بدھ , 21 اگست 2019

مغرب اور مسلمان اقلیتوں کے حقوق

(تحریر: ڈاکٹر راشد عباس)

انسانی حقوق یورپ اور مغربی ممالک کا ایک ایسا ہتھکنڈا ہے، جس کا وه اپنے مخالفین کے خلاف بڑی بے دردی سے استعمال کرتے ہیں. مغربی ممالک خود انسانی حقوق کا کتنا خیال کرتے ہیں، اکثر اوقات یی میڈیا سے اوجھل رہتا ہے۔ مغربی ممالک اور امریکہ کے بارے میں یہ کہنا سو فیصد درست ہے کہ ان کے کھانے کے دانت اور، دکھانے کے دانت اور ہیں۔ امریکہ اور مغرب میں انسانی حقوق بالخصوص مسلمان اقلیتوں کے حقوق کو کس طرح پامال کیا جاتا ہے، اس پر تجزیاتی نگاه ڈالتے ہیں۔ معروف تحقیقاتی ادارے "پیو” نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ 2015ء میں یورپ کے اڑتیس ملکوں میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف جبر و تشدد روا رکھا گیا ہے۔ جبر و تشدد کا یہ رویہ ایسے عالم میں جاری رکھا گیا کہ 2015ء میں تقریباً تیره لاکھ پناه گزینوں نے یورپ میں پناه کی درخواست دی تھی۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ میں سیاسی پناه کا مطالبہ کرنے والی یه ریکارڈ تعداد ہے۔ پناه گزینوں کی آدھی سے زیاده تعداد شام، عراق اور افعانستان کے باشندوں کی تھی۔

مذہبی اقلیتوں کے خلاف امتیازی رویئے اور جبر و تشدد سے مراد ان ممالک کے قانون میں دیئے گے حقوق کو نظر انداز کرکے غیر قانونی طریقے سے پناه گزینوں کو مشکلات سے دوچار کرنا ہے۔ اس امتیازی رویئے اور جبر و تشدد کے متعدد مظاہر ہیں، جن میں مذہبی اقلیتوں کے افراد کو ایک دوسرے سے الگ کرنا، ان کے نظریات کا تمسخر آڑانا، ان کے مذہبی امور میں رکاوٹ ڈالنا، جسمانی لحاظ سے جبر و تشدد کا نشانہ بنانا، بے جا گرفتاریاں اور ان کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم کرنا وغیرہ شامل ہے۔ پیو نامی تحقیقاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق جب مذہبی اقلیتوں کو خصوصی طور پر نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اسلام اور مسلمان باشندے کے مقابلے میں یہودیوں کو خصوصی مراعات دی جاتی ہیں اور کوئی بھی یورپی حکومت یہودیوں کے بارے میں منفی موقف اختیار کرنے کی جرات نہیں رکھتی۔ یورپی ممالک میں اسلام دشمنی اور اسلامو فوبیا کافی عرصے سے رائج ہے اور اب تو ریاستی سرپرستی میں یہ کام انجام پا رہا ہے۔ اسلامو فوبیا کو ہوا دینے میں حکومتوں کے علاوه میڈیا بھی کسی سے کم نہیں۔ اسلامی نام، مسلمانوں جیسی شکل و صورت امتیازی رویئے کے لیے کافی ہے۔ اس کے ساتھ وه مسلمان خواتین جو اسلامی پرده کرنا چاہتی ہیں، سب سے زیاده جبر و تشدد کا شکار ہوتی ہیں۔

