بدھ , 21 اگست 2019

اسلامی ممالک میں ہی شورش کیوں؟

نیول چیف پاکستان ایڈمرل ظفر محمود عباسی نے پاک بحریہ کی مشق امن 19کے تحت بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں صرف اسلامی ممالک ہی شورش زدہ کیوں ہیں۔ کیا یہ کسی منصوبے کا حصہ ہے۔ دنیا بھر میں سب سے زیادہ مسلمانوں پر ظلم و ستم روا رکھا جاتا ہے‘ اگر آپ مقبوضہ علاقہ جات پر نظر دوڑائیں تو وہ بھی مسلمانوں کے ہیں۔ اس وقت کشمیر، فلسطین ‘ بوسنیا‘ چیچنیا‘ روہنگیا ‘ شام‘ عراق ‘ لیبیا اور افغانستان میں ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مسلمانوں کی نسل کشی جاری ہے اور یہ مکروہ فعل عالمی طاقتوں کی چھتری تلے ہو رہا ہے۔ انہی قوتوں کی ملی بھگت سے اسلام کے نام پر معرض وجود میں آنے والے پاکستان کے دو ٹکڑے کیے گئے۔ جب جگر کی آگ ٹھنڈی نہ ہوئی تو دہشت گردی کے ناسور کو پال پوس کر یہاں چھوڑ دیا گیا تاکہ یہ ملک ترقی کی منازل طے کر کے عالم اسلام کو ایک جگہ اکٹھا نہ کر سکے‘ ترکی نے خلافت عثمانیہ کے دور کی جانب سفر طے کیا تو وہاں پر بھی فوجی بغاوت کروا دی گئی۔ جسے وہاں کے عوام نے ناکام بنا دیا۔ اسی طرح لیبیا کے بڑھتے معاشی استحکام سے خوف زدہ ہو کر عرب سپرنگ تحریک کی سرپرستی کر کے کرنل قذافی کے اقتدار کا خاتمہ کیا گیا۔ مصر میں اسلامی حکومت کی بنیاد سے ڈر کر مرسی کو اقتدار سے ہٹانے کی گھنائونی سازش کی گئی۔ کویت کو عراق سے خوفزدہ کر کے امریکی افواج وہاں پر اتاری گئیں۔ اسی طرح ایران اور عراق کو کئی برسوں تک لڑایا گیا۔

سعودی عرب اور ایران کے درمیان خلیج ڈال کر جزیرۃ العرب میں امریکی فوج کے اڈے قائم کئے گئے۔ داعش اور القاعدہ کا شوشہ چھوڑ کر شام پر کیمیائی ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا۔ عراق میں صدام حکومت ختم کر کے امریکی سرپرستی میں مفلوج حکومت قائم کی گئی۔ نائن الیون کی آڑ میں افغانستان سے اسلامی حکومت کا بوریا بستر گول کر کے ایک کٹھ پتلی حکومت کی بنیاد رکھی گئی۔ یہ سبھی امریکی سرپرستی میں مسلمان ملکوں میں ہوا ہے ۔ایک منصوبے کے تحت صرف اسلامی ممالک کو غیر مستحکم اور کمزور کر کے دنیا پر حکمرانی کرنے کی داغ بیل ڈالی گئی ہے۔اس پہلوکو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ مسلمان ملکوں میں بہت سارے مسلمان میر جعفر اور میر صادق کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔ اگر مسلمان ملکوں کے عوام میں اتحاد کا جذبہ موجود ہو تو کوئی بھی ملک سات سمندر پار سے آ کر ان کے امن و امان کو تار تار نہیں کر سکتا۔ امریکہ اور نیٹو اتحاد کے آج بھی دنیا بھر میں خفیہ اور اعلانیہ آپریشن مسلمان ملکوں کی سرزمین پر جاری ہیں۔ امریکہ اور نیٹو نے کھربوںڈالر افغان جنگ میں جھونکے لیکن نتیجہ صفر جمع صفر نکلا ہے۔ امریکہ آج افغان جنگ ہار چکا ہے لیکن وہ اعلانیہ شکست تسلیم کرنے کی بجائے ایک محفوظ اور باعزت راستے کی تلاش میں ہے۔ جس طرح چار دہائیاں گزرنے کے باوجود’’ ویتنام سنڈروم ‘‘کا لفظ امریکیوں کے نفسیاتی مسائل بیان کرنے کے لیے بولاجاتا ہے اسی طرح افغانستان سے پسپائی بھی اس کی ہٹ دھرمی پر دلالت کرتی رہے گی۔ امریکہ اور اس کے اتحادی اگر افغانستان‘ عراق اور شام کی جنگوں پر خرچ ہونے والی رقم غریب اور متوسط طبقے پر خرچ کرتے تو آج دنیا سے غربت کا خاتمہ ہو چکا ہوتا۔ لیکن انہوں نے غریب اور کمزور ملکوں کو تباہ و برباد کر کے بے روزگاری پھیلانے کے سوا کچھ نہیں کیا۔

