پیر , 22 جولائی 2019

افغانستان قیام امن: زلمے خلیل زاد کے نئے سفارتی مشن کا آغاز

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمتی عمل زلمے خلیل زاد افغانستان، قطر اور پاکستان میں مذاکرات کے لیے ایک اور امن مشن کا آغاز کرنے واشنگٹن سے روانہ ہوگئے۔دوسری جانب افغان صدر اشرف غنی کا بھی بیان سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ اگردوحہ میں ہونے والے امن مذاکرات کو جاری رکھنے کے لیے طالبان کابل، قندھار اور ننگرہار میں دفتر کھولیں گے تو اس کا کھلے بازوؤں سے خیر مقدم کیا جائے گا۔

تاہم طالبان ترجمان نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم دوحہ میں رہنے کو ترجیح دیں گے، اور اس مرکز کو عالمی سطح پر تسلیم کیے جانے کے لیے کوششیں کریں گے۔خیال رہے کہ قطر کے دارلحکومت دوحہ میں طالبان کا سیاسی دفتر 2013 سے قائم ہے۔

واشنگٹن میں امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کا کہنا تھا کہ زلمے خلیل زاد اور ان کے ہمراہ وفد خطے میں مذاکرات کے نئے دور کے آغاز سے قبل بیلجیئم، جرمنی اور ترکی کے حکام سے بھی مشاورت کرے گا۔امریکی نمائندہ خصوصی کا حالیہ مشن اتوار سے شروع ہونے کے بعد 28 فروری تک جاری رہے گا جس کے بعد وہ دوبارہ واشنگٹن واپس لوٹ جائیں گے۔

امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے مطابق یہ دورہ اٖفغانستان کے مستقبل کا تعین کی راہیں تلاش کرنے کے لیے امریکا کے قومی سلامتی کے مفادات کا تحفظ کی خاطر تمام افغان فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

اس سلسلے میں زلمے خلیل زاد ’دورے کے دوران ہمارے اتحادیوں اور شراکت داروں سے اس مقصد کے حصول کو تیز کرنے کے لیے مشترکہ کوششوں پر تبادلہ خیال اور افغان حکومت کے ساتھ مشاورت کریں گے‘۔

خیال رہے کہ زلمے خلیل زاد نے امن مذاکرات میں تعاون کرنے پر پاکستان کے کردار کو سراہا تھا اور کہا تھا کہ سینیئر طالبان رہنما ملا برادر کو ان کی درخواست پر رہا کیا گیا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکی حکومت پاکستان کے کردار کا اعتراف کرتی اور اس ’اہم ملک‘ سے تعلقات بہتر بنانے کی خواہاں ہے۔

دوسری جانب افغان صدر کا اشرف غنی کا کہنا تھا کہ انہوں نے امن مذاکرات مکہ میں کرنے کی تجویز دی تھی لیکن طالبان اس کے بجائے ماسکو چلے گئے۔افغان صدر نے بتایا کہ امن مذکرات کے لیے ان سے منصب چھوڑنے کی توقع کی جارہی تھی لیکن وہ یہ نہیں کرسکتے کیوں کہ وہ اس عہدے کے لیے منتخب ہوئے ہیں چناچہ وہ لوگوں کے ووٹوں کو داؤ پر نہیں لگائیں گے۔

باوجود اس کے کہ افغان حکومت ماسکو مذاکرات کا حصہ نہیں تھی ایک عہدیدار نے بتایا کہ ماسکو قراردار کے کچھ حصے افغان حکومت اپنے ایجنڈے میں بھی شامل کرے گی۔خیال رہے کہ اس قرارداد میں تمام غیر ملکی افواج کا انخلا، دوحہ مذاکرات کی حمایت، اقوام متحدہ کی کالعدم فہرست سے طالبان رہنماؤں کے ناموں کا اخراج، قیدیوں کی رہائی اور قطر میں طالبان کے دفتر کی قانونی حیثیت تسلیم کرنے کا مطالبہ بھی شامل تھا۔

یہ بھی دیکھیں

ٹرمپ کے نسل پرستانہ بیانات پر جرمن چانسلر کی تنقید

برلن (مانیٹرنگ ڈیسک)جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے امریکی کانگریس میں رنگین فام خاتون ارکان کے …