ہفتہ , 23 فروری 2019

اسرائیل کی شمالی سرحد پر مشقیں اور حالیہ جنگ کا پیغام

جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی طرف سے کئی ماہ سے جاری کشیدگی، تین سال سے جری جنگی مشقیں اور حالیہ ہفتوں کےدوران حزب اللہ کی اسرائیلی سرحد پر کھودی گئی سرنگوں، فیلڈ کا منظر نامہ اور ایران کا سیاسی ماحول خطے میں گرما گرم بحث کا موضوع رہے ہیں۔

حال ہی میں حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے صہیونی دشمن کو واضح پیغام دیا کہ اگر دشمن کی طرف سے کسی قسم کی جارحیت مسلط کی گئی تو دشمن کو نہ بھولنے والا سبق سکھائیں گے۔شمال میں حزب اللہ اور جنوب میں غزہ کی پٹی میں اسلامی تحریک مزاحمت’حماس’ کے حلق میں کھٹکتے کانٹے ہیں۔یہ دونوں مزاحمتی تنظیمیں اسرائیل کی داخلی سیاست کا موضوع ہ یں۔ حزب اللہ کی میزائل صلاحیت میں اضافہ اور اسلحہ کے حصول کے طریقہ کار میں‌تبدیلی اسرائیل کے لیے باعث تشویش ہے۔

حال ہی میں شمالی سرحد پراسرائیلی فوج نے مشقیں کرکے صہیونی فضائیہ، انجینیرنگ کور، آرٹلری اور دیگر شعبوں کی طرف سے حزب اللہ کے خلاف ممکنہ جنگ کی تیاری کا عندیہ دیا۔شمال میں وادی اردن میں ہونے والی مشقوں میں لبنان کے پہاڑی علاقوں میں کارروائیوں پہلی بار ‘ٹائیگر گاڑیوں’ کا استعمال کیا گیا۔

جنگ اور امن
جنوب میں غزہ اور شمال میں حزب اللہ کو اسرائیل ہمیشہ محاذ جنگ کے طورپر دیکھتا ہے اور ان دونوں محاذوں کو گرم محاذ خیال کرتا ہے۔تجزیہ نگاریوسف شرقاوی کا کہنا ہے کہ جس انداز میں اسرائیلی فوج نے شمالی محاذ پرمشقیں کیں وہ صہیونی دشمن کو یہ پیغام ہے کہ اسرائیل جب چاہے جنوبی لبنان پرقبضہ کرسکتا ہے۔
شرقاوی کا مزید کہنا ہے کہ صہیونی فوج کی طرف سے کسی بھی جارحیت کی صورت میں حزب اللہ خود کو دفاعی محاذ میں‌لانے کی پوری کوشش کرے گی۔ ممکن ہےکہ حزب اللہ سنہ 1990ٌ کے عراق میں "صحراء کی لومڑی” کے عنوان شروعے کیے گئے آپریشن کی طرز پر کارروائی کرسکتی ہے۔

حزب اللہ کی طرف سے فلسطین کی سرحد پر حالیہ ایام میں خصوصی دفاعی اقدامات کیے گئے ہیں، دوسری جانب شام میں اسرائیلی فوج کی ایران کے خلاف کارروائیوں نے صورت حال کو مزید پیچیدہ کردیا ہے۔

سیاسی تجزیہ نگارحمزہ ابو شنب کا کہنا ہے کہ اسرائیل سمجھتا ہے کہ لبنان پر جارحیت کی صورت میں حزب اللہ خاموش نہیں رہے گی۔ اگر شمالی محاذ پر کوئی کشیدگی پیدا ہوتی ہے تو اس کے جنوبی محاذ یعنی غزہ پر بھی اثرات مرتب ہوں گے۔

نیا راستہ
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے اگرآئندہ اپریل میں ہونے والے انتخابات کامیاب ہوجاتے ہیں تو وہ عرب دنیا سے رابطے مزید بڑھانے، ایران اور شام کو کو نیچا دکھانے کے لیے افریقی ممالک کے ساتھ بھی دوستانہ مراسم کے قیام کی کوشش کریں‌گے۔

شرقاوی کا کہنا ہے کہ موجودہ حساس حالات میں حزب اللہ ایک نئے دور میں داخل ہوچکی ہے جہاں اس کا نہ صرف لبنان کی سرزمین پر اسرائیل کے ساتھ مقابلہ ہوگا بلکہ وہ شام کے محاذ میں‌ بھی الجھی ہوئی ہے۔

تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ اگر اسرائیل لبنانی حزب اللہ کے خلاف مسلح کارروائی شروع کرتا ہے تو صہیونی ریاست کے لیے غزہ کی پٹی میں مزاحمت کی طاقت پر ضرب لگانے کی بھی راہ ہموار ہوجائے گی۔ مگر یہ بہت خطرناک ہے۔ اسرائیل نے پہلے ہی غزہ کی پٹی پرمحاصرہ مسلط کررکھا ہے۔ خطے میں ایران کے کردار میں‌کمی اور روس کے علاقائی موقف میں تبدیلی کے باعث غزہ کی پٹی کو کسی اسرائیل کے لیے جنگ ک ایندھن بنانےکی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔بشکریہ مرکز اطلاعات فلسطین

یہ بھی دیکھیں

پاک بھارت کشیدگی اور چند معروضات

(حیدر جاوید سید) پاک بھارت کشیدگی کے حالیہ دنوں میں کیا محض اس لئے حکومت ...