بدھ , 21 اگست 2019

بدعنوانی سنگین مسئلہ مگر حل کیا ہے؟

(تحریر: طاہر یاسین طاہر)

قوموں کی زندگیوں میں نشیب و فراز آتے رہتے ہیں۔ جاپان کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ تباہ حال جاپان نے محنت اور لگن کو اپنا شعار بنایا، ایک بہترین منزل کا تعین کیا، پھر اس منزل کو چھونے کے لیے کام میں لگ پڑے۔ تغیر حیاتِ جاودانی کی علامت ہے۔ مایوس خواہ کوئی فرد ہو یا سماج، اس کا مقدر تباہی اور رسوائی کے سوا کچھ نہیں۔ پاکستان کے مسائل یکایک سامنے نہیں آئے۔ اصل میں ملک کو ایسی حکومتیں اور بیوروکریسی نصیب ہوئی، جو ایک دوسرے کا دست و بازو بنے اور قومی مفاد پر ذاتی مفاد کو ترجیح دی۔ تاریخی حقائق سے چشم پوشی تو کی جا سکتی ہے، مگر انھیں جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ جب ہم یہ بات کرتے ہیں کہ ہماری سیاسی قیادت نالائق تھی تو اس سے مراد سارے سیاستدان نہیں ہوتے، بلکہ وہ سیاستدان ہوتے ہیں، جو پارٹیوں کو لیڈ کرتے رہے اور مال بنانے والے اپنے ساتھیوں کی چالاکیوں سے چشم پوشی کرتے رہے۔ بیشتر سیاست دان دیانتدار اور اجلے کردار کے مالک بھی گزرے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ملک میں سیاستدانوں کو کام ہی نہیں کرنے دیا گیا، تین سے زائد عشرے تک ملک پر براہ راست مارشل لا نافذ رہا۔ میرا خیال ہے کہ یہ بھی سیاستدانوں کی ہی غلطی اور کج روی تھی، جس نے فوجی آمروں کو آگے بڑھنے کا حوصلہ دیا۔ کیا یہی سیاستدان پھر انہی فوجی آمروں کی چھتری تلے جمع ہو کر آمریت کے فضائل بیان نہیں کرتے رہے۔؟

کج روی ہے اور سنگین ہے۔ گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے والے مفادات کی سیاست کرتے ہیں۔ ملک میں اس وقت تک سنگین معاشی مسائل ختم نہیں ہوسکتے، جب تک چند خاندانوں کی "وفادار جمہوریت” قائم ہے۔ یہی سیاسی جماعتیں پہلے اپنے اندر تو سیاسی نظام لازم کریں۔ سوائے جماعت اسلامی کے کسی دوسری جماعت میں انٹرا پارٹی جمہوری سسٹم نہیں۔ جب جماعتوں کے اندر ہی جمہوری سسٹم نہیں ہوگا تو لا محالہ ملک میں جمہوری نظام صرف دکھاوے کا ہی ہوگا۔ معمولی سیاسی فہم رکھنے والا بھی جانتا ہے کہ ہمارے ہاں سیاست پولیس و پٹواری کے زور پر کی جاتی ہے۔ حال ہی میں افسوس ناک خبر سامنے آئی کہ مرغی چوری کے مقدمہ میں ایک شخص کوئی دو برس سے جیل میں قید ہے۔ ایسی کئی مثالیں بلکہ زندہ واقعات ہم سب کو معلوم ہیں کہ کیسے طاقتور سیاسی شخص اپنے مخالف سیاسی گروہ پر پرچہ کٹوا دیتا ہے۔ بیورو کریسی کیا ہے؟ کہا جاتا ہے کہ اصل حکمران تو بیوروکریٹس ہی ہیں۔ بے شک جب ملک بنا تو دیانتدار بیوروکریٹس کی ایک پوری کھیپ نے ملک کو سنبھالا دیا۔ بعد میں بھی کئی نیک نام بیوروکریٹس آئے اور ملک کی خدمت کی۔ لیکن مقامی و عالمی حالات کے زیر اثر معاملات کچھ یوں الجھتے چلے گئے کہ سیاستدانوں نے بیوروکریسی کے اندر بھی اپنے اپنے گروہ بنا لیے۔ یعنی ریاست سے وفاداری کے بجائے اب شخصیات سے وفاداری کی بنا پر ترقیاں و تبادلے ہونے لگے۔