یورپ میں انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی مسلمانوں کے حقوق کے بارے میں زیاده فکر مند نہیں ہیں، بعض اوقات اپنے آپ کو غیر جانبدار ظاہر کرنے کے لیے مسلمانوں کے حقوق کے بارے میں رپورٹیں شائع کی جاتی ہیں، لیکن عملی میدان میں ان تنظیموں کا کوئی کردار نظر نہیں آتا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پانچ سال پہلے اپنی ایک رپورٹ میں واضح طور پر کہا تھا کہ یورپی ممالک میں ان مسلمانوں کو امتیازی اور نسل پرستانہ رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جو اپنے دینی اور مذہبی احکام و عبادات کو بجا لانا چاہتے ہیں۔ انسانی حقوق کے اس عالمی ادارے کے ایک ذمہ دار مارکو پرولینی کا کہنا ہے کہ مسلمان خواتین کو روزگار کے مواقع نہیں دیے جاتے، ان کو کلاسز میں حجاب کے ساتھ شرکت کرنے سے روکا جاتا ہے۔ اسکارف کی وجہ سے ان کے ساتھ منفی رویہ اپنایا جاتا ہے۔ اس طرح مسلمانوں کی طرح حلیہ یا داڑھی وغیره بھی مسلمانوں کے لیے ایک مشکل کا باعث بنتی ہے اور بعض اوقات اسلامی داڑھی رکھنے والے کو اس داڑھی کیوجہ سے روزگار سے فارغ کیا جاتا ہے۔ مارکو پرولینی کے مطابق حکام اور سیاسی جماعتیں بھی ان تعصبات کو ختم کرنے کے بجائے اسکی حوصلہ افزائی کرتی نظر آتی ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے اس ذمہ دار شخص کا مزید کہنا ہے کہ اسلامی ثقافت کے مطابق اپنے مذہبی احکامات کو بجا لانے اور اپنی مذہبی اقدار کی حفاظت مسلمانوں کا شہری حق ہے۔ اسی طرح عقیدے اور اپنے نظریئے کا اظہار بھی بنیادی حقوق میں شامل ہے۔ لہذا تمام مذاہب کے حوالے سے مساوی رویہ اپنایا جانا چاہیئے، لیکن بدقسمتی سے مسلمانوں کے خلاف انتہائی جانبدرانہ رویہ اپنایا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف پابندیوں میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ انسانی حقوق کے دعویدار ملکوں میں ایک فرانس بھی ہے، جس نے سب سے پہلے مسلمان خواتین کے اسکارف اور پردے پر پابندی کا قانون رائج کرکے اپنی حقیقت کو آشکار کر دیا ہے۔ فرانس کے بعد دیگر یورپی ممالک نے بھی اسی روش کو اپنا کر اسکارف پہننے والی طالبات پر تعلیمی اداروں میں داخل ہونے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اسکارف کے بعد اسلامی پردے اور برقع پر پابندی کا سلسلہ بھی مختلف یورپی ممالک میں تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ یہاں تک کہ اب اسلامی معماری پر بھی کھلے عام تنقیدیں شروع ہوگئی ہیں۔ سوئٹزر لینڈ کے دائیں بازو کے انتہا پسند گروہوں نے مساجد کے گنبدوں اور میناروں پر بھی پابندی لگانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ صورت حال یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ اسلامی مراکز میں عربی پڑھنے پر بھی پابندی کا مطالبہ ہو رہا ہے، حالانکہ یہ ایک زبان ہے اور ایک بڑی آبادی کے پیروکاروں کی دینی اور بنیادی کتاب قرآن مجید بھی اسی زبان یعنی عربی میں ہے۔

