جمعرات , 21 مارچ 2019

عراق میں ڈونلڈ ٹرمپ کا بامقصد انارکزم

(تحریر: رضا رحمانی)

عراق ان دنوں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کا مرکز بن چکا ہے۔ امریکی صدر نے عراقی حکام سے ملاقات کئے بغیر اور انہیں پیشگی اطلاع دیے بغیر عراق میں عین الاسد میں واقع امریکی فوجی اڈے کا دورہ کرنے کے بعد کئی بار اپنے بیانات میں عراق میں امریکی فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کرنے پر زور دے چکے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کے نیوز چینل سی بی ایس کو انٹرویو دیتے ہوئے ایران سے متعلق مشرق وسطی میں اپنی پالیسیوں کی توسیع کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: "عراق میں امریکی فوجیوں کو باقی رکھنے کا مقصد ایران کی دیکھ بھال کرنا ہے۔”

عراق میں امریکی فوج کے عملی اقدامات اور موصل اور بغداد جیسے شہروں میں امریکی فوجیوں کا گشت اسی تناظر میں دیکھے جانے کی ضرورت ہے۔ اس مسئلے نے عراقی گروہوں اور عوام کو غضبناک کر دیا ہے۔ عراق سے متعلق ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کا جائزہ لینے سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی صدر اپنے دعووں کے برعکس عراق میں امریکی فوجیوں کی موجودگے کے ذریعے اس ملک کی صورتحال بہتر بنانے کا ارادہ نہیں رکھتے بلکہ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ امریکی فوجی عراق میں ایک قسم کا بامقصد اور منظم انارکزم پھیلانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی نظر میں امریکہ شام میں حد سے زیادہ خطروں کی زد میں ہے۔ چونکہ شام حکومت نے اس ملک میں امریکی فوجیوں کی موجودگی کی قانونی اجازت نہیں دی لہذا شام میں امریکی فوجیوں کا کسی قسم کی مشکلات کا سامنا کئے بغیر زیادہ عرصہ باقی رہنا ممکن نہیں ہے۔ دوسری طرف عراق میں امریکی فوجیوں کی موجودگی عراق حکومت کے ساتھ انجام پائے امریکی سکیورٹی معاہدے کے تحت انجام پا رہی ہے۔ البتہ اس نکتے پر بھی توجہ ضروری ہے کہ اسرائیل نے بھی اپنے بقول شام میں ایرانی اہداف کو ٹھیس پہنچانے کی بھرپور کوشش جاری رکھی ہوئی ہے اور اس بارے میں امریکہ اور اسرائیل کے درمیان ایک طرح کی کام کی تقسیم ہو چکی ہے۔

یہاں ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ عراق میں سب سے زیادہ کس چیز کے بارے میں پریشان ہیں؟ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ عراق میں ان کی پریشانی کی سب سے بڑی وجہ عوامی رضاکار فورس "الحشد الشعبی” ہے۔ عراق میں ایران کی حامی تصور کی جانے والی فورسز کی طاقت میں روز بروز اضافے نے مغربی – عربی – عبری محاذ کو شدید خوفزدہ کر رکھا ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ اس محاذ کا سربراہ ہونے کے ناطے عراقی حکام کو عوامی رضاکار فورس الحشد الشعبی ختم کر دینے یا ملک میں خانہ جنگی کیلئے تیار ہو جانے میں سے ایک آپشن کا انتخاب کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔

اسی سلسلے میں بعض ذرائع ابلاغ کے مطابق کچھ عرصہ پہلے امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپئو نے عراق میں سرگرم مسلح گروہوں کی ایک لسٹ عراقی حکومت کو بھیجی ہے اور اس سے مطالبہ کیا ہے کہ ان گروہوں کو ختم کر کے ان کے پاس موجود اسلحہ ضبط کر لیا جائے۔ اس لسٹ میں شامل گروہوں کی اکثریت الحشد الشعبی میں شامل ہے۔ یہ امریکی مطالبہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب عراقی پارلیمنٹ باقاعدہ بل کی منظوری دے کر الحشد الشعبی میں شامل مسلح گروہوں کو عراق آرمی کا حصہ قرار دے چکی ہے۔