پوپ فرانسس نے ابوظہبی میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ خدا کے نام پر نفرت اور تشدد کا کوئی جواز نہیں۔ انہوں نے روا داری اور انسانی دوستی کے فروغ پر زور دیا لیکن دنیا بھر میں ان کے پیرو کار مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کئے ہوئے ہیں۔ پوپ فرانسس انہیں بھی حضرت مسیحؑ کی تعلیمات سے آگاہ کریں۔ شاید اسی طرح دنیا بھر میں مسلمانوں کے خلاف جاری نفرت اور عصبیت کا خاتمہ ممکن ہو سکے ۔ امریکہ اور اس کے حواری عیسائیت سے تعلق رکھنے والے افراد کے حقوق کیلیے بڑی شدت سے آواز بلند کرتے ہیں لیکن مسلمانوں کی نسل کشی پر انہیں سانپ سونگھ جاتا ہے۔ بھارت 70 برس سے کشمیری مسلمانوں کی نسل کشی کر رہا ہے لیکن اقوام متحدہ سے لے کر انسانی حقوق کی تنظیموں تک سبھی نے اس پر مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ فلسطینیوں پر اسرائیل کے ڈھائے جانے والے مظالم پر یو این اور عالمی تھانیدار امریکہ نے چپ سادھ رکھی ہے لیکن جب کشمیریوں اور فلسطینیوں سے ملتے جلتے مظالم مشرقی تیمور اور شمالی سوڈان کے عیسائیوں پر ڈھائے گئے تو اقوام متحدہ سمیت امریکہ نے آسمان سر پر اٹھا لیا۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی تلملا اٹھیں اور بالآخر 9جولائی 2011ء کو سوڈان کے دوٹکڑے کر کے عیسائی اکثریت پر مبنی شمالی سوڈان کو الگ ریاست قرار دے دیا گیا۔

اسی طرح 20مئی 2002ء کو انڈونیشیا سے مشرقی تیمور الگ کر کے عیسائی ریاست کی بنیاد رکھی گئی۔ لیکن کشمیر‘ فلسطین اور دیگر مسلمان مقبوضہ ریاستیں اقوام متحدہ اور امریکہ کو نظر ہی نہیں آتیں۔ نیول چیف نے سوال اٹھایا ہے کہ دنیا بھر میں اسلامی ملکوں کو کمزور کر کے انہیں حصوں بخروں میں بانٹنا کسی منصوبے کا حصہ ہے؟ در حقیقت یہ امریکی صدر ریگن کے نیو ورلڈ آرڈر کے ایجنڈے کی تکمیل کی طرف پیش قدمی ہے۔ جس کے تحت اسلامی ملکوں کو ٹکڑوں میں تقسیم کرنا ہے۔ مسلمان ممالک معدنیات تیل اور گیس کے ذخائر سے مالا مال ہیں، اگر وہ اسلامی حکومت کی عظمت رفتہ کی بحالی کے لئے کوششیں کریں تو ماضی کی طرح ایک بار پھر اسلام کا پرچم پوری دنیا پر لہرایا جا سکتا ہے لیکن یہاں پر مسلمان مسلمان کا دشمن ہے۔ وہ ایک دوسرے کے وجود کو پھلتا پھولتا دیکھنا ہی نہیں چاہتے، جس بنا پر دنیا بھر میں غلامی کی زندگی گزار رہے ہیں۔اگر مسلمان یونہی ٹکڑوں میں بٹے رہے تو تنہائیاں رسوائیاں بن کر ان کے لئے ذلتوں کا سامان بنتی رہیں گی۔ جبکہ مسلمانوں کی بقا ،سلامتی اور خوشحالی عالم اسلام کے اتحاد میں مضمر ہے۔ بشکریہ 92 نیوز

یہ بھی دیکھیں

ہماری دعائیں کیوں قبول نہیں ہوتیں!

(راؤ منظر حیات) عیدکی نمازکے بعد، امام صاحب نے بڑی رقت کے ساتھ فلسطین، کشمیراوردنیامیں …