جمعرات , 23 مئی 2019

افغان شہری ہونے کا دعویدار پاکستانی

(سلمان مسعود)

گزشتہ روز نادرا کے چیئرمین عثمان یوسف مبین نے سینیٹ کی مجلس قائمہ برائے اُمور داخلہ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ دس ہزار ایسے پاکستانی اتھارٹی نے دریافت کیے ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو افغان مہاجر کے طور پر رجسٹر کرایا ہے۔ بریفنگ کے دوران انہوں نے ایسے غیر ملکیوں کے بارے میں بھی بتایا جنہوں نے بعض پاکستانی خاندانوں اور اہل کاروں سے مل کر پاکستانی شناختی کارڈ حاصل کیے ہوئے ہیں۔ یہ بریفنگ ان لوگوں کے بارے میں تھی جن کے کارڈ نادرا نے بلاک کیے ہوئے ہیں۔ غیر ملکیوں کے پاکستانی شناختی کارڈ حاصل کرنے کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ وہ یہاں روزگار حاصل کرنا چاہتے ہیں یا پھر ایسے لوگ ہیں جو اپنی حقیقی شناخت چھپانا چاہتے ہیں ۔

مثال کے طور پر نادرا کے چیئرمین نے بتایا کہ ایک ایرانی دہشت گرد گروپ کے سابق سربراہ عبدالمالک ریگی اور اس کے اہل خانہ کے پاس بھی پاکستانی شناختی کارڈ تھے۔ ان کی تعداد کتنی ہے اور جن خاندانوں نے انہیں اپنے شجروں کا حصہ بنانے کی سہولت فراہم کی ہے اور جن اہل کاروں نے پاکستانی شناختی کارڈ حاصل کرنے میں ان کی معاونت کی ہے ان کے خلاف کیا کارروائی کی جانی چاہیے۔ اخبار میں شائع ہونے والی خبر میں ایسی کوئی سفارش شامل نہیں ہے۔ ان دس ہزاروں پاکستانیوں کے بارے میں جنہوں نے افغان مہاجر کے طور پر اپنی رجسٹریشن کرائی ہے کہا جاتا ہے کہ انکا محرک اقوام متحدہ کے کمیشن برائے افغان مہاجرین کی رضاکارانہ واپسی کی سکیم تھی جس کے تحت آج کل رضاکارانہ طور پر افغانستان واپس جانے والوں کو چار سو ڈالر فی کس امداد دی جاتی ہے۔ یہ امداد محض خاندان کے سربراہ تک محدود نہیں بلکہ نومولود بچوں کو بھی ایک فرد شمار کیا جاتا ہے۔

چند سال پہلے اسلام آباد کے ایک علاقے سے افغان مہاجرین کو واپس بھیجنے کا سلسلہ شروع ہوا تو یہ بات سامنے آئی تھی کہ مہاجر جاتے ضرور ہیں ‘ انہیں نقد امداد کے علاوہ بھی امداد دی جاتی ہے لیکن ان میں سے کچھ پھر واپس آ جاتے ہیں اور اسی بستی میں سکونت اختیار کرلیتے ہیں۔یہ کارروائی کافی عرصہ تک جاری رہی۔ تاہم یہ ان پاکستانیوں کا ذکر نہیں ہے جنہوں نے شاید اقوام متحدہ کی امداد کے لالچ میں اپنے آپ کو افغان مہاجر کے طور رجسٹر کروایا۔ سوال یہ ہے کہ افغان مہاجر ہونے کا دعویٰ کرنے کے بعد کیا وہ اب بھی پاکستانی شہری ہیں؟ انہوں نے پاکستانی شہریت سے دستبردار ہونے کی قانونی کارروائی نہیں کی۔ البتہ ان پر اپنی شناخت غلط ظاہر کرنے کا دستاویزی ثبوت ان کی بطور افغان مہاجر رجسٹریشن کی صورت میں موجود ہے۔ اپنی شناخت غلط ظاہر کرنا قانون کے مطابق جرم ہے۔ اگر یہ دس ہزار لوگ افغانستان نہیں چلے گئے اور پاکستان میں موجود ہیں تو ان کے خلاف متعلقہ قانون کے تحت کارروائی ہونی چاہیے۔ سینیٹ کی اُمور داخلہ کی مجلس قائمہ نے اس حوالے سے کوئی سفارش نہیں کی۔ لیکن سینیٹ کی ایک اور مجلس قائمہ سٹیڈنگ کمیٹی آن سٹیٹس اینڈ فرنٹیئر ریجنز نے پاکستانیوں کی ایک اور ایسی ہی قسم کے بارے میںکہا ہے کہ حکومت انہیں اپنا لے۔ یہ وہ پاکستانی ہیں جنہوں نے یورپ اور امریکہ کے ممالک میں اپنے آپ کو افغان شہری ظاہر کر کے وہاں افغانستان کے جنگی حالات کے حوالے سے سیاسی پناہ حاصل کی۔ جنگ افغانستان میںہو رہی تھی ‘ ان پاکستانیوں نے اس صورت حال سے فائدہ اٹھایا‘ یورپی ممالک اور امریکہ چلے گئے وہاں اپنے آپ کو افغان شہری ظاہر کیا اور سیاسی پناہ حاصل کی۔ قائمہ کمیٹی میں ان کی تعداد نہیں بتائی گئی۔ یہ معلوم کرنا کہ کون سے ملک میںکتنے پاکستانی اپنے آپ کو افغان شہری ظاہر کر کے سیاسی پناہ لیے ہوئے ہیں ہے بھی مشکل۔ تاہم ان اعداد و شمارکے بغیر ہی یہ معاملہ سینیٹ کی مجلس قائمہ میں اٹھایا گیا۔

