پیر , 25 مارچ 2019

باپ بڑا نہ بھیا سب سے بڑا روپیہ

(تحریر: سید اسد عباس)

کیسا سچ محاورہ ہے، انسان اس حد تک مال کا پجاری ہو جاتا ہے کہ ہر اخلاقی قدر، ہر مذہبی تعلیم اور اصول و ضابطہ کو بھول جاتا ہے۔ اس کا فقط ایک ہی ضابطہ رہ جاتا ہے کہ روپیہ جیسے تیسے ہو کمایا جائے۔ عربی میں اس عبارت کو قدرے مختلف مفہوم کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ رسالت مآب کا فرمان ہے کہ غربت انسان کو کفر کی جانب لے جاتی ہے۔ مطلب یہاں بھی وہی ہے کہ انسان، انسانیت کو فراموش کر دیتا ہے اور پیسے کے پیچھے دوڑنے لگتا ہے۔ افراد کے ساتھ ساتھ اقوام بھی افلاس کا شکار ہوتی ہیں۔ پھر شکم کا افلاس انسانیت کے افلاس میں بدل جاتا ہے۔ دولت کی بہتات بھی اکثر انسانوں کو اخلاقی طور پر مفلس بنا دیتی ہے۔ اس کی نظر میں انسانیت کوئی معنی نہیں رکھتی۔ ان کا سب کچھ مال اور اقتدار ہی ہوتا ہے۔ دونوں میں نبھتی بھی خوب ہے۔ خوب لطف لے لے کر انسان اور انسانیت کا مذاق اڑاتے ہیں۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ اب یہ اخلاق سے عاری لوگ حیلوں بہانوں کی تلاش میں ہوتے ہیں، تاکہ اپنی اخلاق باختگی کو خوبصورت سا نام دیں اور اسے جاری رکھ سکیں۔

گذشتہ دنوں عالم تخیل میں میری ملاقات قائداعظم محمد علی جناح سے ہوگئی۔ بابائے قوم کو سلام کیا تو انھوں نے میرے اردو لہجے کو پہچانتے ہوئے منہ موڑ لیا۔ وہ انتہائی نحیف، پژمردہ اور بے چین نظر آرہے تھے۔ میں اس بے رخی کو سمجھ نہ پایا، ایک مرتبہ پھر سلام عرض کیا، تو بولے Gentleman are you Pakistani Citizen۔ میں نے ہاں میں سر ہلایا تو ایک مرتبہ پھر قائداعظم نے اپنا رخ مجھ سے موڑ لیا، جیسے مجھ سے نظریں چرا رہے ہوں۔ عالم تخیل میں بہت سے سیاسی قائدین موجود تھے، ابراھام لنکن، ماؤزے تنگ، گاندھی، نیلسن مینڈیلا، امام خمینی وہ شخصیات ہیں، جن کو میں پہچان سکا۔ ہماری اس گفتگو کو سبھی قائدین بغور مشاہدہ کر رہے تھے۔ قائداعظم نہیں چاہتے تھے کہ ہماری گفتگو مزید طول کھینچے، انھوں نے مجھے انگلی سے اشارہ کیا کہ خاموش ہو جاؤ۔

پھر مجھے ایک جانب لے گئے۔ میں نے بابائے قوم سے پہلا سوال کیا کہ کیا آپ اپنے وطن کے باسیوں سے نالاں ہیں۔؟؟ قائد اعظم محمد علی جناح تو جیسے پھٹ پڑے۔ کہنے لگے کیا ہم نے پاکستان اس لیے بنایا تھا۔؟؟ کیا اس وطن کے لیے لاکھوں جانوں کی قربانی اس لیے پیش کی گئی تھی کہ یہ ریاست اخلاقیات کا دامن ہاتھوں سے چھوڑ دے۔؟؟ اصول و ضابطہ پس پشت ڈال دیا جائے۔؟؟ مجھے قائد اعظم محمد علی جناح کا کوئی بھی سوال سمجھ نہیں آرہا تھا۔ میں نے ان سے پوچھا کہ میرے عظیم قائد ایسا کیا گناہ کیا ہے ہم نے ،جس سے آپ ہم سے اس قدر نالاں ہیں۔؟؟ قائداعظم قدرے غصے سے دیکھتے ہوئے بولے، کبھی میری تقاریر کو پڑھا ہے۔؟؟ تحریک پاکستان کے میرے بیانات پر کبھی غور کیا ہے کہ میں پاکستان کو کیسی ریاست بنانا چاہتا تھا۔؟؟

میں نے نہایت ادب سے کہا کہ بابا آپ ایک اسلامی فلاحی ریاست کا خواب دیکھتے تھے، جو اسلامی اصولوں اور قوانین کی تجربہ گاہ ہو، جہاں شہریوں کو مساوی حقوق حاصل ہوں۔ ریاست ہر شہری کے حقوق کی محافظ ہو، تاہم اس کا اپنے باسیوں کے عقیدہ سے کوئی سروکار نہ ہو۔ ہر شہری اپنی عبادتگاہوں میں جانے کے لیے آزاد ہو۔ پھر قائد نے فرمایا اور کیا جانتے ہو میرے بارے میں۔ میں نہایت احترام سے بولا، بابا ہم تک آپ کی باتیں پہنچی ہی بہت کم ہیں، بس کہیں کہیں آپ کے بیانات سے واسطہ پڑتا ہے، ہاں آپ کے مشرق وسطیٰ کے بارے میں بیانات دیکھے۔ آپ امریکہ اور برطانیہ کو للکارتے تھے کہ صہیونیوں کی پشت پناہی چھوڑ دو، پھر ہم دیکھتے ہیں کہ تم کیسے ایک یہودی ریاست قائم کرتے ہو۔ بابا میں نے یہ بھی پڑھا ہے کہ آپ کو اسرائیل کے پہلے صدر نے ٹیلی گرام بھیجا تھا کہ ہم پاکستان سے اچھے روابط چاہتے ہیں، جس کے جواب میں آپ نے لکھا تھا کہ دنیا کا ہر مسلمان مرد و زن اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرنے پر موت کو ترجیح دے گا۔

