ہفتہ , 23 فروری 2019

کابل حکومت کا عذاب جانکنی

(عارف بہار )

جب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان سے اپنی فوج یک طرفہ طور پر واپس بلانے کا اعلان کیا ہے کابل کی ڈولتی اور ڈوبتی ہوئی حکومت پر عذاب جانکنی طاری ہے۔ امریکہ صرف افغانستان سے فوجیں نکالنے کے اعلان پر ہی قائم نہیں بلکہ اس نے کابل حکومت کو نظرانداز کرتے ہوئے طالبان کیساتھ خوش گپیوں کے کئی دور بھی گزار دیے۔ اس سے طالبان جنگ زدہ ملک کے مستقبل کے حوالے سے سب سے مرکزی سٹیک ہولڈر کے طور پر اُبھر کے سامنے آئے ہیں۔ یہی نہیں دوسری طرف روس نے بھی افغان حکومت کو نظرانداز کرتے ہوئے ماسکو میں کابل حکمرانوں کی مخالف سیاسی قوتوں اورطالبان کو ایک میز کے گرد بٹھا دیا۔اس سے کابل کی اشرف غنی حکومت کی اہمیت مزید کم ہو کر رہ گئی۔ طالبان نے افغانستان میں نئے آئین کا مطالبہ دہرانے کے علاوہ وہ تمام ضمانتیں دینے کی یقین دہانی کرائی ہے جس پر بین الاقوامی برادری کو کبھی تشویش رہی ہے۔ مثلاً یہ کہ وہ پورے افغانستان پر تنہا راج نہیں کرنا چاہتے۔ داعش اور اس قبیل کے گروہوں کا قلع قمع کر سکتے ہیں۔ ایک ماہ میں منشیات کا خاتمہ کر سکتے ہیں اور یہ کہ خواتین کو ملازمتوں اور تعلیم کی آزادی فراہم کر سکتے ہیں۔ ماضی کے برعکس یہ طالبان کے موقف اور سوچ میں آنے والی ایک ایسی تبدیلی ہے جو انہیں وقت کے دھارے کیساتھ بہنے اور عالمی برادری میں قبولیت فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ آج کا کابل دو واضح کیمپوں میں بٹ چکا ہے یہ طالبان اور افغان حکومت نہیں بلکہ اس کی بنیاد امریکہ نوازی اور روس وچین دوستی ہے۔ ماسکو مذاکرات نے اس تقسیم کو اور گہرا کر دیا ہے۔حامد کرزئی امریکی کیمپ سے اُچھل اور نکل کر مخالف کیمپ میں پہنچ چکے ہیں۔

معروف جہادی کمانڈر گل بدین حکمت یار حکومت کے راستے کابل میں داخل ہوئے ان کی راہ میں مشکلات ہیں مگر وہ ماضی کے جہادی کمانڈروں میں آج بھی سب سے زیادہ موثر ہیں۔ انہوں نے خود کو صدارتی امیدوار کے طور پر پیش کرکے اشرف غنی کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔ حکمت یار کے معاملے میں پاکستان حد درجہ محتاط ہے مگر پاکستان اور ترکی میں ان کے دوستوں کی کمی نہیں سو پاکستان میں ان کے چاہنے والوں کا ایک حلقہ اپنے طور پر ان کی اصل شبیہہ کو بحال کرنے اور لوح حافظہ پر تازہ کرنے میں مصروف ہو چکا ہے۔ امریکہ جو کابل کے حکمرانوں کی آخری امید اور ماویٰ وملجا ہے بوریا بستر باندھے کھڑا ہے بلکہ رقیبوں یعنی طالبان کیساتھ راز ونیاز میں مشغول ہو کر کابل کے صدارتی محل والوں کا دل جلا رہا ہے۔ بھارت جو اس حکومت کا امریکہ کے بعد دوسرا سرپرست تھا پیار ومحبت کے دعوؤں اور قسموں کے باوجود کابل کے حکمرانوں کے تحفظ کیلئے فوج بھیجنے سے انکاری ہے جس کا صاف مطلب ہے کہ بھارت ان کیلئے روپے پیسہ تو خرچ کر سکتا ہے مگر خون اور جان نہیں۔

