جمعرات , 23 مئی 2019

آئی ایم ایف سے معاہدہ رحمت یا زحمت؟

(عارف بہار) 

وزیراعظم عمران خان نے دوبئی میں آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹین لیگارڈ سے ملاقات کی ہے۔ ملاقات میں عمران خان نے انہیں پاکستان میں معاشی اصلاحات کے ایجنڈے پر بریفنگ دی اور کرسٹین لیگارڈ نے پاکستان کی معاشی مشکلات کو کم کرنے کی بھرپور یقین دہانی کرائی۔ صاف دکھائی دے رہا تھا کہ بیل آؤٹ پیکج کے حوالے سے کئی ماہ کے مذاکرات کے بعد آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان اتفاق ہوگیا ہے۔ وزیر خزانہ اسد عمر نے آخرکار اس بات کی تصدیق کر دی کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ انہوں نے یہ تاثر بھی دیا کہ اس عرصے میں آئی ایم ایف نے پاکستان کے مؤقف اور اعتراض کو سمجھ لیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں پاکستان کی شرائط کو تسلیم کر لیا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ شرائط صرف دینے والے اور اوپر والے ہاتھ کی ہوتی ہیں نیچے والا ہاتھ تو حالات سے مجبور ہوتا ہے اور مجبور ی کی کوئی شرط نہیں ہوتی اور اگر ہو بھی تو اس کی پرکاہ برابر اہمیت نہیں ہوتی۔ اس کھینچاتانی میں شرائط تو آئی ایم یف کی ہی تھیں اور حکومت ان شرائط کو نرم کرانے کیلئے کوشاں رہی۔ حکومتی نمائندوں کی طرف سے یہ کہا جا رہا تھا کہ آئی ایم ایف سے قرض لینا کوئی مسئلہ نہیں بلکہ اصل مسئلہ آئی ایم ایف کی شرائط ہیں۔ ظاہر ہے کہ آئی ایم ایف کی شرائط اس قدر کڑی تھیں جن پر عمل کرنے سے حکومت کی عوامی ساکھ کو بری طرح نقصان پہنچ سکتا تھا۔ پاکستان کی ماضی میں ریت رسم تو یہ تھی کہ قرض کی ایک اور قسط سے ماضی کے قرض کی قسطیں ادا کی جاتی تھیں۔ اس طرح ملک قرض درقرض کے گھن چکر کا شکار تھا۔ حد تو یہ کہ اب ہر بچہ مقروض پیدا ہوتا تھا۔

گویا کہ معصوم نسلوں کو بھی ناکردہ جرم کی سزا مل رہی تھی۔ قرض کے پیسوں سے بڑے بڑے پروجیکٹس لگ رہے تھے، عیاشیاں اور اللے تللے جاری تھے۔ غیرترقیاتی اخراجات کے نام پر جاری عیاشیاں اسی قرض سے چل رہی تھیں۔ آئی ایم ایف بھی قرض کی مے سے ہماری ان حرکتوں سے تنگ آچکا تھا۔ رہی سہی کسر سی پیک کے منصوبے نے پوری کر دی تھی۔ مغربی ممالک کی آنکھوں میں یہ منصوبہ خار کی طرح کھٹک رہا ہے اور اس منصوبے کی وجہ سے مغربی ملکوں کا رویہ سخت سے سخت تر ہو رہا تھا چونکہ عالمی مالیاتی ادارے مغربی ممالک بالخصوص امریکہ کے زیراثر ہیں اس لئے یہ ادارے کچھ اور نازنخرے دکھانے لگے تھے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس معاملے پر یہ کہہ کر مداخلت ضروری سمجھی تھی کہ آئی ایم ایف چینی قرضوں کی ادائیگی کیلئے پاکستان کو قرض نہ دے۔ رخصت ہونے والی حکومت کو اس معاشی مشکل کا بخوبی اندازہ تھا اسی لئے جب بیتے کل کی حکومت اپوزیشن بنی تو اسے یقین تھا کہ عمران خان کی حکومت چند ماہ میں ہی اس معاشی دلدل میں دھنس کر رہ جائے گی اور یوں اس کے متبادل آپشنز پر غور شروع ہو جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت ابتدا میں ہی ڈولتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔ حکومت نے آئی ایم ایف کی کڑی شرائط سے بچنے اور اپنی سودے بازی کی پوزیشن کو مضبوط بنانے کیلئے دوست ملکوں سے قرض لینے کی حکمت عملی اختیار کی۔