قائد اعظم نے قدرے گھور کر مجھے دیکھا اور پھر بولے اور کیا جانتے ہو میرے بارے میں۔؟؟ میں نے کہا کہ آپ ایک اصول پسند شخصیت تھے اور اپنے وطن کو اقوام عالم میں ایک باوقار ریاست کے طور پر دیکھنا چاہتے تھے، جو مظلوم کی حامی اور ظالم کے خلاف ہو۔ قائد اعظم کا منہ غصے سے لال ہوگیا۔ میں نے ان سے قدرے ڈرتے ہوئے پوچھا کہ کیا مجھے آپ کو سمجھنے میں کوئی غلطی ہوگئی ہے، کہنے لگے جب میرے بارے میں یہ سب کچھ جانتے ہو تو پھر مجھ سے کیوں سوال کرتے ہو کہ میں پاکستانیوں سے کیوں نالاں ہوں، کیوں دنیا کے دیگر قائدین سے نظریں چھپاتا پھرتا ہوں۔ ستر برس سے زیادہ کا عرصہ بیت گیا، لاکھوں انسانی جانوں کی قربانی، ناموس کی بے حرمتی، املاک کی بربادی کے بعد حاصل کیا جانے والا وطن ایک روز کے لیے بھی اس ڈگر پر نہیں چلا، جس پر میں اور میرے ساتھی اسے چلانا چاہتے تھے۔

ابھی میں وہیں کھڑا تھا کہ مولانا محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی بھی تشریف لے آئے۔ میرے لباس کو دیکھ کر انھیں فوراً اندازہ ہوگیا کہ یہ اسی دیس کا باسی ہے، جس کے لیے ہم نے اپنی جوانیاں زندانوں میں گزاریں۔ مولانا محمد علی جوہر نے نہایت نفرت بھرے انداز میں مجھے کہا کہ تمہیں معلوم ہے کہ موتمر عالم اسلامی کس نے بنائی تھی۔ میں نے کہا کہ جی جانتا ہوں، آپ دونوں برادران اور سید سلمان ندوی نیز دیگر مسلم راہنماؤں کی کاوشوں کے سبب ایک ادارہ قائم ہوا، تاکہ حجاز مقدس کے امور کو سب مسلمان مل جل کر سنبھالیں۔ مولانا بولے کیا تم یہ بھی جانتے ہو کہ ہمیں یہ ادارہ بنانے پر کیا جواب ملا تھا۔ میں بولا جی معلوم ہے، آپ کو حجاز پر قبضے کرنے کی منصوبہ بندی کا طعنہ دیا گیا اور آپ نے جواباً لکھا تھا کہ اگر یہاں حرمین شریفین نہ ہوتے تو اس صحرا میں اونٹوں کے فضلے کے سوا کیا ہے۔؟ میں نے ان سب قائدین سے کہا کہ آپ لوگ میرے لیے محترم ہیں، آپ کو پوری پاکستانی قوم عزت اور قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے، تاہم آپ ایک چیز کو فراموش کر رہے ہیں اور وہ یہ کہ اتنے بڑے خطہ زمین کے امور کو وسائل کے بغیر بھلا کیسے چلایا جاسکتا تھا۔

ہمیں اپنے امور کو چلانے کے لیے بیرون ملک سے وسائل جمع کرنا پڑے اور یوں ہماری حکومتیں قرض کے بوجھ تلے دبدتی چلی گئیں، پھر وہ ہوا، جس نے آپ کو آج اس قدر نالاں کیا ہوا ہے۔ اس بات پر تینوں بزرگوں کا غصہ دیدنی تھا، بولے کیا تم 1947ء کے پاکستان سے بھی زیادہ غریب اور مجبور ہو۔ اگر اس بے سروسامانی کے عالم میں ہم اپنے قدموں پر کھڑے ہوسکتے تھے اور ریاست کے امور کو چلا سکتے تھے تو آج کیا آفت آن پڑی ہے۔ اپنے لالچ، مفادات، اقرباء پروری، کاہلی کو مجبوری کا نام نہ دو۔ چین اور ایران تمہارے سامنے ہیں، فقط تیس برسوں میں چین دنیا کی سپر پاور بن گیا، ایران پابندیوں کے باوجود اپنے قدموں پر کھڑا ہے۔ بس پھر اچانک ان قائدین نے مجھے چلے جانے کو کہا، میں ان سے مزید بات کرنا چاہتا تھا، لیکن وہ نہیں چاہتے تھے کہ مجھ پر ایک لمحہ بھی ضائع کریں۔ ان بزرگوں کے محضر سے نکلا تو حکیم الامت کو پھر تخیل میں ڈوبا ہوا پایا، ادب سے ان کے سامنے جا کھڑا ہوا۔ اقبال نے مجھے بغور دیکھا، جیسے میرے اور اکابر پاکستان کے مابین ہونے والے مکالمے سے آگاہ ہوں، ایک ٹھنڈی آہ بھری اور بولے:
نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

یہ بھی دیکھیں

نیوزی لینڈ سانحہ پر ایک نظر

(تحریر: جاوید عباس رضوی) گذشتہ دنوں نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں دو مساجد ...