یہ تمام پابندیاں ایک نظریئے اور منصوبہ بندی کے تحت انجام دی جا رہی ہیں، ان پابندیوں پر عمل درآمد کے لیے اسلام کو ایک انتہا پسند اور متشدد دین بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ اسی غلط فکر اور نظریئے کو سامنے رکھ کر یورپی ممالک میں اسلام دشمنی اور اسلامو فوبیا کو ہوا دی جا رہی ہے۔ یورپی ممالک میں دہشت گردی کے خلاف جو قانون سازی کی گئی ہے، وه بھی مسلمانوں کو مدنظر رکھ کر کی گئی ہے اور اس میں انکا اصلی نشانہ بھی مسلمان ہیں۔ کسی بھی جگہ پر معمولی نوعیت کا دہشت گردانہ واقعہ ہوتا ہے تو فوراً مسلمانوں کو اس کا ذمہ دار قرار دے دیا جاتا ہے، سکیورٹی ادارے اور میڈیا مسلمانوں کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ جاتے ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے جنوری 2017ء کی رپورٹ میں دہشت گردوں کے خلاف بنائے گئے قوانین پر تنقید کی ہے اور اسکو مسلمانوں اور پناه گزینوں کے خلاف استعمال کرنے سے خبردار کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان قوانین سے مسلمانوں میں خوف و ہراس پھیلایا جا رہا ہے، جسکا نتیجہ نفرت میں اضافے کے علاوه کچھ برآمد نہیں ہوگا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ایک ماہر جولیا ہال کا کہنا ہے کہ اس وقت جو قانون سازی کی جا رہی ہے یا بحث و مباحثہ جاری ہے، اس سے یہ باور کرانا مقصود ہے کہ اگر تم مسلمان، پناه گزین یا مہاجر ہو تو تم ایک خطره ہو۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کی روشنی میں اس طرح کا تاثر پیدا کرنے میں یورپی حکومتیں برابر کی شریک ہیں۔

اس وقت چونکہ پناه گزینوں اور مہاجرین کی اکثریت مسلمان ہے، لہذا مہاجر دشمنی اور اسلام دشمنی ایک ہوگئی ہے۔ یورپ کی مختلف سیاسی جماعتیں مسلمانوں پر پابندیاں عائد کرنے کے حوالے سے ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی دوڑ میں شامل ہیں۔ فرانس کی قومی محاذ پارٹی اور ہالینڈ کی اسلام دشمن جماعت اس سلسلے میں سب سے آگے ہیں۔ ہالینڈ کے انتہا پسندوں کی جماعت کے رہنما گرٹ ویلڈرز نے ہالینڈ میں مساجد اور اسلامی تعلیمی اداروں پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے، وه سڑکوں پر موجود مسلمان شکل و صورت والے شخص کو گلی کوچہ کا دہشت گرد قرار دیتا ہے۔ فرانس کی معروف سیاسی رہنما اور گذشتہ انتخابات کی صدارتی امیدوار لوپن اسلامی حجاب پر مکمل پابندی کی قائل ہے۔ اس نے فرانس میں حلال غذا کی سپلائی پر بھی سخت اعتراض کیا ہے۔ فرانس کے عام شہری صفائی اور صحت عامہ کے اصولوں پر عمل درآمد کی وجہ سے ان غذاؤں کو زیاده پسند کرتے ہیں، جن پر حلال غذا کا اسٹکر لگا ہوتا ہے۔

یورپ میں دائیں بازو کے انتہا پسندوں کی مقبولیت میں اضافے اور مسلمانوں کے خلاف انکے متعصبانہ رویئے کو دیکھ کر بعض دوسری جماعتیں بھی مسلمانوں کے خلاف پابندیوں کا مطالبہ کرنے لگی ہیں۔ مسلمانوں اور اسلام کے خلاف پابندیاں بنیادی طور پر اسلام مخالف سیاسی گروہوں اور جماعتوں کے لئے گویا ایک سبز جھنڈی کی مانند ہے کہ وه اسلام دشمنی اور اسلامو فوبیا میں اضافہ کریں، البتہ مسلمانوں کے خلاف اس طرح کی امتیازی پالیسیوں کی یورپی ممالک کے قانون میں کوئی گنجائش نہیں ہے، تاہم اس لاقانونیت کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھا رہا ہے۔ بہرحال مسلمانوں کے خلاف امتیازی اور متعصبانہ رویوں کا بنیادی ہدف یورپ میں مسلمان آبادی کا ناطفہ بند کرنا ہے، تاکہ وه ان ممالک کو چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں۔

یہ بھی دیکھیں

ہماری دعائیں کیوں قبول نہیں ہوتیں!

(راؤ منظر حیات) عیدکی نمازکے بعد، امام صاحب نے بڑی رقت کے ساتھ فلسطین، کشمیراوردنیامیں …