کمیٹی کے چیئرمین تاج محمد آفریدی نے کہا کہ یہ پاکستانی اب ممالک غیر میں مشکلات میں مبتلا ہیں۔ چونکہ ان کے پاس پاکستانی پاسپورٹ ہیں اور نہ ہی افغانستان کے چیئرمین نے کہا کہ ان کی ملاقات برطانیہ میں بہت سے ایسے نوجوانوں سے ہوئی جنہوں نے اپنے آپ کو افغان مہاجر ظاہر کیا تھا۔ یہ بہت سے کتنے ہیں یہ انہوں نے نہیں بتایا۔ نہ کمیٹی میں ایسے کوئی اعداد و شمار زیرِ بحث آئے۔ البتہ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ حکومت ہی ان کی نشاندہی کرے اور ان کے پاکستانی ہونے کا اعلان کرے۔ انہیں پاکستانی پاسپورٹ عطا کرے تاکہ یہ لوگ واپس آکر اطمینان کی زندگی گزار سکیں۔ ان کے مشکلات میں مبتلا ہونے کی وجہ سے بہت سے خاندان پریشان ہیں۔

کمیٹی کے اجلاس میں یہ بھی بیان کیا گیا کہ افغان مہاجرین کی تین اقسام ہیں۔ ایک وہ جن کے پاس رجسٹریشن کا ثبوت موجود ہے۔دوسرے وہ جو رجسٹریشن کے بغیر پاکستان آئے لیکن انہوں نے اپنے آپ کو رجسٹر کروایا اور تیسرے وہ جو رجسٹریشن کے بغیر ہی پاکستان میں مقیم ہیں۔ ایک رکن شمیم آفریدی نے تجویز دی کہ افغان مہاجرین کو اقسام میں تقسیم کرنے کی بجائے سب کو پاکستانی شہریت دی جائے اور روزگار کی اجازت دی جائے۔ یہ دو تجاویز ایک یہ کہ ممالک غیر میں اپنے آپ کو پاکستانی کی بجائے افغان مہاجر ظاہر کرکے سیاسی پناہ حاصل کرنے والے پاکستانیوں کی حکومت نشاندہی کرے اور انہیں پاکستانی پاسپورٹ جاری کرے اور دوسرے یہ کہ تمام افغان مہاجرین کو پاکستانی شہریت دی جائے کہاں تک پاکستان کے قانون شہریت سے مطابقت رکھتی ہیں اس سوال پر غور کیا جانا چاہیے۔ جو افغان مہاجر پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم ہیں ‘ جو پاکستانی اپنے آپ کو افغان مہاجر ظاہر کر کے افغانستان واپسی کا وظیفہ حاصل کرنے کے خواہش مند ہیں یا سیاسی پناہ حاصل کر چکے ہیں آخر ان پر اپنی شناخت غلط ظاہر کرنے کا الزام تو ہے۔ کیا ان کو ایک نیا این آر او دیا جائے گا؟ ۔بشکریہ مشرق نیوز

یہ بھی دیکھیں

’پاکستان میں بجٹ خسارہ نہیں، اعتماد کا خسارہ ہے’

(راجہ کامران) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت نے گزشتہ 10 ماہ کے …