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین سمیت دوست ملکوں نے اس مشکل سے نکلنے میں پاکستان کی مدد کی۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ حکومت منی بجٹ اور اس سے پہلے مہنگائی کا ایک بم عوام کے سر پر پھوڑ چکی ہے۔ اپوزیشن بھی الزام عائد کر رہی ہے کہ حکومت پہلے ہی آئی ایم ایف کی شرائط پوری کر چکی ہے اب معاہدہ محض رسمی کارروائی ہے۔ آئی ایم ایف کے قرض کی اس قسط کا تعلق اگلے مالی سال 2019,20 سے ہے۔ رواں مالی سال کیلئے حکومت منی بجٹ پیش کر چکی ہے اور اسی طرح آئی ایم ایف کی شرائط کے فوائد اور نقصانات کی جھلک اگلے مالی سال کے بجٹ میں دکھائی دے گی۔ گویا کہ مہنگائی کا ایک اور جن مئی جون میں عوام کو دبوچنے کو تیار بیٹھا ہے۔ آئی ایم ایف کی اس قسط سے قومی معیشت کو ایک اور نشہ آور انجکشن لگ جائے گا۔ وقتی طور پر جاں بہ لب مریض کو اس سے قرار بھی آجائے گا مگر مرض اپنی جگہ موجود رہے گا۔ حکومت تیقن کیساتھ باربار اسے آخری بیل آؤٹ پیکج قرار دے رہی ہے مگر اس دعوے اور عملی حقیقت میں صدیوں کا فاصلہ ہے۔

برآمد ات بڑھائے اور درآمدات کم کئے بغیر اور ٹیکس دہندگان کا دائرہ وسیع کئے بغیر یہ دعویٰ عملی شکل میں ڈھلتا نظر نہیں آتا۔ جن لوگوں کو ٹیکس چوری کرنے کی لت پڑ چکی ہے ایسا کونسا انقلاب آگیا کہ وہ رضاکارانہ طور پر ٹیکس دینے پر آمادہ ہوں گے؟ اس لئے بہت سے دعوؤں کی طرح حکومت کا اس قسط کو آخری قرار دینے میں حکومت جلدی کر رہی ہے۔ وسائل دستیاب ہونے کے بعد حکومت کس طرح منصوبہ بندی کرکے معاشی بحران کو کم کرتی ہے یہ اصل سوال ہے۔ قرض کی متوقع قسط کے بعد حکومت کا اصل امتحان شروع ہونے جا رہا ہے۔ ماضی کے طور طریقے چھوڑ کر سادگی اور کفایت شعاری اپناتے ہوئے حکومت کچھ مختلف کر سکتی ہے۔ حکومت جو بھی کرے اسے عوام کی مہنگائی سے جھکی ہوئی کمر کو مزید جھکانے سے گریز کرنا چاہئے۔ کسی حکومت کی معاشی پالیسی کی کامیابی اور ناکامی کا معیار یہی ہے کہ اس کے اثرات عوام پر مثبت یا منفی کس انداز سے مرتب ہوتے ہیں۔بشکریہ مشرق نیوز

یہ بھی دیکھیں

’پاکستان میں بجٹ خسارہ نہیں، اعتماد کا خسارہ ہے’

(راجہ کامران) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت نے گزشتہ 10 ماہ کے …