ثابت ہوا اور ہونا بھی چاہیئے۔ پاپائے روم کے دورہ کو جہاں ابو ظہبی میں قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا، وہاں دنیا بھر کی مہذب قوموں نے اس دورہ کو مثبت انداز میں بیان کیا ہے، لیکن پاکستان کی سرزمین پر موجود صہیونی گماشتے موقع کی تلاش میں تھے کہ کسی طرح کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ پائے اور حالات و واقعات کا رخ موڑ کر اسرائیل کی نوکری کرتے ہوئے پاکستان میں اسرائیل کی حمایت کے حوالے سے ماحول سازی کرکے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کے نظریات و افکار کو پامال کیا جائے اور پاکستان کی پیٹھ میں خنجر سے گہرا وار کیا جائے۔

دنیا نیوز پر معروف اینکر کامران خان نے پاپائے روم کے دورہ ابو ظہبی پر تبصرہ انتہائی مہارت اور چالاکی کے ساتھ مثبت انداز میں شروع کرتے ہی ساتھ اس کو اسرائیل کے ساتھ عرب ممالک کے تعلقات کے ساتھ جوڑتے ہوئے پاکستان کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات بنوانے کے لئے جوڑ دیا، جس سے ان کے پس پردہ ناپاک عزائم کھل کر سامنے آئے اور اس ناپاک کھیل میں ان کا ساتھ دینے کے لئے نام نہاد معروف مذہبی اسکالر جاوید احمد غامدی نے ان کا بھرپور ساتھ دیا۔ یہ موصوف تو صہیونیوں کی نمک خواری میں اس قدر آگے چلے گئے کہ قرآن مجید کی آیات کے بارے میں یہاں تک کہہ ڈالا کہ یہ آیات تو اس وقت کے لئے آئی تھی، گویا آج کے زمانے میں ہم ان آیات کو فراموش کر دیں، یا یہ کہ اب یہ آیات اس قابل نہیں ہیں۔(نعوذ باللہ)

معروف اینکر نے انتہائی مہارت اور چالاکی کے ساتھ پہلے سوال میں بات کی کہ کیا مسیحی ممالک اور مسلم ممالک کے تعلقات اور خارجہ تعلقات میں کوئی قدغن ہے؟ اس بارے میں مہمان اسکالر نے کہا یقیناً کوئی قدغن نہیں، ہم بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ یقیناً کوئی قدغن نہیں ہے، البتہ اینکر نے مسیحی اور مسلم تعلقات کے ساتھ ساتھ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو جان بوجھ کر زیر سوال رکھا اور یہاں پر ان عرب ممالک کو بھی درست ثابت کرنے کی کوشش کی، جنہوں نے غاصب صہیونیوں کی جعلی ریاست کے ساتھ تعلقات قائم کر رکھے ہیں اور ان ممالک کو پاکستان کے لئے بطور مثال پیش کرنے کی کوشش کر رہے تھے، حالانکہ ان کو چاہیئے تھا کہ یہ عوام کو بتاتے کہ اسرائیل ایک جعلی ریاست ہے، جو فلسطین پر غاصبانہ تسلط قائم کئے ہونے کے ساتھ ساتھ گذشتہ ستر برس سے مظلوم فلسطینیوں کے خون کی ندیاں بہانے میں مصروف عمل ہے، اسرائیل کی اس جارحیت اور دہشت گردانہ اقدام کو امریکہ کی مسلسل سرپرستی بھی حاصل ہے، لیکن شاید اس کام کے لئے دونوں حضرات کو ڈالرز ادا نہیں کئے گئے تھے۔

