پیر , 25 مارچ 2019

حسین حقانی کی گرفتاری ریاست کا کام ہے؛ سپریم کورٹ نے میمو گیٹ اسکینڈل نمٹا دیا

سپریم کورٹ آف پاکستان نے میمو گیٹ اسکینڈل نمٹاتے ہوئے کہا ہے کہ حسین حقانی کی گرفتاری ریاست کا کام ہے اور اب سپریم کورٹ کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں۔واضح رہے کہ گزشتہ سال سپریم کورٹ نے امریکا میں مقیم سابق پاکستانی سفیر حسین حقانی کے حوالے سے میمو گیٹ کیس کو دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کرتے ہوئے تین رکنی بینچ تشکیل دے دیا تھاجبکہ حسین حقانی اور کیس میں دیگر فریقین بشمول سابق وزیر اعظم نواز شریف کو نوٹسز جاری کردیے گئے تھے۔جمعرات کو چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے اسے نمٹانے کا اعلان کردیا۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ یہ معاملہ 8 سال سے سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے، اس معاملے میں ایف آئی آر درج ہوچکی ہے اور ایک کمیشن 2012ء میں معاملے کی رپورٹ دے چکا ہے۔عدالت نے کہا کہ اصل معاملہ میمو کا ہے جو امریکی حکومت کو لکھا گیا اور اب نہ وہ حکومت ہے نہ حسین حقانی سفیر رہے۔

اس موقع پر ایڈیشنل اٹارنے جنرل نے کہا کہ یہ بہت حساس معاملہ ہے جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ درخواست گزار وطن پارٹی کہاں ہے؟ اگر درخواست گزار نہیں آیا تو ہم یہاں کیوں بیٹھے ہی۔

آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ حسین حقانی پر کچھ الزامات ہیں اور ان کی واپسی ضمن معاملہ ہے، ان کی گرفتاری اور ٹرائل ریاست کا معاملہ ہے، ریاست چاہے تو حسین حقانی کے خلاف کارروائی کرسکتی ہے لیکن سپریم کورٹ کا اب اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں۔

انہوں نے کہا کہ کیا ریاست اب بھی میمو کا خوف محسوس کرتی ہے؟ کیا ریاست پاکستان، مسلح افواج اور ہمارا آئین اتنے کمزور ہیں کہ ایک میمو سے ڈر جائیں؟ یہ اتنے کمزور نہیں ہیں اور اللہ کا کرم ہے یہ بہت مضبوط ملک ہے۔

انہوـں نے کہا کہ میمو کمیشن نے اس معاملے پر اپنی رپورٹ بھی دے دی تھی اور اس کی روشنی میں ایف آئی آر بھی درج ہے لہٰذا اب ایف آئی آر پر عمل کرنا ریاست کا کام ہے اور مقدمہ نمٹانے کا اعلان کردیا۔

حسین حقانی اور میموگیٹ
میموگیٹ اسکینڈل 2011 میں اس وقت سامنے آیا تھا جب پاکستانی نژاد امریکی بزنس مین منصور اعجاز نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ انہیں حسین حقانی کی جانب سے ایک پیغام موصول ہوا، جس میں انہوں نے ایک خفیہ میمو اس وقت کے امریکی ایڈمرل مائیک مولن تک پہنچانے کا کہا تھا۔یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے لیے کیے گئے امریکی آپریشن کے بعد پاکستان میں ممکنہ فوجی بغاوت کو روکنے کے سلسلے میں حسین حقانی نے واشنگٹن کی مدد حاصل کرنے کے لیے ایک پراسرار میمو بھیجا تھا۔

اس اسکینڈل کے بعد حسین حقانی نے بطور پاکستانی سفیر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا اور اس کی تحقیقات کے لیے ایک جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا گیا تھا۔جوڈیشل کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ میمو ایک حقیقت تھا اور اسے حسین حقانی نے ہی تحریر کیا تھا۔

کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ میمو لکھنے کا مقصد پاکستان کی سویلین حکومت کو امریکا کا دوست ظاہر کرنا تھا اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ ایٹمی پھیلاؤ روکنے کا کام صرف سویلین حکومت ہی کر سکتی ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا تھا کہ حسین حقانی نے میمو کے ذریعے امریکا کو نئی سیکیورٹی ٹیم کے قیام کا یقین دلایا اور وہ خود اس سیکیورٹی ٹیم کا سربراہ بننا چاہتے تھے۔کمیشن کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ‘حسین حقانی یہ بھول گئے تھے کہ وہ پاکستانی سفیر ہیں، انہوں نے آئین کی خلاف ورزی کی’۔

حسین حقانی اور مضمون
واضح رہے کہ حسین حقانی نے اخبار واشنگٹن پوسٹ میں کالم تحریر کیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے خلاف امریکی آپریشن میں انہوں نے اوباما انتظامیہ کی مدد کی جبکہ حکومت پاکستان اور خفیہ ایجنسی (آئی ایس آئی) تمام حالات سے بے خبر تھی۔انہوں نے اپنے مضمون میں امریکیوں کو جاری کیے جانے والے ویزوں کے حوالے سے بھی بات کی تھی۔

حسین حقانی نے لکھا تھا کہ ‘اوباما کی صدارتی مہم کے دوران بننے والے دوستوں نے، 3 سال بعد ان سے پاکستان میں امریکی اسپیشل آپریشنز اور انٹیلی جنس اہلکاروں کو تعینات کرنے کے حوالے سے مدد مانگی تھی’۔

یہ بھی دیکھیں

’مخصوص بیانیے کی پیروی نہ کریں تو غدار کہلاتے ہیں‘بلاول بھٹو

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف کے رکن پنجاب اسمبلی کی جانب سے بلاول بھٹو زرداری ...