پیر , 25 مارچ 2019

معذور فلسطینی نوجوان کا جانور پالنے کا مشغلہ!

فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والے ایک زندہ دل مگر جسمانی طور پر معذور نوجوان 18 سالہ محمود الحواجری نے اپنی معذوری کو شکست دینے کا قابل قدر کارنامہ انجام دے کر اپنی صلاحیت کا لوہا منوایا ہے۔ تفصیلات کے مطابق فلسطینی نوجوان گذشتہ برس 30 مارچ کو غزہ کی مشرقی سرحد پر ہونے والے ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران اسرائیلی فوج کی وحشیانہ فائرنگ سے ایک ٹانگ سے محروم ہوگیا تھا۔

الحواجری نے اپنے گھر میں متعدد اقسام کی مرغیاں، پالتو جانور پالنے کے ساتھ شہد کی مکھیوں کے چھتے بنا رکھے ہیں۔ وہ اپنے روز مرہ کے معمول میں ان سب کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ بیساکھیوں پر چلتے ہوئے اپنے جانوروں کی دیکھ بھال کرتا ہے۔

ٹانگ سے معذوری
گذشتہ برس 30 مارچ کو فلسطین میں یوم الارض کے موقع پر ہزاروں فلسطینیوں‌نے غزہ کی پٹی کی مشرقی سرحد پر احتجاج کیا۔ ان مظاہرین میں محمود الحواجری بھی شامل تھا۔ ‌صہیونی فوج کی طرف سے نہتے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ان پر کلاشنکوفوں سے فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں متعدد فلسطینی شہید اور سیکڑوں زخمی ہوئے۔

زخمی ہونے والوں میں الحواجری بھی شامل تھے۔ مرکز اطلاعات فلسطین کے نامہ نگار نے بتایا کہ صہیونی فوجیوں‌ نے اس کی پہلے بائیں اور پھر دائیں ٹانگ پرگولی ماری۔ تکلیف کی شدت کے باعث اس پر غشی طاری ہوگئی۔ اس کے بعد اسے غزہ میں قائم اسپتال لے جایا گیا۔ المقاصد اسپتال میں علاج کے لیے اس نے چھ بار کوشش کی مگر صہیونی حکام کی طرف سے اسے اسپتال لے جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

اس نے کہا کہ زخمی ہونے کے کئی ماہ تک وہ بستر پر رہا بالآخر اس نے بیساکھیوں پر چلنے کی کوشش کی تو پہلی بار بیساکھی پکڑنے پر وہ منہ کے بل گرا۔ تاہم اس نے دوبارہ بیساکھیاں پکڑیں اور آہستہ آہستہ چلنا شروع کر دیا۔ اب وہ بیساکھیوں کے ساتھ چل پھر سکتا اور اپنے مویشیوں کی دیکھ بحال کرسکتا ہے۔

زخمی ہونے والے فلسطینی عبیدۃ نے کہا کہ الحواجری اس کا دوست ہے اور اسے اپنے دوست کے زخمی ہونے پر گہرا صدمہ ہے۔ عبیدہ کا کہنا تھا کہ ہم ایک ساتھ فٹ بال کھیلتے تھے۔ اب وہ ہمیں فٹ بال کھیلتے صرف دیکھ سکتا مگر وہ ہمارے ساتھ کھیل نہیں سکتا۔

جانوروں کی پرورش
محمود الحواجری اپنا زیادہ تر وقت اپنے پالتو جانوروں کے درمیان گذارتا ہے۔ اس کے گھر کے عقب میں ایک قطعہ زمین ہے۔ اس نے اس زمین میں جانوروں کےلیے دڑبے بنا رکھے ہیں جن میں مرغیاں، شہد کی مکھیاں، تین کتے اور متعدد دیگر جانور پال رکھے ہیں۔

محمود نے اپنے چھوٹے سے فارم کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم شہد کی مکھیوں کے لیے چھتوں کی تیاری میں خاص اہتمام اور محنت کرتے ہیں۔ اس کے اندر ایک شمع رکھی جاتی ہے اور اسے تختیوں کی شکل میں تیار کیا جاتا ہے۔ اس نے بتایا کہ میرے اہل خانہ گذشتہ 10 سال سے شہد کی مکھیوں کو اپنے گھر میں پالتے ہیں مگر موجودہ موسم پھلوں کی کمیابی کی وجہ سے موزوں نہیں ہے۔

اس کے گھر کے عقب میں موجود قطعہ اراضی میں جانوروں کے لیے چارہ اگایا جاتا ہے۔ الحواجری کا کہنا ہے کہ مجھے جانور پالنے کا بہت شوق ہے اور میں نے تین کتے بھی پال رکھے ہیں۔ میں کبھی شہد کی مکھیوں کے چھتے کے پاس ہوتا ہوں اور کبھی دوسرے پالتو جانوروں کے پاس ہوتا ہوں۔ایک دوسرے سوال کے جواب میں الحواجری نے کہا کہ اس کے بعد بعض نایاب نسل کے جانور ہیں۔ اس کی معذوری جانوروں کی نگہداشت کے مشغلے کو ختم نہیں کرسکتی۔بشکریہ مرکز اطلاعات فلسطین

یہ بھی دیکھیں

نیوزی لینڈ سانحہ پر ایک نظر

(تحریر: جاوید عباس رضوی) گذشتہ دنوں نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں دو مساجد ...