درج بالا سوال کے تعلق سے اینکر نے سوال اٹھایا تھا کہ قرآن مجید میں یہود و نصاریٰ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ان کو دوست نہ بناؤ، تو اسکے جواب میں نام نہاد مذہبی اسکالر نے قرآن کی آیات کو ماضی کے زمانہ تک محدود قرار دے دیا کہ گویا قرآن کے کچھ حصے ماضی سے منسوب ہیں اور اب آج کے دور میں ان سے سبق لینے کی ضرورت ختم ہو چکی ہے۔(نعوذ باللہ) دونوں حضرات نے انتہائی مہارت کے ساتھ ایسے سوالات پیدا کئے اور ایک منصوبہ بندی کے تحت پاپائے روم کے دورہ کو اس طرف موڑ کر پیش کیا کہ عرب ممالک کے بعد اب پاکستان کو بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کر لینے چاہئیں۔ دراصل یہی وہ ناپاک سازش تھی جو صہیونی گماشتوں کے اس عمل سے آشکار ہوئی اور پاکستان کے عوام باخبر ہوئے کہ پاکستان کو کھوکھلا کرنے اور غیر مستحکم کرنے کے لئے کس کس بھیس میں کالی بھیڑیں موجود ہیں۔

یہاں پر واضح رہے کہ مسلمانوں کے مسیحیوں کے ساتھ یا پھر کسی بھی اور مذہب کے ساتھ خواہ یہودی بھی کیوں نہ ہوں، تعلقات میں کوئی حرج یقیناً نہیں ہے اور اس حوالے سے اسلامی تعلیمات میں باقاعدہ پیرا میٹرز موجود ہیں۔ جہاں بات اسرائیل کی ہوتی ہے تو یہاں معاملہ مسلمان اور عیسائی اور یہودی تعلقات کا نہیں ہوتا ہے بلکہ یہاں معاملہ مظلوم اور ظالم دونوں میں سے کسی ایک کے چناؤ کا ہے۔ فلسطینی عرب جس میں مسلمان، عیسائی، یہودی (جو صہیونیوں کو مسترد کرتے ہیں) سب کے سب شامل ہیں اور سب کی ایک آواز ہے کہ اسرائیل ایک غاصب جعلی ریاست ہے اور فلسطین پر اس کا ناجائز تسلط کا خاتمہ کیا جائے۔ اسی طرح امریکہ میں یہودیوں کی بہت بڑی تعداد موجود ہے، جو فلسطین کی حمایت کرتی ہے اور صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کو تسلیم ہی نہیں کرتے۔

دنیا نیوز کے اس پروگرام میں دونوں موصوف عالمگیر اخلاقیات اور انسانیت کا درس دیتے ہوئے غاصب صہیونی ریاست کی حمایت میں زمینہ سازی کرنے کی ناکام کوشش کرتے رہے، کیونکہ جب انہوں نے عالمگیر اخلاقیات اور انسانیت کی بات کی اور ساتھ ہی یہ بھی کہہ ڈالا کہ عقیدہ ریاستوں کے تعلقات میں رکاوٹ نہیں ہوسکتا۔ یقیناً اس بات پر سب متفق ہیں کہ کسی کے عقیدہ سے متعلق ریاستوں کے تعلقات انحصار نہیں کرتے بلکہ اصولوں کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔ اس گفتگو کا ڈرامائی موڑ عین اس وقت پیش آیا، جب اینکر نے نام نہاد مذہبی اسکالر سے پاکستان کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بات کر ڈالی اور جواب میں انہوں نے کہا کہ دیر آئے درست آئے۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نام نہاد مذہبی اسکالر جو عالمگیر اخلاقیات اور انسانیت کا درس دیتے تھک نہیں رہے تھے، اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو کس طرح کی عالمگیر اخلاقیات اور انسانیت کے زمرے میں شمار کرتے ہیں؟ جعلی ریاست اسرائیل کا قیام کیا عالمگیر اخلاقیات کا نمونہ ہے؟ کیا اسرائیل کی جانب سے فلسطین کے مظلوم مسلمانوں، عیسائیوں اور صہیونی مخالف یہودیوں کو جبری جلا وطن کرنا کیا جاوید غامدی کی عالمگیر اخلاقیات اور انسانیت کے زمرے میں ہے؟ کیا اسرائیل کی جانب سے گذشتہ ستر برس میں مظلوم فلسطینیوں کا قتل عام غامدی صاحب کی تلخیص کی گئی عالمگیر اخلاقیات اور انسانیت شمار ہوگا؟ کیا اسرائیل کی جانب سے غزہ کا بارہ سالہ غیر انسانی محاصرہ بھی عالمگیر اخلاقیات اور انسانیت کا درس ہے۔؟ کیا اسرائیل کی جانب سے داعش جیسی خونخوار اور اسلام کا نام بدنام کرنے والی دہشت گرد تنظیموں کا قیام اور ان کی مدد کرنا بھی عالمگیر اخلاقیات ہے،؟ کیا اسرائیل کی جانب سے لبنان کے اندر فلسطینیوں کا صابرا اور شاتیلا کے کیمپوں میں قتل عام کرنا غامدی صاحب کے نزدیک انسانیت اور عالمگیر اخلاقیات ہے۔؟ کیا غزہ اور مقبوضہ بیت المقدس میں دم توڑتے فلسطینی معصوم بچے، مائیں، بزرگ اور جیلوں میں بے بند کئے گئے فلسطینی جاوید غامدی صاحب کی اسرائیل کو پڑھائی گئی عالمگیر اخلاقیات اور انسانیت کا نتیجہ ہے۔؟

