ہفتہ , 24 اگست 2019

علیم خان کی گرفتاری ’’احتساب سب کا؟‘‘

(عارف بہار) 

قومی احتساب بیورو نے پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما اور پنجاب کے سینئر وزیر عبدالعلیم خان کو تفتیش کیلئے بلانے کے بعد گرفتار کر کے حوالات بھیج دیا۔ گرفتاری کے فوراً بعد ہی انہوں نے برق رفتاری کیساتھ اپنے عہدے سے استعفیٰ بھی دے دیا اور اب وہ ذاتی حیثیت میں نیب کے سوالات اور مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ عبدالعلیم خان رئیل سٹیٹ کی دنیا کے انسان ہیں اور ان کی گرفتاری آمدن سے زیادہ اثاثوں کے ذرائع اور ثبوت بتانے میں ناکامی کی بناء پر ہوئی۔ علیم خان کو مخالفین نے عمران خان کی اے ٹی ایم مشین کا نام دیا تھا گویا کہ ان کا شمار تحریک انصاف کے مالی معاونین میں ہوتا ہے۔ شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین کے مختلف انداز سے دوڑ سے باہر ہو جانے کے بعد علیم خان کو پنجاب کی وزارت اعلیٰ کامضبوط ترین امیدوار سمجھا رہا تھا۔ سیاسی منظر پر عثمان بزدار کی اچانک اور حیران کن انٹری کے باعث علیم خان اس دوڑ سے باہر تو ہوگئے مگر ان کے نہاں خانۂ دل میں خواہش کی چنگاری سلگتی ہی رہی۔ یوں بھی ایک دوراُفتادہ علاقے کے دہقان کے مقابلے میں صاحب ثروت شہری بابو ہتھیار کیوں کر ڈال سکتا ہے؟ عثمان بزدار میڈیا کی سب سے زیادہ زد میں ہیں حتیٰ کہ مخالفین بھی عمران خان کو بھول کر عثمان بزدار کو ہی نشانہ بنانے کیلئے یاد رکھے ہوئے ہیں۔ عثمان بزدار پر ہونے والی اس یلغار کا تعلق علیم خان کے دل میں دبی ہوئی خواہش کی راکھ سے ہو سکتا ہے۔ رئیل سٹیٹ کا بندہ ملک ریاض جتنا حاتم طائی نہ بھی ہو تب بھی کچھ نہ کچھ خو‘ بُو کا حامل ضرور ہوتا ہے۔

اپوزیشن کہتی ہے کہ عثمان بزدار ہیومن شیلڈ ہیں ان کے پیچھے اصل طاقت عمران خان ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان بھی میڈیا اور مخالفین کی یلغار کے آگے عثمان بزدار کی ہیومین شیلڈ بن جاتے ہیں، یوں دونوں میں من وتو کی تمیز ختم ہو گئی ہے۔ عمران، عثمان اور علیم یعنی تین عین کا یہ عقدہ کھلنا باقی ہے۔ گرفتاری کے بعد احتساب کی زد میں آنے والے وہ حکومتی جماعت کے اہم ترین شخص ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ سلسلہ علیم خان پر ہی رکنے والا نہیں بلکہ مرحلہ درمرحلہ پی ٹی آئی کے مشکوک لوگوں تک دراز ہوتا چلا جائے گا۔ ملک میں جاری موجودہ احتسابی عمل کیخلاف اس کی زد میں آنے والی دو بڑی جماعتوں مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کا اعتراض یہی تھا کہ احتساب صرف انہی کا کیوں؟۔ پہلے مسلم لیگ ن باربار میڈیا پر یہی سوال اُٹھاتی رہی۔ جب احتساب کا رخ پیپلزپارٹی کی جانب ہوا تو وہ بھی ہمارا ہی کیوں؟ کے سوال میں ہم نوا بن گئی۔ میڈیا بھی یہ سوال اُٹھانے لگا کہ احتساب صرف دو جماعتوں کا ہی کیوں؟۔ اس سے پہلے نیب کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال بار بار یہ واضح کرچکے تھے کہ نیب سب کا احتساب کے اصول پر یقین رکھتا ہے اور جلد یابدیر یہ نعرہ حقیقت کی صورت میں سامنے آئے گا۔ اس کے باوجود اپوزیشن جماعتوں کو یہ صرف یکطرفہ اور مرضی کا احتساب ہی دکھائی دیتا رہا۔ اپوزیشن کا اعتراض اب بھی باقی ہے، ان کا خیال ہے علیم خان عثمان بزدار کے اوپننگ بیٹسمین ہیں۔ عثمان بزدار ناکام ہوئے تو تازہ دم علیم خان آگے بڑھا دئیے گئے۔ اس لئے علیم خان کو جلد ازجلد نیب کی واشنگ مشین سے گزارنا مقصود ہے۔