دوسری طرف اگرچہ عراق میں امریکی فوجیوں کی موجودگی سے متعلق عراق اور امریکہ کے درمیان کئی معاہدے موجود ہیں لیکن شہر میں امریکی فوجیوں کا گشت اور عراق کے کسی ہمسایہ ملک کے خلاف فوجی کاروائی کے دوران عراقی سرزمین کو استعمال کرنے جیسے امور ہر گز عراقی حکومت کیلئے قابل قبول نہیں ہو سکتے کیونکہ ان کی وجہ سے عراق شدید مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے۔ اس بارے میں عراق کے صدر برہم صالح نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مذکورہ بالا بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو عراق میں امریکی فوجیوں کی موجودگی کے ذریعے ایران پر نظر رکھنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ عراقی صدر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عراق میں امریکی فوجیوں کی موجودگی امریکہ اور عراق میں موجود معاہدوں کے تحت ہے۔

اسی طرح عراق کے وزیراعظم عادل عبدالمہدی نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ عراق ہر گز ایران کے خلاف عائد کی جانے والی پابندیوں کا حصہ نہیں بنے گا۔ انہوں نے کہا: "عراق شہدا کی جدوجہد اور قربانیوں اور ایران جیسے دوست ممالک کی مدد سے ہی داعش کو شکست دینے میں کامیابی سے ہمکنار ہوا ہے۔” دوسری طرف الحشد الشعبی میں شامل مختلف گروہوں نے بھی ان امریکی بیانات اور اقدامات پر ردعمل ظاہر کیا ہے جو انتہائی ذہانت آمیز اور عاقلانہ ہے۔ صوبہ نینوا میں الحشد الشعبی کے کمانڈر نے کہا کہ اس صوبے میں امریکی فوجیوں کی موجودگی کی انتہائی محدود پیمانے پر اجازت دی گئی ہے اور وہ صرف ایک فوجی اڈے میں رہ سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ الحشد الشعبی نے امریکی فوجیوں کا راستہ روک کر انہیں پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا ہے۔ مقتدا صدر کی سربراہی میں اتحاد "سائرون” کے ترجمان حمداللہ رکابی نے بھی بغداد میں امریکی فوجیوں کی موجودگی اور بعض امریکی فوجیوں کی شہر میں آمدورفت پر مبنی خبروں پر ردعمل ظاہر یرتے ہوئے اسے قومی ارادے کیلئے بڑا چیلنج اور عراقی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ اسلامی مزاحمت کے گروپ "النجباء” کے ترجمان سید ہاشم موسوی نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ امریکہ کچھ نہیں کر سکتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ عراق کے مزاحمتی گروہ ٹرمپ کی دھونس پر مبنی پالیسیوں کو خاک میں ملا دیں گے۔

عراقی حکام اور سیاسی رہنماوں کے ان بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ عراق کے جہادی گروہوں نے امریکی دھمکیوں کا جواب دینے کے ساتھ ساتھ کسی قسم کے عجولانہ اقدام سے پرہیز کیا ہے۔ مذکورہ بالا مطالب کی روشنی میں ظاہر ہوتا ہے کہ مستقبل قریب میں عراق کے سیاسی میدان میں اچھی خاصی ہلچل پیدا ہونے والی ہے۔ دوسری طرف ماضی کے تجربات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ٹھوس رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا ہے وہ بڑی آسانی سے اپنے موقف سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ صدارتی مہم کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی حریف ہیلری کلنٹن سے الیکشن مناظرات میں کئی بار اس بات پر زور دیا تھا کہ عراق پر فوجی جارحیت جیسی امریکی پالیسیاں ہی درحقیقت دہشت گرد گروہ داعش کی پیدائش کا سبب بنی ہیں اور امریکہ اپنی ان غلطیوں کو دہراتا جا رہا ہے اور اس طرح اربوں ڈالر خرچ کر چکا ہے۔

لیکن اب خود ڈونلڈ ٹرمپ بھی اپنے غیر سنجیدہ اقدامات کے ذریعے عراق میں بدامنی کا باعث بن رہے ہیں۔ دوسری طرف عراق کے جہادی گروہوں نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ قابض قوتوں سے مقابلہ کرنے میں اسٹریٹجک صبر کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ عنقریب امریکی حکام ایک بار پھر اس حقیقت کا اعتراف کرتے نظر آئیں گے کہ عراق اور شام میں ڈونلڈ ٹرمپ کے اقدامات اور پالیسیوں نے مشرق وسطی میں امریکی مفادات کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ آخرکار امریکی حکام کو یہ حقیقت تسلیم کرنا پڑے گی کہ اسلامی ممالک میں اجنبی قوتوں کیلئے کوئی جگہ نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم کی مثبت سوچ کاش عالمی ٹرینڈ بن جائے

(نصرت جاوید) دُنیا کے بے شمار ممالک میں اقتدار کی ہوس میں جنونی ہوئے کئی ...