ہفتہ , 23 فروری 2019

اپنے خیموں کی خاموشی میں دشمن امام مہدی کی آمد

(تحریر: سید میثم ہمدانی)

چالیس سال سے کم عمر شہزادے کی انقلاب اسلامی کی کامیابی کے چالیس سال مکمل ہونے کے ایام میں پاکستان کے سرکاری دورے کی خبریں سامنے آرہی ہیں۔ حجاز محمدی کی سرزمین پر قابض آل سعود کے نائب بادشاہ محمد بن سلمان نے سرکاری ٹی وی اور اس کے بعد ٹائم میگزین سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران چونکہ امام مہدی کے عالمی انقلاب کیلئے کام کر رہا ہے، لہذا ہم اس ملک کے ساتھ کس طرح بات چیت کرسکتے ہیں؟ اپنے خیموں کے معنا خیز سکوت میں اس ناتجربہ کار مغرور شہزادے کی اسلام آباد آمد کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ سونے کے پروں والا یہ شہزادہ کئی ارب ڈالر کی سرمایہ کاری لے کر آئے گا۔ ہمارے ملک کیلئے آئل ریفائنری بنائے گا اور عوام کو امید دلائے گا کہ جس ملک میں سردیوں کے موسم میں بھی دس سے بارہ گھنٹے بجلی جاتی ہو، اس میں عربی ڈالروں کی بہار سے بجلی و گیس جیسے بحران ختم ہو جائیں گے اور اس سفر کے بعد عوام ریشم کے تکیوں پر براجمان ہو کر گرمی کی شدت میں بہار جیسی ٹھنڈی ہواوں سے لطف اندوز ہوں گے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ جب بھی کوئی "باغی” اس موضوع پر بات کرنا چاہتا ہے تو اپنے پرائے اسے یہ کہہ کر خاموش کر دیتے ہیں کہ بھائی ملکی حالات خراب ہیں، آپ ایران سے سولہ ارب ڈالر دلوا دیں! نہیں تو ایسی باتیں نہ کریں۔

ہاں یہی وہ منطق ہے، جس نے ہمیں پہلے اپنے ہمسایہ ملک افغانستان میں جہاد کے نام پر پوری دنیا سے لوگوں کو اکٹھے کرنے پر اکسایا اور پھر اسی منطق نے ان جہادیوں کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے ہمیں امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف براستہ پاکستان جنگ میں شامل ہونے کی دلیل دی اور جیسے جیسے وقت گذرتا گیا، یہ منطق ہمیں یمن کے بے گناہ عوام کے خون میں اپنے ہاتھ رنگنے پر تیار کرتی رہی اور اب یہی منطق ہمیں اس فوجی اتحاد کی کمان پر تیار کرچکی ہے، جس کا مقصد امام مہدی کا مقابلہ کرنا ہے۔ دنیا پرست طبقے سے اس منطق کی پیروی تو جائے تعجب ندارد، لیکن تعجب اس وقت ہوتا ہے کہ جب "یا لیتنی کنت معکم۔۔۔” کا ہر روز ورد کرنے والے اس منطق کی پیروی میں سکوت کا راستہ اختیار کر لیتے ہیں اور دوسروں کو بھی اسی قانون کے تحت سکوت کا راستہ اختیار کرنے کی تجویز پیش کرتے ہیں۔ اگر واقعاً ہم اس زمانے میں ہوتے تو ہمارے پاس حق و باطل کا معیار کیا ہوتا؟ کیا ممکن ہے اس منطق کے تحت ہم حتیٰ حر بن کر لشکر حسینی میں شریک ہونے کی توفیق حاصل کرسکتے یا مسلمانوں کے وسیع تر قومی مفادات کی خاطر لشکر یزید میں شامل ہونے کو ترجیح دیتے! نہیں معلوم یہ فکر اس قوم میں کس طرح پیدا ہو جاتی ہے، جو اقبال کو اپنا قومی شاعر بتاتے ہیں، اقبال مرمر کی سلوں سے مایوس ہے اور اپنے لئے مٹی کے حرم کی تلاش میں ہے کہ

اُٹھّو! مری دنیا کے غریبوں کو جگا دو
کاخِ اُمَرا کے در و دیوار ہِلا دو
گرماؤ غلاموں کا لہُو سوزِ یقیں سے
کُنجشکِ فرومایہ کو شاہیں سے لڑا دو
سُلطانیِ جمہور کا آتا ہے زمانہ
جو نقشِ کُہَن تم کو نظر آئے، مِٹا دو
جس کھیت سے دہقاں کو میسرّ نہیں روزی
اُس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلا دو
کیوں خالق و مخلوق میں حائل رہیں پردے
پِیرانِ کلیسا کو کلیسا سے اُٹھا دو
حق را بسجودے، صنَماں را بطوافے
بہتر ہے چراغِ حَرم و دَیر بُجھا دو
میں ناخوش و بیزار ہُوں مَرمَر کی سِلوں سے
میرے لیے مٹّی کا حرم اور بنا دو
تہذیبِ نوی کارگہِ شیشہ گراں ہے
آدابِ جُنوں شاعرِ مشرِق کو سِکھا دو!