یوں خوف اور ہیجان کی ایک کیفیت طاری ہے اس عالم میں اشرف غنی پاکستان کیخلاف اپنے تمام کارڈ کھیلنا چاہتے ہیں جن کا خیال ہے کہ تیس لاکھ افغان پناہ گزینوں کی صورت میں ان کے پاس پاکستان کیخلاف ایک ’’ٹرمپ کارڈ‘‘ موجود ہے۔ جلد ازجلد سارے کارڈ کھیلنے کے اس شوق میں تیزی سے اُبھرتی ہوئی پی ٹی ایم کو وہاں لاکھڑا کیا جہاں سے اجمل خٹک جیسی نامور سیاسی شخصیت کا سفرانقلاب تمام ہوا تھا۔ وہ طویل جلاوطنی اورجلاؤ گھیراؤ کی حمایت اور حالات وتجربات کے بعد اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ انہیں اپنی سرگرمیوں کو پاکستان کی حدود اور ڈھانچے کے اندر واپس منتقل کرنا چاہئے۔ اپنی سرگرمیوں کو پاکستان کی حدود سے باہر منتقل کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ ملکی حدود میں اپنے ممکنہ وسیع حلقہ ہمدرداں اور حامیاں کو ایک موہوم امید اور بے نام تمنا کی بنا پر محدود کرتے ہیں۔ پی ٹی ایم اور ریاست کی آنکھ مچولی تو چل ہی رہی تھی کہ اچانک اشرف غنی نے پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی ٹھانی اور دو ٹویٹس کے ذریعے کہا کہ ان کی حکومت کو خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں پرامن کارکنوں کیخلاف پرتشدد اقدامات پر تشویش ہے۔ سول اور پرامن حقوق کا تحفظ ہر حکومت کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔ تشدد کی پالیسی کے نتائج اچھے برآمد نہیں ہوں گے۔

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اشرف غنی کے ٹویٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا افغان حکومت پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی بجائے اپنے مسائل پر توجہ دے۔ افغان صدر کا اشارہ پی ٹی ایم کی حالیہ سرگرمیوں اور پکڑ دھکڑ کی جانب تھا۔ پی ٹی ایم کے بارے میں ریاستی وسرکاری سٹیریو ٹائپ بیانیہ یہ ہے کہ تنظیم افغان حکومت کا ایک پروجیکٹ ہے اور صرف افغان حکومت ہی نہیں کابل میں اس کے عالمی اور علاقائی دوست بھی پشتون علاقوں میں اس تحریک کو ہوا دینے میں پیش پیش ہیں۔ ایک سال قبل جب یہ تنظیم نقیب محسود کی لاش کو اوون کرتے ہوئے ایک لانگ مارچ کر رہی تھی تو افغان صدر اشرف غنی نے یہ تبصرہ کرنا ضروری سمجھا تھا کہ پاکستان میں پختونوں کے حقوق کیلئے ایک لانگ مارچ ہو رہا ہے۔ اشرف غنی کی اپنی مجبوریاں اور عجلت کی اپنی وجوہات ہے۔ پی ٹی ایم ہمارے اپنے، زخم خوردہ اور حالات سے ناراض ونالاں نوجوانوں کا اکٹھ ہے۔ اس تنظیم کی قیادت سے گزارش یہی ہے کہ وہ اجمل خٹک کی بصیرت اور تجربے کی روشنی میں اپنی سیاست کو واپس طورخم کے اِس جانب منتقل کرے۔بشکریہ مشرق نیوز

یہ بھی دیکھیں

پاک بھارت کشیدگی اور چند معروضات

(حیدر جاوید سید) پاک بھارت کشیدگی کے حالیہ دنوں میں کیا محض اس لئے حکومت ...