جمعرات , 23 مئی 2019

امریکی وزیر خارجہ کا دورہ یورپ، پہلے قدم پر ہی ناکامی کا سامنا

(تحریر: عبدالحمید بیاتی)

امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپئو نے کل اپنے یورپ دورے کا آغاز کر دیا ہے۔ اس دورے میں ان کی پہلی منزل ہنگری کا دارالحکومت بوڈاپیسٹ تھا۔ یہ 2011ء کے بعد امریکی وزیر خارجہ کا ہنگری کا پہلا دورہ ہے۔ مائیک پمپئو اپنے یورپ دورے میں کچھ اہداف حاصل کرنا چاہتے ہیں جن میں روس اور چین کے خلاف مشرقی یورپ کے ممالک سے امریکہ کا اتحاد مضبوط بنانا سرفہرست ہے۔ اسی سلسلے میں امریکی وزیر خارجہ نے اپنے ہنگری کے ہم منصب کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بوڈاپیسٹ کو چین اور روس سے تعلقات قائم کرنے سے خبردار کیا اور کہا کہ ان ممالک سے تعلقات ہنگری کو سیاسی اور اقتصادی دونوں اعتبار سے مقروض کر دیں گے۔ رشیا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق امریکی وزیر خارجہ کا یہ بیان ہنگری کے حکام کو بہت برا محسوس ہوا ہے اور ہنگری کے وزیر خارجہ نے ان کے بیان پر ردعمل ظاہر کیا ہے۔

ہنگری کے وزیر خارجہ پیٹر زیجارتو نے روس اور چین سے بوڈاپیسٹ کے تعلقات پر مائیک پمپئو کی دھمکی کا جواب دیتے ہوئے کہا: "اگر بعض ممالک اپنا وقت دیگر ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت میں صرف کریں گے تو دنیا اچھی جگہ نہیں رہے گی۔” انہوں نے مزید کہا: "ہنگری روس کے ساتھ بھی، چین کے ساتھ بھی اور مغرب کے ساتھ بھی متعادل تعلقات قائم رکھ سکتا ہے۔ اگر کوئی یہ کہے کہ ہنگری روس سے تعلقات کے باعث گوشہ گیر ہو گیا ہے تو یہ بہت بڑی منافقت ہو گی۔” ہنگری کے وزیر خارجہ نے مزید کہا: "بظاہر بہت زیادہ تنقیدات پائی جاتی ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ یورپ اور روس کے درمیان وسیع تجارتی تعلقات قائم ہیں جو اربوں یورو پر مشتمل ہیں۔ روس اور چین سے تعاون ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچا رہا اور اس قسم کے تعلقات نیٹو سے ہمارے تعلق پر اثرانداز نہیں ہو رہے۔”

امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپئو کا حالیہ یورپی ممالک کا دورہ امریکہ کی جانب سے روس کے ساتھ درمیانی رینج کے میزائلوں سے متعلق معاہدے INF سے دستبرداری کے فوراً بعد انجام پا رہا ہے لہذا ان کے اس دورے کا ایک مقصد یورپی ممالک کو اس معاہدے کے بارے میں امریکی موقف کے قریب لانا بھی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ اپنے اس دورے میں ہنگری کے بعد سلوواکیا، بلجیم، پولینڈ اور آئس لینڈ بھی جائیں گے۔ یورپ کے اس دورے میں امریکی وزیر خارجہ کا ایک اور اہم مقصد یورپی ممالک کو ایران کے خلاف اکسانا بھی ہے۔ وہ اس دورے میں یورپی ممالک کو عنقریب منعقد ہونے والی ایران مخالف وارسا کانفرنس میں امریکی موقف کی حمایت کرنے پر راضی کرنے کی کوشش کریں گے۔ وارسا کانفرنس میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپئو اور امریکی نائب صدر مائیک پینس شرکت کریں گے۔ اس کانفرنس کا عنوان "مشرق وسطی میں امن پر مبنی مستقبل کی ترویج کیلئے وزراء کا اجلاس” رکھا گیا ہے۔

اگرچہ امریکی وزارت خارجہ کی جانب سے وارسا کانفرنس سے متعلق جاری شدہ بیانیے میں ایران کا ذکر نہیں کیا گیا لیکن خود امریکی وزیر خارجہ اس بات کی وضاحت کر چکے ہیں کہ اس کانفرنس کے انعقاد کا بنیادی مقصد اسلامی جمہوریہ ایران کو کنٹرول کرنا ہے۔ مائیک پمپئو نے تقریباً ایک ماہ پہلے واضح کیا تھا کہ امریکہ ایران کے مقابلے میں ایک اتحاد تشکیل دینا چاہتا ہے۔ دوسری طرف پولینڈ کے حکام نے اعلان کیا ہے کہ وارسا کانفرنس مجموعی طور پر مشرق وسطی کے بارے میں ہو گی جبکہ امریکی وزارت خارجہ کے ایک اعلی سطحی عہدیدار نے حال ہی میں یہ بیان دیا ہے کہ "وارسا کانفرنس نہ ایران مخالف ہو گی اور نہ ہی کوئی اتحاد تشکیل دینے کی کوشش کی جائے گی۔” البتہ امریکی وزارت خارجہ نے 7 فروری کو اس بارے میں ایک اور بیانیہ جاری کیا جس میں ایران کے ساتھ روس کا نام بھی لیا گیا ہے۔ اس بیانیے میں کہا تھا کہ امریکی وزیر خارجہ اپنے بلجیم دورے میں یورپی یونین کے خارجہ امور کی سربراہ فیڈریکا موگرینی سے ملاقات کے دوران "یورپ کی سکیورٹی مضبوط بنانے کی اہمیت اور ایران اور روس سے درپیش خطرات کی جانب توجہ مبذول کرانے” کی کوشش کے ساتھ ساتھ وینزویلا سے متعلق امور پر بھی بات چیت کریں گے۔

یہ بھی دیکھیں

’پاکستان میں بجٹ خسارہ نہیں، اعتماد کا خسارہ ہے’

(راجہ کامران) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت نے گزشتہ 10 ماہ کے …