خلاصہ یہ ہے کہ ایک سازش کے تحت اسرائیلی پے رول پر پاکستان میں موجود صہیونیوں کے گماشتے سرگرم ہوچکے ہیں اور عوام الناس کا ذہن خراب کرنے کے لئے کمزور اور فضول قسم کی باتوں کو منظر عام پر لا کر ان حقائق کو چھپاتے ہیں، جو گذشتہ ستر برس سے فلسطینی عوام پر ظلم و ستم ڈھایا جا رہا ہے، اسی طرح عام فہم لوگوں کو مختل حیلہ بہانوں سے اسرائیل کی ہمدردی کا درس پڑھانے والے یہ صہیونی گماشتے آخر یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ صہیونی کی جعلی ریاست اسرائیل کی ستر سالہ ظلم و ستم کی بدترین تاریخ بھی موجود ہے۔ ہمارا اسرائیل کے خلاف قیام اور جدوجہد بانی پاکستان کی اس نظریاتی بنیاد پر قائم ہے، جس کے تحت انہوں نے واضح طور پر کہا تھا کہ فلسطینیوں کے سرزمین پر بننے والی ناجائز ریاست اسرائیل نہ صرف فلسطین کے لئے بلکہ دنیا بھر کے انسانوں کے لئے سنگین خطرہ رہے گی۔

اسرائیل سے تعلقات نہ بنانے کی وجہ یہ نہیں ہے کہ وہاں یہودی ہیں یا یہودیوں کی ریاست ہے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں موجود یہودیوں کی بہت بڑی تعداد بھی صہیونی نظریہ اور صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کو تسلیم ہی نہین کرتے اور سب کے سب فلسطین کے نام سے باقی رہنے کے معتقد ہیں، لیکن افسوس ہے، ان پست ذہن افراد پر جو چند ڈالروں کے عوض اپنا ایمان اور ارض وطن کی محبت اور نظریہ کا سودا کرتے ہیں۔ نوجوان نسل کو ایسے حالات سے بہت ہوشیار رہتے ہوئے مملکت خداداد پاکستان کو مستحکم کرنا ہے اور پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی گھناؤنی سازش کرنے والے صہیونی گماشتوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنا چاہیئے، چاہے وہ مذہبی اسکالرز کے لبادے میں ہوں یا ذرائع ابلاغ کی چادر اوڑھ رکھی ہو یا پھر حکومتی صفوں میں یا کسی اور شکل میں ہوں قابل قبول نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

امریکہ ایران کشیدگی کے خطے پر اثرات

(مرزا اشتیاق بیگ) برطانیہ کے زیر انتظام جبرالٹر، مسلمانوں میں ’’جبل الطارق‘‘ کے نام سے …