منگل , 19 مارچ 2019

گاڑیوں میں خودکار بریکنگ نظام پر 40 ممالک رضامند

نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک)اقوام متحدہ کی ایجنسی نے کہا ہے کہ جاپان اور یورپین یونین (ای یو) کی قیادت میں 40 ممالک جن میں امریکا اور چین شامل نہیں ہیں وہ نئی کاروں اور لائٹ کمرشل گاڑیوں کو خودکار بریکنگ نظام سے لیس کرنے پر راضی ہوگئے ہیں، جس کا آغاز آئندہ سال سے ہوگا۔امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق قواعد و ضوابط میں ضروری ہوگا کہ فروخت ہونے والی تمام گاڑیوں کو اس ٹیکنالوجی سے لیس کرنا ہوگا جس میں سینسر مانیٹر کرے کہ پیدل چلنے والے یا کوئی شے کتنے قریب ہوسکتی ہے۔

جس کے بعد یہ نظام اگر کوئی تصادم کا خطرہ محسوس کرے یا اگر ڈارئیور فوری طور پر ردعمل دینے کی حالت میں نہ ہو تو خود کار طور پر بریکس لگ جائے۔یہ پیمانہ ’کم رفتار‘ 60 کلو میٹرز فی گھنٹہ (42 ایم پی ایچ) یا اس سے کم رفتاری کی گاڑیوں پر لاگو ہوگا اور دستخط کرنے والے والے ممالک میں فروخت ہونے والی نئی کاروں پر اثر انداز ہوگا، لہٰذا آج سڑکوں پر پہلے سے موجود کاروں اور ٹرکوں کے مالکان کو اس میں تبدیلی کروانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

امریکا، چین اور بھارت اقوام متحدہ فورم کے رکن ہیں اور انہوں نے اس نئے قواعد و ضوابط کو اپنایا، تاہم وہ اس مذاکرات کا حصہ نہیں بنے کیونکہ جب آٹو صنت کی بات آتی ہے تو یہ اپنے قومی قواعد و ضوابط کو اقوام متحدہ کے قوانین پر مقدم رکھنے کو یقینی بنانا چاہتے ہیں۔

واضح رہے کہ 2016 میں 20 آٹومیکرز امریکی حکومت کے ساتھ اس معاہدے پر پہنچے تھے کہ ستمبر 2022 تک اپنی تمام گاڑیوں میں خودکار طریقے سے ہنگامی بریکنگ (آٹومیٹک ایمرجنسی بریکنگ) کو لگا دیں گے لیکن یہ سب رضاکارانہ طور پر کیا جائے گا۔

اس حوالے سے 2017 سے حفاظتی ٹیکنالوجی پر حالیہ رپورٹ میں نیشنل ہائی وے ٹریفک سیفٹی ایڈمنسٹریشن کا کہنا تھا کہ 20 میں سے 4 آٹو میکرز ٹیسلا، مرسڈیز بینز، ٹویوٹا اور وولو نے اپنے تقریبا آدھے سے زیادہ ماڈلز پر خودکار بریکنگ اسٹینڈر تیار کرلیا ہے۔

انشورنس صحت کی ہائی ویے لوس ڈیٹا انسٹیٹیوٹ سے آنے والے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ 2019 کے 28 فیصد امریکی ماڈلز میں اسٹینڈرڈ آٹومیٹک ایمرجنسی بریکنگ موجود ہے جبکہ مزیز 36 فیصد میں اس کا آپشن ہے۔

آٹو سیفٹی کے لیے غیرمنافع بخش سینٹر کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر جیسن لیوائن کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ گروپ میں امریکی نمائندگی کی کمی ایک ایسے ملک کے لیے شرمنگی کا باعث ہے جو آٹو سیفٹی شعبے میں قیادت کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ’سڑک پر موجود ہر کسی کی حفاظت کی بات آئے تو یہ امریکا میں آٹو صنعت اور ٹرمپ انتظامیہ کی قیادت کی مکمل کمی کی طرف ایک اور اشارہ ہے‘۔

دوسری جانب یورپ کے لیے امریکی نیشنز اکنامک کمیشن ( یو این ای سی ای) کے ترجمان جین روڈریگیوز کا کہنا تھا کہ امریکی کی ہائی وے سیفٹی ایجنسی این ایچ ٹی ایس اے کے جواب کے حصول کے لیے ایک پیغام چھوڑا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس ضرورت کا آغاز آئندہ برس پہلے جاپان میں ہوگا، جہاں 2018 میں 40 لاکھ کاریں اور لائٹ کمرشل گاڑیاں فروخت ہوئی تھیں۔بعد ازاں یورپین یونین اور اس کے قریبی ہمسایوں میں 2022 میں اس سسٹم کے لاگو ہونے کا امکان ہے۔

یو این ای سی ای کا کہنا ہے کہ اس معاہدے پر راضی ہونے والے ممالک سڑک حادثے کے خلاف لڑنے میں زیادہ متحرک ہیں، خاص طور پر شہری علاقوں میں جہاں پیدل چلنے والوں، اسکوٹرز، سائیکلز اور دیگر گاڑیوں کے قریب چلنے کی رکاوٹ کا سامنا ہے۔

ایجنسی کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا کہ 2016 میں یورپی یونین میں 9 ہزار 5سو سے زائد سڑک حادثوں سے اموات ہوئی اور یورپی یونین کمیشن کے اندازے کے مطابق اس بریکنگ نظام سے ہر سال ایک ہزار سے زائد زندگیوں کو محفوظ بنانے میں مدد ملے گی۔

یہ بھی دیکھیں

وہ کون سی غلطیاں ہیں جو لیپ ٹاپ کی عمر کم کرتی ہیں!

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)کمپیوٹر کے مقابلے میں لوگ لیپ ٹاپ کا استعمال اپنی آسانی کے لیے ...