جمعرات , 23 مئی 2019

وارسا کانفرنس، امریکہ و اسرائیل کو ناکامی کا سامنا ہوگا؟؟

(تحریر: تصور حسین شہزاد)

امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے پولینڈ کے دارالحکومت وارسا میں منعقد ہونیوالی سربراہی کانفرنس اپنے انعقاد سے قبل ہی فلاپ ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ کانفرنس کا ایجنڈا جو ابتداء میں فائنل کیا گیا تھا، اسے تبدیل کر دیا گیا ہے۔ ابتدائی ایجنڈے میں ایران کو سرفہرست رکھا گیا اور کانفرنس کا مرکزی مقصد ہی صرف ایران پر دباو بڑھانا تھا، مگر سفارتی حلقوں میں اس بات پر حیرت کا اظہار کیا گیا کہ ایران اور عرب ممالک سے متعلق کانفرنس ہے تو اسے کسی عرب ملک میں ہونا چاہیئے، یہ یورپی ملک کے دارالحکومت میں کیوں ہو رہی ہے؟ کانفرنس کے فعال "میزبانوں” میں امریکہ، اسرائیل اور سعودی عرب ہیں۔ ناجائز ریاست اسرائیل کی شرکت کے باعث فلسطین نے کانفرنس میں شرکت سے انکار کر دیا ہے۔ فلسطینی قیادت نے موقف اختیار کیا ہے کہ اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے اور اس کی موجودگی میں کانفرنس میں شریک ہونا اسے تسلیم کرنے کے مترادف ہے، جو ہمارے کاز کے برعکس ہے، اس لئے فلسطین اس کانفرنس میں شریک نہیں ہوگا۔

ایران کے حوالے سے ایجنڈا ہونے کے باعث دیگر ممالک نے بھی کوئی واضح دلچسپی نہیں دکھائی، جس کے باعث امریکہ کو یہاں بھی "یوٹرن” لینا پڑا۔ اب امریکہ کی جانب سے وارسا کانفرنس کا ایجنڈا تبدیل کر دیا گیا ہے۔ امریکہ نے متوقع شرکاء کو مائل کرنے کیلئے اسے "وزارتی سطح کی کانفرنس” کہا ہے اور اس کا ایجنڈا "مشرق وسطیٰ میں امن اور استحکام کا مستقبل” رکھا گیا ہے۔ اب کانفرنس کے ایجنڈے سے ایران کا نام نکال دیا گیا ہے اور ایران کی جگہ اب انسانی امداد، مہاجرین کے مسائل، سائبر کرائم، دہشتگردی اور میزائلوں کے پھیلاو جیسے موضوعات کو ایجنڈے کا حصہ بنایا گیا ہے۔ مشرق وسطیٰ کا اہم ترین مسئلہ فلسطین کا ہے، مگر حیران کن امر یہ ہے کہ اس کانفرنس کے ایجنڈے میں فلسطین کا ذکر تک نہیں کیا گیا۔ یعنی بات تو مشرق وسطیٰ کی کی جائے گی، مگر اس میں فلسطین نہیں ہوگا۔ یہاں ڈونلڈ ٹرمپ سے یہ سوال کرنا بنتا ہے کہ فلسطین کے بغیر یہ مشرق وسطیٰ کیلئے کانفرنس کیسے ہوگئی۔؟

امریکہ کی جانب سے وزیر خارجہ مائیک پومپیئو، نائب صدر مائیک پینس اور امریکی صدر کے داما جیریڈ کُشنر جو یہودی ہیں اور ہمیشہ اسرائیلی مفاد کیلئے سوچتے رہتے ہیں، وہ شرکت کریں گے۔ اسرائیل کی نمائندگی اس کے وزیراعظم نتن یاہو کریں گے، جبکہ سعودی عرب، اردن، کویت، بحرین، یمن، مراکش، اومان اور یو اے ای کے وزراء سطح کے نمائندے کانفرنس میں شریک ہوں گے۔ یہاں قابل ذکر امر یہ ہے کہ ناجائز ریاست اسرائیل عربوں کے ساتھ بیٹھ کر علاقائی مسائل پر تبادلہ خیال کرے گا۔ یہ عربوں کی ناکامی اور بے حسی کی واضح دلیل ہے کہ ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں بیگناہ فلسطینیوں کے قاتل کیساتھ عرب حکمران بیٹھیں گے، جبکہ ایران کی مضبوط دفاعی پوزیشن کے باعث انہیں ایران کیخلاف بولنے کی ہمت تو نہیں ہوگی، مگر ان کے کردار اس کانفرنس میں بے نقاب ضرور ہوں گے۔

مغربی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم عربوں کو قائل کرنے کی کوشش کریں گے کہ وہ ایران کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے اختلاف رائے کو دور کریں۔ اس حوالے سے یہ بھی اطلاعات ہیں کہ ایران نے اپنا اثرورسوخ استعمال کرکے اس کانفرنس کو ناکام بنانے کیلئے کوشش کی ہے، جو ثمرآور بھی ثابت ہوئی ہے۔ اب تک کی صورتحال دیکھ کر تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ وارسا کانفرنس محض نشتن، گفتن اور برخاستن کے سوا کچھ نہیں ہوگی، کیونکہ عرب ممالک ہوں یا امریکہ و اسرائیل، اب یہ سب جانتے ہیں کہ ایران تر نوالہ نہیں رہا۔

یہ بھی دیکھیں

’پاکستان میں بجٹ خسارہ نہیں، اعتماد کا خسارہ ہے’

(راجہ کامران) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت نے گزشتہ 10 ماہ کے …