وزیراعظم عمران خان اسی جارحیت اور لہجے میں کہتے ہیں کہ کسی کو این آر او نہیں ملے گا، جس لہجے میں اپوزیشن کے زمانے میں کہا کرتے تھے۔ لیکن کیا واقعی کوئی ڈیل یا ڈھیل نہیں ہوگی؟ خبریں کچھ اور طرح کی گردش کر رہی ہیں۔ علیم خان کی گرفتاری کو "نیب لانڈری” کا نام دیا جا رہا ہے۔ یہ معاملہ کیا رخ اختیار کرتا ہے، اس حوالے سے ابھی چند دن انتظار کرنا پڑے گا۔ میرا خیال ہے کہ وزیراعظم کو این آر او اور کرپشن سے نمٹنے کے لیے ایک بار ضرور اپنی ٹیم کے چنائو پر نظرثانی کرنا ہوگی۔ جمہوریت کا ایک نقص اس کی ہزار خوبیوں پر بھاری ہے، وہ یہی کہ یہاں فیصلے کابینہ اور پارلیمان کی مشترکہ آراء سے ہوتے ہیں۔ بے شک عوامی نمائندگان کا یہ استحقاق ہے کہ وہ عوامی و ملکی مفاد میں بحث مباحثہ کے بعد کوئی فیصلہ کریں۔ لیکن جب بات کرپشن اور اس سے جڑے معاملات پر آتی ہے تو یہی جمہوری نمائندے اسے سیاسی انتقام کہتے ہیں۔ وزیراعظم کو بھی سوچنا چاہیئے کہ وہ صدارتی نظام کے بجائے پارلیمانی نظام کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ پارلیمان میں کرپشن اور کرپٹ لوگوں کو سزائیں دلوانے کے حوالے سے قانون سازی کی ضرورت ہے۔ یہ مرحلہ حکومت کے لیے آسان نہ ہوگا۔ اگر کرپٹ سیاستدانوں اور دیگر افراد کو سزائیں دینے کے حوالے سے حکمران جماعت کوئی قانونی مسودہ پارلیمان میں بحث کے لیے لاتی ہے تو اس پر سخت بحث کے ساتھ ساتھ پی ٹی آئی کے اراکین بھی تحفظات کا اظہار کریں گے۔

استقامت الگ چیز ہے، جمہوری حکومتوں کے کام کرنے کا طریقہ کار ایک دوسری چیز۔ وزیراعظم ضرور چاہتے ہیں کہ کرپٹ سیاستدانوں کو سزا ملے، مگر یہاں ان کی مراد صرف آصف علی زرداری اور نواز شریف ہوتی ہے۔ سیاست دانوں کی تربیت کیسے ہوگی؟ کیا اس کے لیے الگ سے کوئی یونیورسٹی بنائی جائے گی؟ ہمارے ہاں خاندانی سیاسی نظام مستحکم ہے اور یہی نظام کم و بیش تین عشرے کسی نہ کسی شکل میں چلتا رہے گا۔ یہاں تک کہ کوئی معجزہ نہ ہو جائے اور عام آدمی براہ راست پارلیمانی فیصلوں میں شریک ہوسکے۔ حکومت کئی جہات پر جارحانہ کام کرنے کے بجائے پہلے مرحلے میں معیشت کا پہیہ درست سمت چلائے۔ ایک کروڑ نوکریاں کیسے دی جائیں گی؟ پانچ ماہ میں ابھی تک اس حوالے سے کوئی ڈرافٹ سامنے نہیں آیا۔ حکومت نے تو بلکہ کئی محکموں میں ایڈہاک پر لگے ملازمین کے ایڈہاک ختم کرکے انھیں بے روزگار کر دیا ہے۔ اپوزیشن کو جارحانہ لہجے میں جواب دینا حکومت کی ذمہ داری نہیں، حکومت کی ذمہ داری عام آدمی کی زندگیوں میں آسانی لانا ہے۔

عمران خان اگر سمجھتے ہیں کہ ان کی راہ میں روڑے اٹکائے جا رہے ہیں تو وہ اس حوالے سے قوم کو اعتماد میں لیں۔ لیکن بیوروکریسی کو جس طرح وہ قابو میں لانے کی بات کر رہے ہیں, اس سے اچھے اور نیک نام بیوکریٹس میں بھی بددلی پھیلے گی۔ بدعنوانی ہمارے سماج کا بڑا سنگین مسئلہ ہے۔ اسے یکایک ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اس حوالے سے پارلیمان کے ذریعے قانون کے بنیادی ڈھانچے میں تبدیلی لانا ہوگی، اس کے بعد ہی وہ تبدیلی ممکن ہے, جو عمران خان اپنے ذہن میں نقش کیے بیٹھے ہیں۔ اچھی نیت کے ساتھ بہترین عمل ہی بہتر نتائج دے سکتا ہے۔ ہاں پاکستان کے عوام یہ ضرور چاہتے ہیں کہ جس جس نے ملک و قوم کا پیسہ لوٹا، بددیانتی کی اور اپنے عہدے کا غلط استعمال کرکے ملک کو نقصان پہنچایا, اسے سزا ملنی چاہیئے۔ اس شخص کا تعلق خواہ کسی بھی پارٹی یا ادارے سے ہو۔ میرا خیال ہے کہ حکومت کو اپنے تھینک ٹینک میں نئے اذہان کو جگہ دینا ہوگی۔ بدلے کی سیاست کے بجائے کام کی سیاست پی ٹی آئی کا سلوگن ہونا چاہیئے۔ ورنہ مقامی و عالمی سیاسی و معاشی حالات موجودہ حکومت کے لیے بہت تکلیف دہ ہوں گے اور لوگ گزشتگان کی راہ ایڑیاں اٹھا اٹھا کر دیکھنا شروع کر دیں گے۔

یہ بھی دیکھیں

ہماری دعائیں کیوں قبول نہیں ہوتیں!

(راؤ منظر حیات) عیدکی نمازکے بعد، امام صاحب نے بڑی رقت کے ساتھ فلسطین، کشمیراوردنیامیں …