دوسری بات جہاں تک امام مہدی کے عالمی انقلاب کی بات ہے تو یہ صرف شیعہ عقیدہ نہیں ہے۔ جاہل کم سن شہزادے کو یہود و نصاریٰ کی محفلوں سے اتنی فرصت ہی نہیں ملی کہ جس سرزمین پر حاکم بننے کی خواہش لئے اپنی عاقبت کی جانب گامزن ہے اور اس سرزمین کے اسلاف کی تعلیمات پر ایک نگاہ ہی ڈال لیتا۔ عقیدہ مہدویت میں سب سے زیادہ روایات خود اہلسنت حدیثی مآخذ میں موجود ہیں۔ آج کے دور میں بھی پاکستان کی سرزمین پر اہلسنت علماء امام مہدی کے عقیدہ سے آشنا ہیں اور اگر ہمارے ملک میں اس موضوع پر وسیع ریسرچ ورک بھی ہو رہا ہے تو وہ اہلسنت برادران کے درمیان ہے۔ شنید ہے ایک اہلسنت عالم دین امام مہدی کے موضوع پر پچاس جلدی انسائیکلوپیڈیا لکھنے میں مصرف ہے، جس کی دسیوں جلدیں تیار ہوچکی ہیں۔ عقیدہ مہدویت ایسا عقیدہ ہے کہ جس کے لئے ہر مسلمان اپنی جان دینے کو تیار ہے، ہاں انقلاب اسلامی کی ایران میں کامیابی کے بعد اس انقلاب کو انقلاب مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف تک پہنچانے کی آرزو کی گئی ہے اور یہ آرزو صرف شیعہ، سنی یا مسلمانوں کی آرزو نہیں ہے، بلکہ یہ پوری دنیا میں پسے ہوئے ہر مظلوم انسان کی آرزو ہے۔

اسی وجہ سے اس زمانے میں ریاست مدینہ تک پہنچنے کا تنہا راستہ امامت مہدویت ہے۔ اب اس راستے کا دشمن اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کیلئے ہماری سرزمین کی طرف گامزن ہے۔ کیا تشیع کو لا حاصل مباحث کے درمیان الجھا کر ذاکرین و علماء کے مسائل میں پھنسا کر، رزاقیت و ظہور و ولایت جیسے مسائل میں گم کرکے مہدی دوران کی نصرت سے دور کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔؟ کیا الخمینی فی فرانسا جیسی کتابوں پر خونی صورت میں امام خمینی کی تصاویر کی اشاعت اور ہمارے معہد شعور یعنی ملک کی یونیورسٹیوں میں اس مہدی مخالف سعودی تفکر کا نفوذ ہمیں اس سازش کو سمجھنے کیلئے کافی نہیں ہے؟ کیا ان حالات میں بھی سکوت جائز ہے؟ تاریخ لکھے گی کہ کس طرح مدعیان پیروان مہدی کے سکوت میں دشمن مہدی کے استقبال کیلئے شیپور اور بغلیں بجائی جا رہی تھیں، لیکن ان کو کانوں کان خبر بھی نہ ہوئی۔ ہاں یاد رہے ابابیل الہیٰ ابرھہ کے لشکر کا مقابلہ کرنے کیلئے ہر وقت بیدار ہیں۔

سُکوتِ شامِ غریباں میں سُن سکو تو سُنو!
کہ مَقتلوں سے ابھی تک صَدائیں آتی ہیں
لہُو سے جِن کو منوّر کرے دماغِ بَشر
ہوائیں ایسے چَراغوں سے خَوف کھاتی ہیں
جو مِری یادوں سے زِندہ تھا کبھی
مَدّتوں سے اُس کا خَط آیا نہیں
میں مگر کہتا ہُوں اپنے آپ سے
وہ بہت مصروف ہوگا یا کہیں۔۔۔۔۔۔؟

ردائے خواب ایک مسافر کی ”خُود کلامی” ہے، جو دِن بھر خواب بُنتا ہے، خواہشوں کے ریزے چُنتا اور پلکوں پر سجا کر اپنی ذات کے صحرا میں خیالوں کا خیمہ نصب کرکے سو جاتا ہے۔
محسن نقوی 28 مارچ 1985ء لاہور

یہ بھی دیکھیں

پاک بھارت کشیدگی اور چند معروضات

(حیدر جاوید سید) پاک بھارت کشیدگی کے حالیہ دنوں میں کیا محض اس لئے حکومت ...