اپوزیشن کے اعتراضات اور خدشات اپنی جگہ علیم خان کی گرفتاری سے مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کا مخمصہ کچھ اور بڑھ سا گیا ہے۔ عمران خان کو قریب سے جاننے والے برملا کہتے ہیں کہ اگر علیم خان کی گرفتاری سچ مچ ہوئی ہے تو عمران خان انہیں قانون کا سامنا کرنے کیلئے تنہا چھوڑ دینے میں لمحوں تاخیر نہیں کریں گے بلکہ اپنی ساکھ کی خاطر کچھ زیادہ بے اعتنائی کا شکار کر دیں گے مگر دلچسپ بات یہ کہ علیم خان کو عمران خان کی اے ٹی ایم مشین کا نام دینے والے مسلم لیگ ن کے رہنما اب علیم خان کی گرفتاری کی مخالفت کرنے کیساتھ ساتھ انہیں مظلوم قرار دینے پر مجبور ہیں۔ ماضی کی تاریخ کو دیکھیں تو احتساب کے نام پر سب کچھ نہایت صفائی اور ڈھٹائی سے ہوتا رہا ہے۔

اپوزیشن کا دوسرا نکتہ یہ ہے کہ اب کچھ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے کئی دوسرے لیڈروں کی گرفتاریوں کی تیاری مکمل ہے مگر توازن برقرار رکھنے کی خاطر حکومت کے ایک خاص بندے کو گرفتار کر لیا گیا۔ یہ نکتہ بھی ماضی کے طریقۂ احتساب کی روشنی میں خاصا وزن دار ہے۔ اب نیب نے علیم خان کو گرفتار کر کے ’’سب کا احتساب‘‘ کے اپنے نعرے اور دعوے کی طرف عملی پیش رفت کا تاثر دیا ہے۔ اس سے پہلی بار احتساب کی اصطلاح کے بامعنی اور باوقار ہونے کی کچھ امید بندھ چلی ہے۔

ماضی میں مرضی کا احتساب، ادھورا احتساب اور انتقام نما احتساب کر کے حکمرانوں نے اس اصطلاح کو بے توقیر کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ اسی تاریخ کی وجہ سے کسی کو ملک میں حقیقی اور بلاتفریق وتخصیص احتساب کی امید ہی نہیں تھی۔ ملک میں کرپشن کے عام ہوکر ایک کلچر اور وباء کی شکل اختیار کرنے کی بنیادی وجہ احتساب کیساتھ جاری مذاق ہی تھا۔ اسی وجہ سے بدعنوان عناصر احتساب اور قانون کے خوف سے آزاد ہوکر رہ گئے تھے۔ بدعنوان عناصر کو یہ پختہ یقین ہوتا تھا کہ سیاسی منظر بدلتے ہی وہ مظلوم بن کر اُبھریں گے۔

اب ماضی کی اس روایت کا تبدیل ہونا لازمی ہے۔ علیم خان کی گرفتاری ’’احتساب سب کا‘‘ کی راہ پر پہلا قدم ہے۔ شیخ رشید نے تو پیش گوئی کر دی ہے کہ تیس مارچ تک جھاڑو پھرے گی اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور سابق قائد حزب اختلاف خورشید شاہ تک بھی نیب کا ہاتھ پہنچ سکتا ہے اور پی ٹی آئی کے کئی اور لوگ بھی اس کی زد میں آسکتے ہیں۔ بات جو بھی ہو ملک کے وسائل کو برباد کرنے والے ہر شخص کو قانون کے کٹہرے میں پیش ہونا چاہئے اور اس کیلئے اپنے اور پرائے کی کوئی تخصیص نہیں ہونی چاہئے۔ احتساب کی مقدس اصطلاح کو دوبارہ باوقار بنانے اور معاشرے میں قانون کا خوف اور احترام پیدا کرنے کا واحد راستہ بھی یہی ہے۔بشکریہ مشرق نیوز

یہ بھی دیکھیں

امریکہ ایران کشیدگی کے خطے پر اثرات

(مرزا اشتیاق بیگ) برطانیہ کے زیر انتظام جبرالٹر، مسلمانوں میں ’’جبل الطارق‘‘ کے نام سے …